نکتہ داں-۴۹
۲۷ جولائی ۲۰۲۴
“دو حافظوں کی جوڑی”
امریکہ اور پاکستان کے وقت میں کہیں ۹ کہیں ۱۰ گھنٹوں کا فرق ہے۔ یہ بات کئی پیارے دوست بھول جاتے ہیں ۔
ایسے ہی عزیز نے رات کے ۳ بجے مجھے فون کرکے بیدار کردیا۔
وہ قدرے غصے، قدرے تجسس اور قدرے حیرانی سے میرے حالیہ آرٹیکل کی اصل وجہ دریافت کر رہے تھے۔
کہنے لگے پہیلیاں بہت بھجواتے ہو۔ سیدھی بات کیوں نہیں کرتے۔
میں نے انھیں کہا، بھلے لوکو، تسی میں نوں اے دسو، کہ پاکستان وچ ، کجھ” خاص” صحافی ، ایمر جینسی دی گلاں نئیں کر رہے ؟
بولے میں تم سے اردو میں بات کر رہا ہوں،
پنجابی میری مادری زبان ہے ، پنجابی بولنے میں تم مجھ سے نہیں جیت سکتے
میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا ،کہ جناب تو سنیں !
آپ مجھے یہ بتائیں کہ پچھلی دہائیوں میں، پاکستانی قوم، امریکہ اور روس کی جنگ میں ڈالروں کے عوض چارہ بنتی رہی ہے کہ نہیں ؟
بولے ہاں یہ تو بات درست ہے ۔
میں نے کہا اب ، امریکہ اور چین، دنیا کے معاشی اور سیاسی حالات اپنی اپنی گرفت میں رکھنے کیلئے، پاکستان کو پھر چارہ بنانا چاہتے ہیں-
یہی بات میں سمجھانا چاہ رہا ہوں
کچھ روز پہلے ہی امریکی انتظامیہ نے اپنی سینیٹ سے ۱۱۰ ملین ڈالر پاکستان کی امداد کیلئے ( جو انکے مطابق پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے درکار ہیں )طلب کئے ہیں
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-headline/
HeadLineRoznama/826081_1
کہا ہاں یہ خبر میری نظروں سے بھی گزری تھی
اس پر میں بولا، کہ جناب جب حکومت وقت اچھی یا بری، بہرحال چل رہی ہے تو ایمرجینسی کیسے نافذ کی جاسکتی ہے۔ ایمرجینسی نافذ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں امن امان کی صورتحال خراب ہو۔
تو ملک میں ایمرجینسی نافذ کرنے کیلئے ایک حافظ کو امن اور امان کی صورتحال خراب کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور یہ کام جماعت اسلامی کے دوسرے حافظ ، حافظ نعیم الرحمٰن کرنے کیلئے کمر بستہ نظر آتے ہیں
اور جماعت کا کارکن ، جو نہایت شریف، سادہ، پاکستان سے محبت کرنے والا اور اسلامی نظام کا شیدائی ، پچھلی کئی دہائیوں کی طرح ، اب دوبارہ جوش جذبے اور مر مٹنے کے عزم سے، چارہ بننے جا رہا ہے۔
اگر یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آتی تو میں کیا کرسکتا ہوں
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ اللّٰہ
خالد قاضی