NUKTADAAN

Reading: ‏۵۰۔ دانشمندی کا تقاضہ
Reading: ‏۵۰۔ دانشمندی کا تقاضہ

‏۵۰۔ دانشمندی کا تقاضہ

admin
6 Min Read

نکتہ داں۔ ۵۰

۲۹ جولائی ۲۰۲۴

دانشمندی کا تقاضہ

پاکستان کے لئے بھلا سوچنے والے سب  لوگ، یہ حقیقت سمجھتے ہیں کہ ملک کا اس وقت، سب سے بڑا مسئلہ، معاشی عدم استحکام ہے اور معاشی استحکام کی منزل پر ،اس وقت تک نہیں پہنچا جاسکتا جب تک سیاسی استحکام کی شاہراہ پر سفر نہ شروع کیا جائے ۔

اس سوچ کے برخلاف  ملکی اقتدار کے اصل مالک، اپنی مدت ملازمت میں توسیع سے آگے نہیں سونچتے۔

اسی لئے، مختلف ذرائع سے یہ خبر پھیلائی گئی کہ موجودہ حکومت کی عمر محض ڈیڑھ سال ہے اور اس کے بعد، ٹیکنوکریٹ گورنمنٹ تشکیل دی جا ئے گی (تاکہ اس سے میعاد میں توسیع کروائی جائے) ۔ اب چونکہ آئین میں، ٹیکنوکریٹ گورنمنٹ لانے کا کوئی طریقہ نہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ،  ملک میں بد امنی ہو ۔ مارشل لا اور یا ایمرجینسی نافذ کرنے کا بہانہ  تب ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اب ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آرہا ۔

اس ہدف کو حاصل کرنے کی ابتدا، بنوں سے شروع  کی گئی اور ایک پرامن جلسے میں فائرنگ کرکے عوام میں احتجاج کی کال دی گئی۔ لیکن ، وزیر اعلٰی علی امین گنڈا پور نے نہایت دانشمندی سے اس معاملے کو سنبھالا اور پہلا کام ،  اسکی عدالتی انکوائری کروا نے کا عمل شروع کروا کر کیا۔ دوسرا کام عوام کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے، انھوں نے بیان دیا کہ آئندہ دہشت گردی کی کاروائیوں کا تدارک اور اس کے خلاف کاروائیاں فوج کو نہیں کرنے دیں گے بلکہ ایسی کاروائیاں صوبائی حکومت اپنی نگرانی میں پولیس سے کروائے گی اور خیبر پختون خوا میں عوامی مطالبہ بھی یہی ہے کہ فوج کو اس عمل سے الگ رکھا جائے۔

بد امنی پھیلانے کی دوسری کوشش جماعت اسلامی کے دھرنے کے اعلان سے ہوئی۔ گو جماعت اسلامی کے مطالبات عوام کے دل کی آواز تھے، لیکن عوام کا جماعت اسلامی پر اعتماد صفر ہے ۔ اسی لئے جماعت کا یہ دھرنا، میڈیا پر (فوجی حکم پر) بہت بڑی کوریج ملنے کے باوجود ناکام رہا ہے۔ اور اس دھرنے میں عوامی شرکت کہیں نظر نہیں آئی حالانکہ امیر جماعت، حافظ نعیم الرحمٰن نے اپنی تقریروں میں سب کو ، دہائیاں دے دے کر شامل ہونے کو کہا۔

اخباری اطلاع کے مطابق حافظ صاحب اپنی تقریروں میں کہتے رہے کہ :

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ میں وکلا سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں، جو ہر تحریک میں ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں، علمائے کرام سے بھی کہتا ہوں جن کی یہ دینی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو مظالم کے خلاف مزاحمت سے آگاہ کریں، سول سوسائٹی، تاجروں، صنعتکاروں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ سب اس تحریک کا حصہ بن جائیں ۔

لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہو پایا،اور اس دھرنے کی وجہ سے جماعت نے اپنے کارکنوں کو بھی مشکل میں ڈالدیا۔

اسی لئے وہ دھرنا (کہ جسکے متعلق حافظ صاحب مہینوں چلنے کا دعویٰ کر رہے تھے)، حکومت کے مذاکرات کی پیشکش فوری قبول کرکے ، اپنے گرفتار کارکنوں کو بازیاب کر والیا

اس وقت پاکستان میں سیاسی استحکام کی کنجی عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، سیاستدانوں سے مذاکرات کیلئے آمادہ ہو جائیں تو حالات نہ صرف ملک کیلئے لیکن عمران خان کیلئے بھی بدل سکتے ہیں۔ اس وقت ن لیگی حکومت اور عمران خان کی جنگ نے، ملک کو ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا ہے۔ ایسی صورتحال کا فائدہ نہ عوام کو، نہ حکومت کو اور نہ ہی عمران خان کو ہورہا ہے۔ اس کا فائدہ صرف مقتدرہ کو ہے۔ وہ انارکی پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ کوئی غیر آئینی اقدام کرنے کی توجیہہ مل سکے۔ عمران خان کے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ، اس وقت کوئی دنیا ختم ہونے نہیں جارہی۔ وقت باقی ہے اور آئندہ انتخابات عمران خان کو اقتدار میں لا سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں بشمول تحریک انصاف مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر، مشترکہ طور پر وہ تمام آئینی تبدیلیاں کریں جس میں عبوری حکومت کے نظام کا خاتمہ، فارم ۴۵ کے مطابق انتخابی نتائج کو جاری کرنا ، آرمی چیف کا انتخاب ، سنیارٹی پر ہونا، مدت ملازمت میں توسیع پر آئینی پابندی اور فوج اور ISI کے اداروں کو الگ کرنے کے قوانین شامل ہوں۔ یہ سب کچھ ممکن ہے اگر سیاسی جماعتیں متحد ہوں۔

کیا 58 -2 B ، فوج ختم کرنا چاہتی تھی؟ کیا پرویز مشرف کو صدارتی محل سے نکلوانا فوج کو گوارا تھا، کیا اٹھارویں ترمیم فوج کے سینے میں خنجر نہیں ہے، لیکن یہ سب ہو چکا ہے اور آئندہ بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کیلئے دانشمندی درکار ہے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے