نکتہ داں۔۵۱
۳۰ جولائی ۲۰۲۴
میرے محترم دوست نے مجھ سے فرمائش کی، کہ یار، پاکستان میں ، جو آجکل سب سے اہم مسئلہ ہے، اس پر تم نے کوئی کالم نویسی نہیں کی، اس کی کیا وجہ ہے
میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کس مسئلے کی بات کر رہے ہیں
ان کا فرمانا تھا، کہ تقریباً پورا پاکستان جس مسئلے سے بلبلا رہا ہے وہ تم مجھ سے پوچھ رہے ہو۔ تم کافی نکمے نکتہ داں ہو۔
میں نے کہا کہ جو شکوہ تم مجھ سے کیا کرتے ہو، وہی مجھے تم سے ہے، کہ پہیلیاں مت بھجواؤ۔ بات بتاؤ
کہنے لگے ، حضرت بجلی کے بلوں نے گھروں میں کہرام مچایا ہوا ہے اور آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا مسئلہ ہے۔
میں نے انکی توجیہ کے آگے، سر خم کر دیا ۔ اور کہا کہ انشااللہ اس موضوع پر بھی ضرور لکھوں گا
بجلی کے زیادہ بلوں کی کئی وجوہات ہیں لیکن ان میں سب سے اہم وجوہات دو ہیں
۱- بجلی کی چوری اور بجلی کے بلوں کی بہت کم وصولیابی
۲- بجلی کی پیداوار میں سرمایہ کاری کر کے بجلی کے پلانٹ لگانے والی IPP کمپنیاں ، کہ جنکی شرائط میں، یہ شرط بھی شامل ہے کہ وہ اپنی پوری استعداد کے مطابق، بجلی پیدا کریں گی اور حکومت کو پابند کیا کہ اگر پوری استعداد کے مطابق بجلی نہ خریدی گئی تو حکومت کو کیپیسٹی چارج کی مد میں رقم ادا کرنی پڑے گی۔
ہماری گزشتہ حکومتوں میں خرابی یہ رہی ہے کہ ، چاہے غیر ملکی قرض ہو، بیرونی سرمایہ کاری ہو یا دیگر غیر ملکی معاہدے ۔ انکی منظوری قومی اسمبلی سے نہیں لی جاتی۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ معاہدوں کی شرائط کو منظر عام پر لاکر، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس پر بحث کروا کر، پھر دستخط کئے جائیں ۔ اس سے معاہدوں کے تمام نقاط زیر بحث آئیں گے اور ان کی خامیاں دور کردی جائیں گی۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں بلکہ بیوروکریسی پر تکیہ کرکے، خاموشی سے معاہدے کئے جاتے رہے ہیں
پھر افسوس اس بات کا ہے کہ مشکل آنے پر، کوئی لائحۂ عمل بنانے کے بجائے، پوائنٹ اسکورنگ اور افسانے گھڑ گھڑ کر الزام تراشی کی جاتی ہے۔ ہماری قوم کو پروفیشنلزم چھو کر بھی نہیں گزرا اور سوشل میڈیا تو اخترا سازی اور افواہ بازی کی فیکٹری ہے جو ہر وقت تواتر سے جھوٹ پھیلاتی رہتی ہیں
آجکل سوشل میڈیا پر گرم جلیبیاں ، اس بات کی بٹ رہی ہیں کہ تمام IPP سیاستدانوں کی ہیں اور خاص کر کے، شریف برادران اور زرداری پر الزام لگایا جارہا ہے۔
میں نے اس متعلق کچھ تحقیق کی ابتدا کی۔
میری تحقیق کے مطابق دنیا کے درجنوں ملکوں نے IPP میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ان ممالک میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، جاپان ، چائنا ، کوریا، خلیجی ممالک جن میں سعودی عرب، قطر اور عرب امارات شامل ہیں اور ترکی کی کمپنی بھی شامل ہے۔
لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان تقریباً تمام ممالک نے پاکستانی کمپنیوں سے مشترکہ حصہ داری کرکے سرمایہ کاری کی ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں میں ملک کے تقریباَ تمام بڑے صنعتی اور تجارتی گروپ حصہ دار ہیں۔سیاستدان نہیں ہیں
سرمایہ کاری میں ان تمام ممالک کا، سرمایہ کاری میں حصہ ، پاکستانی سرمایہ کاروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
اب اس معاملے سے کیسے نمٹا جائے، یہ ایک مشکل کام ضرور ہے لیکن میرے خیال میں حل کیا جاسکتا ہے
ظاہری بات ہے، اس میں کارپوریٹ سیکٹر کو ڈیل کرنے اور بینالاقوامی معاہدوں کے ماہر وکلا سے مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ معاہدے قیامت تک تو نہیں ہوا کرتے۔ انکی کوئی مدت تو مقرر ہوگی اور معاہدے کے دوران ، معاہدہ ختم کرنے کے نکات بھی شامل ہونے چاہئیں
کوئی قانون بنا کر ، IPP کی مینٹینینس کو محدود کیا جائے ۔ اس طرح انکی پیداواری استعداد کم ہوگی اور capacity چاجز بھی کم ہوتی جائیں گی
اسکے علاوہ IPPs کی کیپیسٹی آڈٹ، فیول آڈٹ کا ایک مستقل نظام وضع کیا جانا چاہئے۔
مندرجہ ذیل معلومات، میری تحقیق میں مدد گار ہوئیں
Foreign IPPs in partnership with local businessmen
Foreign Investors (Sponsors) Local Investors (Sponsors)
International Power (UK) Nishat Group
Congen Technology Sapphire Textile Limited
El Paso (USA) Attock Refinery Limited
Tenaska (USA) Engro Chemical
Mitsui (Japan) Shirazi Investment
Xenel (KSA) Fauji Foundation
TNB – (Malaysia) Saif Group
AES Corporation Liberty Mills
ADB Descon Group
IFC Gul Ahmed
Oman Oil Tapal
DEG Germany saigols
GE Capital HUBCO
GDF Suez (France) Lucky Group
KOSEP, Korea Siddiqsons Ltd.
K-Water, Korea
CMEC, China
Shanghai Electric Group, China
Power Construction Corporation, China
China Power International Holding Co, China
China Gezhouba Group, China
China Three Gorges, China
میں سوچتا ہوں کہ ہماری قوم کبھی سطحیت سے ابھر کر، کوئی دانش مندی کی بات کرنے کا ذوق بھی حاصل کر پائے گی یا صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، ایک دوسرے کی ہتک اور جملے بازی کو ہی اپنا شعار بنائے رہیں گے ؟
خالد قاضی