نکتہ داں – ۵۲
۳۰ جولائی۲۰۲۴
ملنگ کی بھڑک
پاکستان میں پیشہ ور بھکاریوں کی بھی، ایک پوری صنعت ہے اور اس میں شامل کارندے ، بڑی بڑی پہنچ والوں کی ایما اور آشیرباد پر، ملک کے مختلف شہروں اور شہروں کے کاروباری، تفریحی اور مذہبی مقامات پر، پوری اجارہ داری کے ساتھ، بھیک مانگنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ پہلے وقتوں میں دیہاتوں اور پسمانندہ علاقوں سے لوگ نوکری ڈھونڈنے کیلئے شہروں کا رخ کیا کرتے تھے۔ اب شہروں کا رخ کرنے والے لوگوں میں ایک بڑا حصہ پیشہ ور بھکاریوں کا ہے۔ یہ پیشہ اب صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا، بلکہ بیرون ملک خاص کر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تک پھیل چکا ہے۔
بھکاریوں کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں اور سب سے عجیب قسم ملنگ نما بھکاریوں کی ہے۔
عام بھکاری تو، التجا، دعا یا دکھڑا سنا کر پیسے مانگتا ہے لیکن ملنگ بھکاری ، بھیک اپنا استحقاق بتا کر وصول کرتا ہے۔ اس کی آواز میں ایک تحکم ہوتا ہے ۔ وہ ایسے مانگتا ہے کہ جیسے دھمکی دے رہا ہو، کہ “ کچھ دیگا تو تیرا بیڑا پار وگرنہ تیرا بیڑا غرق ”
مجھ جیسا کمزور دل شخص ایسی دھمکی آمیز للکار سن کے ڈر کے مارے ہی پیسے دے کر جان چھڑانے کو بہتر سمجھتا ہے۔
ہمارے ادارے کے سربراہ بھی ملنگ نما لوگ ہیں۔
وہ کسی شخص کو نہیں پوری حکومت کو, حکومتی نظام کو ملنگ بن کر، بڑی شدت سے للکار کر حکماً کہتے ہیں کہ :
“ تین سال کی مدت ملازمت میں توسیع کا سوال ہے بابا۔ توسیع دےگا تو تیرا بیڑا پار ، ورنہ ملک کا بیڑا غرق”
آج کل مجھے یہی صدا سمجھ میں آ رہی ہے۔
میں اس سلسلے کی کڑیوں کو اسی طرح ملاتا ہوں
پہلا پیغام عدلیہ ہی کیلئے تھا کہ اچھے بچوں کی طرح، ہمیشہ کی طرح ، جیسا کہا جائے ویسے حکم صادر کرتے رہا کرو۔ لیکن وہاں بھی اب ان ہی جیسے ملنگوں کا راج لگتا ہے۔ گویا اب ملنگوں کی جنگ چھڑ گئی ہے۔ مشکل یہ پیش آرہی ہے، کہ عدلیہ کی آواز میں آواز ملانے والوں میں ، الیکشن کمیشن اور لوئر جیوڈیشری بھی شامل ہوگئی ہے۔
تو پھر ملنگ عالی مقام کا کیا منصوبہ ہے ۔
منصوبہ تو بتا دیا، کہ موجودہ حکومت کی مدت بس ڈیڑھ سال، اسکے بعد، ٹیکنوکریٹس کی حکومت۔ اور چونکہ ٹیکنوکریٹس بنا پیندے کے برتن ہوا کرتے ہیں، اس لئے توسیع تو ملی ہی ملی۔
لیکن “مصیبت“ آئین آڑے آتا ہے کہ جس کی توقیر اور اہمیت حالیہ دنوں میں عوام الناس کو زیادہ سمجھ میں آگئی ہے۔ وگرنہ ڈیکٹیٹروں کیلئے آئین تو چند کاغذ کے ٹکڑے ہی ہوا کرتا تھا۔ آئین میں ایمرجینسی کا ذکر ضرور ہے، لیکن ایمرجینسی لگانا جرنیل کا نہیں وزیراعظم کے مشورے پر صدر کا استحقاق ہے وہ بھی عدلیہ کی تائید کے بنا ممکن نہیں ۔
تو پھر ؟ اب یہ کہ ایمرجینسی کا سماں تو پیدا کرو پھر دیکھا جائے گا۔
اسی لئے، پہلے کچھ منظور نظر صحافیوں کے ذریعے دھمکی آمیز احکامات سامنے آئے جس میں تاثر یہ کہ ملنگ بابا کے کہے کو قدرت کا فیصلہ سمجھو، تاکہ عوام کو باور کرایا جائے کہ “تسی تے تواڈی حکومت جائے بُھّٹّے بھونن، ہو ناں او ہی اے جیڑا اسی کنواں گے”
لہٰذا ملکی حالات خراب کرنے کی ابتدا ، بنوں سے کی گئی ، مگر وہ کوشش ناکام رہی، پھر “سیاسی سلیپنگ سیل” کو ملک بھر میں دھرنوں کا ٹاسک دیا گیا، وہ بھی عوام کی قبولیت حاصل نہ کر پایا اور ناکام گیا۔ اب تیسری کوشش ایک دوسرے سلیپنگ سیل کے ذریعے چیف جسٹس کو قتل کی دھمکی کی شکل میں آئی۔
اسکے بعد کراچی سے ایک بڑی کاروباری شخصیت کا اغوا بھی ہوا۔ اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ خود کو بقلم خود دنیا کی اعلٰی ترین ، نمبر ون کہنے والی خفیہ ایجنسی اس طرح کے غائب ہونے والے اشخاص کے متعلق کسی کے آگے جوابدہ نہیں ہے۔
اور تازہ کوشش گوادر میں ہنگامے سے شروع ہوئی ہے ، جبکہ کرم میں قبائلی جھگڑا پہلے ہی چل رہا تھا۔
میرا شک اس وجہ سے قوی ہے کہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں احتجاج کے دوران اکثر ہنگاموں اور اس میں ہوئی ہلاکتوں کا ذکر میڈیا میں ملنگی حکم کے ذریعے نہیں آنے دیا جاتا۔ اسکی مثال گزشتہ دنوں میں چمن میں مہینوں سے جاری عوامی احتجاج اور اس میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی کوئی خبر مین میڈیا پر رپورٹ کرنے نہیں دی جاتی۔ عوام کو ایسی خبر یں سوشل میڈیا کے ذریعے ملتی ہیں لیکن کل گوادر کی خبریں تمام چینلوں نے تفصیلا نشر کیں۔
وجہ ؟؟؟ملک کے حالات کے بہت خراب ہونے کی تصویر کشی کی ضرورت کرنا ہے تاکہ ایمرجنسی کا جواز ملے۔
آپ کہہ سکتے ہیں قاضی over sensitive ہورہا ہے۔ تو بھائی ، دودھ کا جلا تو، چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پئے گا ناں
خالد قاضی