نکتہ داں-۵۸
۱۵ اگست ۲۰۲۴
فوج میں تطہیر کا عمل یا ۔۔۔۔بات کچھ اور ہے
یہ بات بڑے شد و مد سے کی جاتی رہی ہے، کہ پاکستانی فوج کے ادارے میں، احتساب کا نظام بہت مضبوط ہے اور اس نظام کے تحت، فوج کے بڑے سے بڑے افسر پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کر سکے۔
اس دعوے کی اصلیت سے ، حقیقت حال جاننے والے تو بخوبی واقف تھے، لیکن عوام الناس پر یہ بات آج ، روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں۔
ٹاپ سٹی کیس ۲۰۱۷ میں ہوا جب، جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف اور جنرل فیض حمید ISI میں DG-C(انسداد دہشت گردی) کے عہدے پر متعین تھے۔ اس گھناؤنے جرم کی تفصیل میڈیا کے طفیل، اب سب جان چکے ہیں لہٰذا اسے دوبارہ دہرائے بغیر ،غور طلب بات یہ ہے، کہ آج ، ISPR جو اعلان کر رہی ہے کہ جنرل فیض حمید کو فوج کی تحویل میں لیکر کاروائی کی جارہی ہے، لیکن، کوئی یہ بھی تو بتائے کہ فوج میں احتساب کرنے کا یہ کیسا نظام تھا کہ مجرم کا پتہ ۷ سال کے طویل عرصے کے بعد چلا،( وہ بھی عدالت عالیہ کے حکم پر) ۔ جبکہ اصل معاملہ یہ ہے فوج نے تو جنرل فیض کی اس مجرمانہ حرکت کے دو سال بعد انھیں نہ صرف ISI کا چیف مقرر کیا بلکہ اسکے بعد انھیں کور کمانڈر پشاور بھی بنا دیا گیا اور زیادہ خطرناک پہلو یہ کہ یہ حضرت آرمی چیف بننے کے بھی متوقع امیدوار تھے۔
اصل صورتحال یہ ہے کہ جنرل فیض نے جرائم اکیلے نہیں کئے ان میں اس وقت کے آرمی چیف جاوید قمر باجوہ انکے شریک جرم تھے، اسی لئے انھوں ہی نے، انھیں نہ صرف ISI چیف بنایا بلکہ کورکمانڈر پشاور کے عہدے پر بھی تعینات کیا۔
ہماری آرمی انٹیلیجنس اس پورے قضیے سے بخوبی واقف تھی لیکن، فوج میں، ایوب کے زمانے سے ایک غیر تحریر شدہ اصول بھی عملاً لاگو ہے ، کہ جرنل کے عہدے پر پہنچ جانے والے کسی بھی افسر پر ، سو خون بھی معاف ہیں، اربوں کی کرپشن بھی اس افسر کی حیثیت کے سامنے ، کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ کیونکہ عوام پر فوج کا دبدبہ اور ٹہکا رکھنے کے لئے اتنا در گزر جرنیلوں کی ضرورت ہے ۔
اسی لئے ہم نے دیکھا، کہ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد انکی ۱۲ ارب روپئے کی کرپشن پر انگلیاں اٹھنے اور انکی سیاسی سرگرمیوں کے اعتراف کا میڈیا پر ذکر چھڑنے کے بعد، پاکستانی قوم کو ایک خاموش پیغام دیا گیا۔ وہ پیغام ایک تصویر کی شکل میں تھا جس میں آرمی کی ایک تقریب میں، موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے پہلو میں( مجرم ) ریٹائرڈ جنرل جاوید قمر باجوہ براجمان تھے۔ یہی نہیں ، بلکہ الیکشن سے پہلے، جنرل فیض حمید کی مالی کرپشن سے متعلق شہباز شریف کی گزشتہ حکومت نے نیب کے ذریعے جو انکوائری شروع کی تھی وہ بھی عبوری حکومت کے دوران ختم کروا دی گئی، کہ نیب کی یہ مجال ہے کہ وہ کسی جنرل کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔
تو پھر ایسا کیا ہوا کہ موجودہ آرمی چیف کو فوج میں لاگو ایک غیر تحریر شدہ اصول کے بر عکس، جنرل فیض کے خلاف ایکشن لینا پڑا ؟
تو جناب اصل مدعیٰ یہ ہے کہ کسی بھی آرمی چیف کے طاقتور ہونے کا انحصار ، اسکی فوج کے تمام کمانڈروں کے اتحاد میں پنہاں ہوتا اور کوئی بھی محب وطن اس اتحاد میں رخنہ ڈالنے کا حامی تو کیا اس متعلق سوچ بھی نہیں سکتا۔
جبکہ جنرل فیض حمید، طاقت کی ہوس اور اقتدار کے لالچ میں،فوج میں اپنے پرانے عہدوں اور تعلقات کو موجودہ چیف اور فوج کی یک جہتی کو سبوتاژ کرنے میں مصروف پائے گئے ہیں ۔
۹ مئی کی دہشتگردی ، ان ہی کا پلان تھا اور عمران خان، اور تحریک انصاف کی لیڈر شپ ان ہی کے جھانسے میں آ آ کر مختلف سیاسی بیوقوفیاں کرتے رہے ہیں۔ورنہ روپئے پیسے کی کرپشن چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، کسی جنرل کو مجرم کے کٹہرے میں لانے کی مجاز، پاکستان جیسے ملک میں بالکل نہیں ہوسکتی
خالد قاضی