NUKTADAAN

Reading: ‏۶۰۔ یہ سب دکھاوا ہے
Reading: ‏۶۰۔ یہ سب دکھاوا ہے

‏۶۰۔ یہ سب دکھاوا ہے

admin
7 Min Read

کتہ داں-۶۰

۱۹ اگست ۲۰۲۴

یہ سب دکھاوا ہے

میرے ایک عزیز دوست کی بیٹی کے نکاح کے چھوارے کھاتے ہی،تقریب میں شریک “دوستوں کی محفل” ایک “ِجرگے” میں تبدیل ہوگئی ۔

موضوع گفتگو، پاکستان کے حالات کے سوا اور کیا ہوسکتا تھا۔  جب ہر آنے والے دن، پاکستان کے سیاسی منظر پر، جنرل فیض حمید کے کرم اور فیض کی داستانوں سے، تمام TV چینل، تمام یو ٹیوبر اور تمام بلاگرز قوم کو ۲۴ گھنٹے مستفید  کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔

میں آج کے وقت کا موازنہ پچھلی کئی دہائیوں سے کرتا ہوں، تو میرا دل خدا اور وقت کے انتقام کے خوف سے کانپ اٹھتا ہے۔

ایک وقت تھا کہ جنرل ایوب کی معمولی علالت ، جنرل یحیٰی کی راتوں کے نظارے، جنرل ضیاالحق کے سر درد کی علت اور جنرل مشرف کی خر مستیوں کی کہانیوں کی خبر  تو کیا، ان واقعات کا اشارتًا تذکرہ بھی سینسر ہوجایا کرتا تھا۔ اور آج، وہ وقت ہے کہ ایک طرف تو جرنیلی جنتا اپنے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگینڈے کو روکنے کیلئے اربوں روپئے سے فائر وال تنصیب کروا چکی ہے اور وہی جرنیلی جنتا، اپنے اندر اتحاد کو قائم رکھنے کیلئے، اپنی ہی کلٹ کے ایک رکن، جو طاقت حاصل کرنے کی آرزو میں جرنیلوں کے اتحاد ہی کو پارہ پارہ کرنے پر تل گیا تھا، اسے نہ صرف تحویل میں لے لیا ہے  بلکہ انکے کارناموں کو عوام الناس میں پھیلانے کیلئے، پاکستانی میڈیا کو ایک بے آواز تھپکئ بھی  دیدی ہے۔

مجھے علم نہیں ، کہ میرے آرٹیکلز پر جرنیلوں پر تبصرے کرنے پر جو دوست ، مجھ سے ناراض ہوجایا کرتے تھے، وہ ان انکشافات پر کیا فرمائیں گے ؟

بہرحال، ان مہربان دوستوں پر میں مزید تبصرے سے گریز کروں گا۔

ہمارے اس ایمرجینسی جرگے میں ایک دوست بہت پریشانی کا اظہار کر رہے تھے۔ انکے بقول آئندہ چند دن بہت اہم ہیں ۔ ان کی فکر کا محور، جنرل فیض کے خلاف عمل کا رد عمل سامنے آجانے سے تھا۔ انھیں پاکستان کی فوج کے اتحاد میں کسی خلل آجانے کا ڈر تھا۔  انکے بقول، ہماری فوج کے بیشتر حصے کا تعلق چکوال سے ہے۔ انکے مطابق، نہ صرف جنرل فیض حمید  چکوال سے ہیں بلکہ ، اس علاقے کے عوام اور فوجی حلقوں میں، انکے لئے  نرم گوشہ  بھی پایا جاتا ہے۔انکے مطابق، انگریز نے اس علاقے کی اس مارشل خصوصیت, ہی کی وجہ سے، اپنے بنائی ہوئی فوج کے دروازے چکوال کے لوگوں کیلئے ہمیشہ کھلے  رکھے ۔

میری سوچ اس کے برعکس تھی۔ میں انگریز کی حکمت، دور اندیشی اور مردم شناسی کا بہت قائل ہوں ۔ انگریز نے بر صغیر پر قدم رکھنے سے پہلے، اس کے ہر خطے، ہر ثقافت، ہر زبان کے لوگوں کے مزاج، اطوار اور عادات کی تفصیل مرتب کی اور اسی مطابق، یہاں کے لوگوں کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کیا۔

چالاک انگریز نے، ایسے علاقے کے لوگوں کیلئے اپنی فوج کا دروازہ کبھی نہیں کھولا ، جن پر بغاوت کرنے کا ذرہ سا بھی شائبہ ہو۔ وہ تو تابع فرمان قسم کے لوگوں کو آگے لایا کرتا تھا۔ اور یہی خصوصیت ہر فوج کی ہے کہ افراد کی، نفسیاتی طور پر تربیت اس طرح کی جائے  کہ وہ ، اپنے آفیسر  کے حکم پر ہر لحظہ لبیک کہے۔ آرمی کا اصول یہ ہے کہ :

Rank is superior then Reason.

دوران گفتگو، دوسرا موضوع یہ تھا کہ، اب آگے کیا ہوگا ؟

میری دو ٹوک رائے یہ تھی کہ ، یہ سارا کھیل صرف اس خوف کی وجہ سے ہے کہ وقت کے سپہ سالار کی طاقت کو کس طرح محفوظ رکھا جائے۔ سپہ سالار اسی وقت طاقتور ہوتا ہے، جب، اسکے ماتحت تمام کمانڈر اس کے حکم کے سامنے سرنگوں رہیں ۔ اگر اس اتحاد میں کوئی فتنہ  پیدا کرنے کی ، کسی طرح کی، اور کسی طرف سے بھی کوئی کوشش ہوئی تو اسے سختی سے کچل دیا جائے گا۔ اسی لئے پچھلے ہفتے جرنل عاصم منیر نے ایک عشائیے کا اہتمام کیا اور ان میں تمام ریٹائرڈ سپہ سالاروں ، جرنیلوں اور دوسرے فوجی افسران کو مدعو  کیا (گو شرکاؔ میں جرنل باجوہ شریک نہیں تھے) اور ان سے اپنے مستقبل کے پروگرام کی حمایت حاصل کی گئی ۔

ایک دوست نے بات کاٹتے ہوئے پوچھا کہ کس بات کی حمایت حاصل کی

میں نے مسکرا کر جواب دیا کہ جرنل ایوب کے وقت سے ایک غیر تحریر شدہ قانون کی ، نظریہ ضرورت کے تحت وقتی خلاف ورزی کی اجازت اور حمایت طلب کی۔ بولے قاضی تم پھر پہیلیاں بھجوارہے ہو۔

میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے عرض کہ کہ جناب قانون یہ ہے کہ،فوج کا  کوئی بھی افسر ،  جرنل کے عہدے تک پہنچنے کے بعد ، کسی بھی کرپشن (چاہے کتنی بڑی کیوں نہ ہو) ، کسی جرم اور کسی بے ضابطگی پر  جوابدہ نہیں ہوتا۔

باقی کرپشن کے خلاف تطہیر  کا عمل  محض دکھاوا ہے۔ اگر واقعی ہدف آرمی سے کرپشن ختم کرنا ہوتا تو، جرنل کیانی، جرنل عاصم سلیم باجوہ، جرنل غفور ، جرنل جاوید قمر باجوہ بھی انکوائریاں بھگت رہے ہوتے۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ شہباز شریف کے پہلے دور کے دوران، نیب کے ذریعے جنرل فیض حمید کی کرپشن کی انکوائری ،  عبوری حکومت نے اس وقت کے وزیر اعلٰی اور آج کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ذریعے  بند کروادی تھی اور محسن نقوی اور جرنل عاصم منیر کے بندھن سے کون ناواقف ہے

وما علینا الی البلاغ

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے