نکتہ داں – ۶۳
۵ اگست ۲۰۲۴
بنگلہ دیش کے واقعات، ہماری مقتدرہ کیلئے ایک وارننگ ہیں۔
پاکستان اور بنگلہ دیش میں فرق یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں تمام امور حسینہ واجد کی سیاسی حکومت کے ہاتھوں میں تھے اسی لئے عوام کا غصہ بھی حسینہ ہی پر تھا
لیکن پاکستان کے لوگ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کے معاملات سیاسی حکومت کے پاس نہیں بلکہ مقتدرہ کے پاس ہیں۔
انکا زیادہ غصہ مقتدرہ پر ہے۔
۹ مئی کے واقعات ،میری اس سوچ کا ثبوت ہیں۔ یہاں اگر عوام اٹھ کھڑے ہوئے تو وہ مقتدرہ کے خلاف کھڑے ہونگے، باقی دوسرے سیاسی مہرے، عوامی غضب کے سامنے پیادے ثابت ہونگے۔
اگر ذرہ برابر بھی دانش ہے (جو کہ نظر نہیں آتی) تو بنگلہ دیش کے حالات سے سبق لیا جانا چاہئے۔
مٹھی بھینچنے یا سختی کرنے سے، حکومتی رٹ قابو میں نہیں رہے گی، بلکہ زائل ہوتی جائے گی۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ، خیبر پختون خوا اور بلوچستان (یعنی دو صوبوں میں ) حالات دگرگوں ہوچکے ہیں ۔ اس کا ثبوت ISPR کے ترجمان میجر جرنل احمد شریف چودھری کی حالیہ پریس بریفنگ ہے، جس میں وہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کا ذکر اس طرح کر رہے ہیں جیسے انڈیا سے ملحق بارڈر پر جاری جنگ کی رپورٹ پیش کر رہے ہوں۔ لیکن اب پنجاب کے دل لاہور اور پاکستان کے دارلخلافہ اسلام آباد میں بھی مقتدرہ مخالف جذبات سامنے آرہے ہیں ۔ اسکی وجہ، عدالتی فیصلہ آجانے کے باوجود،تحریک انصاف کو ، اسکے حق سے محروم کرنے پر ڈٹ جانے کا عمل ہے۔
انڈیا تو دشمن ہے ہی، لیکن ان عقل سے پیدل مقتدرہ نے اپنے عوام کو بھی دشمن بنا لیا ہے۔ اسکی وجہ ، اپنے حلف کے خلاف ، غیر آئینی سیاسی مداخلت ، پاکستان کی زمین، تجارت، انڈسٹری اور قدرتی وسائل پر قبضے کی لا متناہی اور نہ ختم ہونے والی خواہش ہے۔
دشمن تو ان مواقع سے فائدہ اٹھائے گا۔
ان حالات میں، ہماری تمام سیاسی جماعتوں کو بھی حکمت سے کام لیکر، سیاسی عمل کو آگے بڑھانا چاہئے۔ جس قدر سیاسی عمل بڑھے گا اس قدر مقتدرہ کو ملکی سیاست سے دور رکھنے میں آسانی ہوگی۔
لیکن سیاسی عمل بہرحال “ میں نا مانوں” کا نام نہیں بلکہ، بات چیت، مشاورت اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا نام ہے۔
کیا ہم یہ کر پائیں گے ؟
میں پر امید ہوں۔ حالانکہ آثار ایسے نظر نہیں آتے اور ہر طرف، سخت رویوں کا اظہار دکھائی دیتا ہے مگر ، وقت ، دیر سے ہی سہی ، لیکن، سکھا ضرور دیتا ہے۔ شاید وہ وقت قریب آگیا ہے۔ شاید جلد ہی، کوئی نوابزادہ نصراللٰہ خان جیسی شخصیت ابھر کر سامنے آئے اور وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو عقل دلا کر ایک ایسے لائحۂ عمل پر راضی کرلے کہ جس سے پاکستان میں سیاسی استحکام آ سکے۔
مجھے (گو مجھ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے) اس وقت دو شخصیتیں ایسی نظر آتی ہیں، جو حالات کو درست سمت لیجانے کی صلاحیت رکھتیں ہیں۔
یہ دونوں وہ شخصیتیں ہیں جو پاکستان کے حالیہ صدارتی انتخاب میں ایک دوسرے کے مد مقابل تھیں۔
محمود خان اچکزئی اور آصف علی زرداری
میرا یہ خیال کیوں ہے ؟ اس پر اگلی نشست میں بات ہوگی
خالد قاضی