نکتہ داں -۶۷
۱۱ ستمبر ۲۰۲۴
نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا کے تمام خطوں میں حالات خراب سے خراب ہوتے جارہے ہیں۔
جب بھی اخبار، ٹی وی یا سوشل میڈیا دیکھیں، کسی نہ کسی جرم،دہشت گردی، انتہا پسندی، آبرو ریزی، ڈکیتی، اغوا، دھوکہ دہی، قبضہ گیری، بھتہ خوری یا قتل و غارتگری کی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔
معاشرے میں ان خرابیوں کی کئی وجوہات گنوائی جا سکتی ہیں لیکن میری دانست میں، ان جرائم کی سب سے اہم وجہ معاشرے میں غیر مساویانہ دولت، عزت اور طاقت کا فروغ ہے۔
دولت، طاقت اور نمبر ون بننے کی دوڑ میں انسان، تمدن کی حدود سے نکل کر جانور بن جاتا ہے ، اور جب انسان ، جانور بن جائے تو، اسکے سامنے درندگی، بھی ہیچ نظر آنے لگتی ہے۔
قدرت کا یہ بھی عجیب نظام ہے کہ ، برے سے برا انسان بھی، اپنا جرم چھپ کر کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس مجبوری کی کئی وجوہات گنوائی جاسکتی ہیں ۔ مثلاً ،ضمیر کی خلش، قانون کا خوف، معاشرے کا ڈر یا خود کو بظاہر نیک ثابت کرکے اپنے عہد کے لوگوں کو دھوکہ دینا۔
اور مجرم کے اس عمل کے بالکل برخلاف، جب قانون ، ریاست، حکومت یا قانون قائم رکھنے کے مختلف ادارے، جب، کاروائی کرتے ہیں تو وہ ببانگ دہل کرتے ہیں اور ان کی کاروائی سب پر عیاں کی جاتی ہے۔
یعنی، جب پولیس ، کہیں چھاپہ مارتی ہے، کسی کو گرفتار کرتی ہے، کسی جرم کا تدارک کرنے کیلئے کاروائی کرتی ہے، تو اس کاروائی میں شریک ہر افسر اپنی پہچان کروانے کیلئے ، وردی میں ملبوس ہوتا ہے ، انکی گاڑیوں پر محکمے کا نام جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے اور ہر دیکھنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ زیر نظر کاروائی، پولیس نے، رینجرز نے، نیب نے، کسٹم نے، اینٹی ٹیررزم نے یا کسی اور محکمے نے کی ہے، کیونکہ، دوران کاروائی ہر کوئی دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ فلاں محکمے کے افراد ، اپنے محکمے کی سرکاری گاڑیوں میں، قانونی وارنٹ کے ساتھ کاروائی کر رہے ہیں، کیونکہ وردی اور گاڑیوں سے محکمے کی پہچان ہو جاتی ہے۔
گویا، مجرم کی کاروائی اور قانونی کاروائی کا فرق ہی یہ ہے، کہ مجرم چھپ کر، منہ پر نقاب چڑھا کر، خاموشی سے یا اندھیرے میں کاروائی کرتا ہے، تاکہ اگر اسے کوئی دیکھ بھی لے، تو پہچان نہ سکے۔
جبکہ قانونی کاروائی کرنے والے ، بنا کسی ڈر کے، اپنی پہچان ، سر عام کرواتے ہوئے کاروائی کرتے ہیں
تہذیب یافتہ معاشروں میں اس طرح کاروائی سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور عام آدمی خود کو محفوظ تصور کرتا ہے
لیکن اگر آپ یہ منظر دیکھیں کہ، کاروائی کرنے والے، رات کے اندھیرے میں آئے ہیں، منہ نقاب اور ڈھاٹوں سے چھپا ہوا ہے، گاڑیاں بھی پہچان میں نہیں آرہی (گو آجکل کے دور میں اس طرح بار بار کاروائی کرنے کی وجہ سے لوگ اب جان گئے ہیں کہ کاروائی کون کر رہا ہے) تو لوگ ، ملزم اور قانون نافذ کرانے والوں کی پہچان سے قاصر نظر آتے ہیں۔ انھیں پتہ ہی نہیں ہے کہ اصل مجرم کون ہے اور جنرل فیض حمید کے کارناموں کی داستانیں تو سن سن کر تو قیاس یقین میں بدل گیا ہے کہ یہ قانون نافذ کرنے کی نہیں بلکہ جرم کرنے جیسی کاروائیاں کرتے ہیں ۔
پہلے سندھ ، خیبر پختون خواہ سے عموماً اور بلوچستان سے خصوصاً لوگوں کے اغوا اور پھر لاشیں ملنے کا عمل جاری رہتا تھا لیکن اب حالیہ دنوں میں پنجاب بھی اس غیر قانونی عمل کو بھگتنے لگا ہے۔
اس دھینگا مشتی میں چونکہ، ملزم اور( بظاہر) قانون کے نافذ ین، دونوں ہی اپنی شناخت نہیں کرواتے (بلکہ غائب شدہ ) ملزمین کے لواحقین تو نام اور تصاویر دکھا کر اپنے پیاروں کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن وہ جنھیں اپنی وردی، شناخت اور پہچان ببانگ دہل کروانی چاہئے وہ مجرموں کی طرح اپنی پہچان کروانے سے کتراتے ہیں۔
یہ آنکھ مچولی، کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن اس میں ایک نئے باب کا اضافہ دو دن پہلے ہوا۔
وہ ادارہ جو آئین اور قانون کا خالق ہے، جو سب سے سپریم اور عوام کا نمائندہ ہے، اس کے ممبران کو، (میڈیا کی اطلاعات کے مطابق) پارلیمنٹ کے اندر سے ٹھاٹھے باندھے نقاب پوش، پارلیمنٹ کی بجلی بند کرکے، اندھیرے میں اٹھا کر لے گئے۔ اور باعث حیرت بات یہ ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللٰہ اور دیگر کئی وزرا اس عمل کی توجیحات پیش کرتے پھر رہے ہیں ۔ گو پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر شاہ نے PTI کے علی محمد خان کی توجہ دلاؤ تقریر کے بعد فوراً اس عمل کی مکمل مذمت کی، لیکن میرے خیال میں یہ مذمت بھی ٹوکن مذمت ہے۔ پارٹی چیئرمین بلاول کو پالیسی بیان دینا چاہئے
مجھے ن لیگ کے PTI سے خوف اور انکی سیاسی بے وقوفیوں کے جواب میں ان سے بڑھ کر سیاسی نادانیاں کرنے پر بہت تعجب ہے
یہ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ PTI کو اس وقت اپنے وجود اور عوامی کشش کو قائم رکھنے کیلئے بھڑکوں کی ضرورت ہے اور وہی کچھ انھوں نے اپنے جلسے میں کیا ۔ لیکن بھڑکوں کا جواب بھڑکوں سے نہیں تحمل اور بردباری سے دینا چاہئے۔ آپ حکومت میں ہیں، بھڑک مارنا PTI کی سیاسی مجبوری ہے، آپ نے انکی بھڑکوں کو کوئی وقعت ہی نہیں دینی چاہئے ۔ آپ خاموشی سے لاہور پر حملے کا انتظار کرتے (جو کہ ہونا ہی نہیں تھا) اور جب نہیں ہوتا تو PTI کو منہ کی کھانی پڑتی۔ اب آپ کے proactive عمل سے PTI کو خواہ مخواہ تشہیر مل گئی
دوسری اس سے بھی اہم بات۔ ن لیگ کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ان کے دامن پر پہلے بھی ایک گہرا داغ لگا ہوا ہے۔ ان ہی کے دور میں ، انکی لیڈر شپ سپریم کورٹ پر حملہ کر کے ن لیگ کی سیاست پر ایک انمٹ دھبہ لگوا چکی ہے۔ آج آپ حکومت میں ہیں کل کوئی اور ہوگا۔ پارلیمنٹ کی عزت سب کی سانجھی ہے۔ پارلیمنٹ کا وقار آپکا اور ہر سیاسی جماعت کا وقار ہے۔ اگر پارلیمنٹ ایجنسیوں کے ہاتھوں، (آپکے دور میں ) اپنا وقار کھودے گی تو آپ یہ وزن تمام عمر اٹھائے پھرتے رہیں گے۔
باعث تقویت یہ بات ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی محترم ایاز صادق نے، اپنی پارٹی کے ردعمل کے برخلاف، اس ناقابل قبول واقعے کا نوٹس لیکر، ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا یقین دلایا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے کہے پر جس قدر عمل کر واسکتے ہیں
خالد قاضی