NUKTADAAN

Reading: ‏۷۲۔ ؔحیران ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں
Reading: ‏۷۲۔ ؔحیران ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں

‏۷۲۔ ؔحیران ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں

admin
7 Min Read

نکتہ داں -۷۲

۲۰ ستمبر ۲۰۲۴

مجوزہ ۲۶ ویں ترمیم کے در پردہ محرکات

ؔحیران ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں

تمام دنیا ہمارا تماشہ دیکھ رہی ہے لیکن ہم ہیں کہ حالات سے بے خبر، محض طاقت کے حصول  اور حکومت پر قابض رہنے کیلئے، تمام قانونی، جمہوری اور پارلیمانی اقدار کو پس پشت ڈالتے ہوئے، پاکستان کے سیاسی استحکام، عدالتی نظام ، اور پاکستان کے معاشی مستقبل کا سودا کرنے کی حماقت سے باز نہیں آتے۔

ہم جرنیلوں پر تو تنقید کرتے ہی رہے ہیں کہ پاکستان کے وسائل اور حکومت پر قابض رہنے  کیلئے، وہ پاکستان کے متفقہ آئین کو بگاڑتے رہے ہیں ۔لیکن انکے اس اقدام کی، پاکستان کی حقیقی سیاسی طاقتوں نے نہ صرف ہر لمحہ مخالفت کی  بلکہ، موقع میسر آنے پر ، اس آئین کو اپنی اصل شکل میں دوبارہ لانےکی سعی میں،  مکمل نہ صحیح لیکن ۸۰ فیصد ، بحال کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

اس کی واضح مثال 58, 2B کی منسوخی اور 18ویں ترمیم کو منظور کرواناہے۔

لیکن حالیہ 26ویں آئینی ترمیم کروانے کے حقیقی محرکات، ایک ایسا مخمصہ ہے کہ جسکا ہر ایک کو پتہ ہے لیکن کسی کو پتہ نہیں۔

اس پورے معاملے کو سمجھنے کے لئے، ہمیں ماضی قریب میں جھانکنا پڑے گا۔

حالیہ الیکشن میں تمام تر حربوں کے باوجود، عمران خان اور تحریک انصاف کی متاثر کن کامیابی نے جہاں جرنیلوں کی نیندیں حرام کردیں وہیں، ن لیگ کو اپنا وجود برقرار رکھنے کی فکر لاحق ہو گئی ۔

ان خدشات کے پیش نظر  مندرجہ ذیل اقدامات کئے جاتے رہے ہیں

۱- عمران خان کو قید کرکے اسپر درجنوں سچے یا جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے۔

۲- تحریک انصاف کو عوامی طاقت کے اظہار سے روکنے کیلئے، انکی لیڈر شپ کو گرفتار، انکے عوامی اجتماعات پر پابندی، اور انکے کارکنوں کی گرفتاری شامل کی گئیں

۳- اس عمل سے بھی جب متوقع نتائج نہ مل پائے تو تحریک انصاف پر پابندی کا ڈول ڈالا

 گیا، جو کہ ن لیگ کے علاوہ ، پاکستان کی مجموعی سیاسی قیادت ، حقوق انسانی کی تنظیموں، وکلا، میڈیا اور سول سوسائٹی نے مکمل طور پر نہ صرف مسترد کردیا بلکہ اس اقدام کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دیا

۴- اسی دوران، عدالت عالیہ کے ایک بڑے حصے میں،  عدلیہ کے معاملات میں بیرونی مداخلت کے خلاف مدافعت ابھر نی شروع ہوئی ۔

یہی وہ مرحلہ ہے کہ جس پر قابو پانے اور عدلیہ پر گرفت مضبوط کرنے کیلئے حکومت وقت کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے حکم صادر ہوا کہ آئین میں ایسی ترمیم کی جائے کہ بظاہر تو وہ معاملات کو بہتر کرنے کا چہرہ لئے ہوئے ہو، لیکن باطن میں عدلیہ کی پیٹھ میں ایسا خنجر ثابت ہو کہ جس کے استعمال سے بات نہ ماننے والے جج کو باآسانی نکڑ کیا جاسکے۔

اس تمام معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی پشت یا تو خواجہ آصف کرتے رہے یا محسن نقوی۔ جبکہ شہباز شریف کی طرف سے، محض نوکری جاری رکھنے کیلئے اس تمام معاملے کی سرپرستی کی گئی۔ حالانکہ ن لیگ کے سیاسی طور پر بیدار اشخاص کے گروپ جنکی نمائندگی رانا ثنااللٰہ کر رہے تھے نے آخری وقت تک اس عمل کی ناکامی کا عندیہ دیا

گو حکومت ن لیگ کی ہے، لیکن، حکومت کی حلیف جماعتوں جن میں پیپلز پارٹی اور MQM نمایاں ہیں بھی اس ترمیم کے حلیف بن کر خود کو سیاسی طور پر رسوائی سے نہ بچا پائیں۔

اس پورے عمل کو جس بھونڈے انداز میں شروع کیا اس کی چند جھلکیاں یہ ہیں:

۱- ابتدا ہی سے ترمیم کے مندرجات کو خفیہ رکھا گیا

۲- پیپلز پارٹی کو ترمیم کا کوئی اور نسخہ اور جو نسخہ میڈیا پر لیک ہوا وہ کچھ اور تھا

۳- جمیعت علما اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ، کہ کیا ہم ووٹ اس ترمیم پر دیں کہ جسکے نکات کا ہمیں علم ہی نہیں ؟

۴- MQM نے بھی تحریک کی ناکامی کے بعد بتایا کہ ہمیں بھی مسودے کا علم نہیں تھا

۵- ن لیگ کے تقریباً تمام ممبران بھی ترمیم کے مندرجہ جات سے لاعلم تھے۔ بلکہ تین سینٹر حضرات تو احتجاجاً پارلیمنٹ چھوڑ کر چلے گئے اور اپنے موبائیل بند کر دئیے

۶-اور اس ترمیم کا سب سے مضحکہ پہلو یہ تھا کہ ن لیگ کے وزیر قانون نے اعلاناً کہا کہ مجھے بھی مجوزہ ترمیم کے مسودے کا علم نہیں تھا اور انکے اسی بیان نے یہ راز فاش کیا کہ مسودہ پنڈی کی  پیداوار تھا جو کہ ناکام ہوا۔

اب کرنے کی کیا باتیں ہیں ؟

میری سیاسی سوچ کے مطابق اگر ہمارے سیاسی رہنماؤں خاص کر کے پیپلز پارٹی کے بلاول کو( جو لفظی طور پر آئین اور جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار بنتے ہیں) اس معاملے کو، اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں سے نکال کر سیاسی ہاتھوں میں لانا چاہئے۔ اسکے تمام پہلوؤں کو آئین ، جمہوریت اور انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر دوبارہ ترتیب دینا چاہئے اور ۲۶ویں ترمیم کے مجوزہ مندرجات کو عام کرکے ملک کے تمام سیاسی، قانونی ، علمی اور صحافتی طبقوں کو، شامل مشاورت کرکے (۱۸ویں ترمیم کی طرح)  ایک متفقہ ترمیم سامنے لانی چاہئے۔

ملک کے صدر جناب آصف علی زرداری کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ بلاول کو وزیراعظم کی کرسی پر دیکھنے کے لئے اس حد تک مفاہمت بھی اچھا سودا نہیں کہلائے گی جس میں جرنیلوں کو سیاست پر کنٹرول رکھنے کی زیادہ سہولت اور space مہیا کردیا جائے۔ کیونکہ بلاول کے وزیر اعظم بننے کے بعد بھی وہ سہولت اور space جرنیلی کنٹرول میں رہے گا اور اس space کو واپس لینے کیلئے محترمہ بینظیر بھٹو کی طرح جان پر بھی کھیلنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ملکی تاریخ جرنیلوں کے ظلم اور قہر سے بھری پڑی ہے

وہیں اس سارے عمل میں مولانا فضل الرحمٰن  کے کردار کی تعریف نہ کرنا ایک صحافتی بد دیانتی ہوگی

وما علینا الا البلاغ

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے