NUKTADAAN

Reading: ‏۷۳۔ ہفتے کا دن ، ہفتے بھر کی ، کریانہ خریداری
Reading: ‏۷۳۔ ہفتے کا دن ، ہفتے بھر کی ، کریانہ خریداری

‏۷۳۔ ہفتے کا دن ، ہفتے بھر کی ، کریانہ خریداری

admin
8 Min Read

نکتہ داں-۷۳

۲۳ستمبر ۲۰۲۴

ہفتے کا دن ، ہفتے بھر کی ، کریانہ خریداری یعنی  کہ (grocery )کے لئے مختص ہے، سو ہم، بیگم کی رہنمائی میں ، سامان ٹرالی میں ڈالتے جارہے تھے کہ اچانک ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ دیکھا تو سمجھ گئے کہ فون پاکستان کے دل، لاہور سے ہے، اور فون بھی اس شخص کا کہ جس کا احترام مجھ پر واجب ہے۔ بیگم کیلئے فون پر اس وقت میرا مکالمہ، واضح طور پر، دخل در معقولات کے زمرے میں  تھا۔ لیکن ہم بھی، ہم ہیں۔ ٹرالی بیگم کے  ہاتھوں میں تھما کر ،  کچھ فاصلہ اختیار کیا اور مشغولِ گفتگو ہو ئے۔ معمول کی سلام و دعا کے بعد موضوع وہ ہی پاکستان کے سیاسی حالات ہی تھا۔ لیکن، الفاظ اور آواز ، دونوں فکر اور درد مندی کی عکاسی کررہے تھے۔

پوچھنے لگے کہ اب اس ۲۶ویں ترمیم کا کیا بنے گا۔ اور ن لیگی، اس کانٹے کو نگلیں گے یا اگلنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ اس کانٹے کا گلے میں پھنسے رہنا وبال جاں سے کم نہیں  ۔

میں نے جواباً عرض کی، کہ پلان تو یہی تھا کہ رات کی خاموشی میں تمام ممبران کو،  بھیڑ بکریوں کی طرح ، ہانکا دیکر، “ہاں “کروالی جائے گی اور اگلی کئی دہائیوں کیلئے اس قوم کو مزید کئی دہائیوں تک، یرغمال بنائے رکھا جائے گا، لیکن میرے مطابق، یہ رب العلیم و الخبیر کی موجودہ  دور میں پاکستانی قوم پر  دوسری بہت بڑی مہربانی ہے ۔ فرمایا، کہ اس ترمیم کے پاس نہ ہونے کو آپ اللٰہ کی عنایت گردانتے ہیں

میرا جواب تھا یقیناً ، یہ بہت بڑا سانحہ ہونے جا رہا تھا جس سے ہم بحیثیت قوم بچ گئے

پوچھا ، کہ حکومتی کوشش تو جاری رہے گی۔

میرا ماننا تھا، کہ ۲۶ویں ترمیم،کا جال جس طرح بُنا گیا تھا، ان سارے شکنجوں کے ساتھ ، اب دوبارہ ، انشااللٰہ کبھی منظور نہیں ہو پائے گی، کیونکہ مولانا فضل الرحمٰن نے آسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے۔ جرنیلوں کی معاونت سے، حکومت جو ترمیمات خفیہ طریقے سے پاس کروانے جا رہی تھی اس کا مکمل علم انکے اتحادیوں کو بھی نہیں تھا، جبکہ مولانا نے بغیر دیکھے ، کسی ترمیم کے پاس کروانے کے سوال کو مکمل طور پر رد کردیا تھا۔ حالانکہ انھیں جرنیلوں نے  (بقول انکے) بڑی بڑی پیشکش بھی کیں جس  میں وزارت اعلٰی و عظمٰی کی پیشکش بھی شامل تھی۔

مولانا نے ملتان میں اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا :

۱- یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک ملازم، حکمران بھی ہو (انکا اشارہ جرنیلوں کی طرف تھا)

۲- یہ کون ہوتے ہیں پیشکش کرنے والے۔ وزارت اعلٰی یا عظمٰی کا فیصلہ عوام کا ووٹ کرتا ہے اور کوئی نہیں !

۳- دوبارہ الیکشن ، ہی موجودہ سیاسی انتشار کو ختم کرنے کا حل ہیں اور فوج کا الیکشن سے کوئی لینا دینا نہیں ۔

۴- جرنیل اپنے آئینی مینڈیٹ سے تجاوز کرنے  سے باز رہیں

مجھ سے سوال کیا کہ آپ نے اللٍٰہ کی دو مہربانیوں کا ذکر کیا، پہلی تو ۲۶ویں ترمیم کے پاس ہونے کی ناکامی، دوسری کونسی مہربانی ہوئی۔

میں نے انکے سوال کو ہنس کر ٹال دیا اور کہا کہ پھر کبھی۔

لیکن وہ بضد تھے۔

میں نے ان سے کہا ، کہ جرنیل یہ ہی چاہتے ہیں ناں ، کہ جسے ہم چاہیں حکومت میں لائیں اور جب چاہیں اسے نکال باہر کریں اور یہ اصول ہمیشہ کیلئے عملاً طے ہوجائے کہ جو بھی حکمراں آئے گا وہ عوام کے ووٹ سے نہیں بلکہ جرنیلی  رضا سے آئے گا

بولے ہاں ، تو پھر ؟؟؟

میں نے انھیں سمجھایا کہ فرض کرو، عمران خان اگر کامیاب حکمراں ثابت ہوجاتا ۔ معیشیت بھی چل پڑتی، سیاسی استحکام بھی میسر آجاتا(جسے خود اس نے اپنے رویے سے خراب کیا تھا) تو کیا ہوتا ؟

پوچھا آپ بتائیں کیا ہوتا ؟

میں نے کہا پھر یہ طے ہوجاتا کہ فوج ہی حکومت لائے گی اور وہی حکومت گرائے گی، کیونکہ فوج کو عمران خان کی اچھی کارکردگی سے فیصلے کرنے کا گویا حق مل جاتا ۔

اور اس اہتمام کو سند مل جاتی ۔ اسکے بعد جرنیل تحکم سے اس سلسلے کو جاری رکھنے پر  مُصر رہتے۔

پوچھا، تو پھر ہونے کیا جارہا ہے

میں نے کہا کہ بھائی،  نہ میں  پیشین گو ہوں نہ ہی جوتشی اور نہ ہی میرے ذرائع ہیں جو خبریں دیں

میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ جس قدر ، ضد ہے ، اسی قدر ناکامی بھی۔ مجھے بتاؤ کہ اربوں خرچ کرکے، انٹرنیٹ پر پہرا بٹھایا گیا۔ کیا فائدہ ہوا ۔ پہلے سے بڑھ کر اور بدنامی کما رہے ہیں

مٹھی میں ریت کی طرح ، طاقت ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے۔ اور ایک نہ ایک دن ( جو کہ اب زیادہ دور بھی نہیں) عوام کے سامنے، یہ طاقت دھری کی دھری رہ جائے گی۔ دو صوبے تو پہلے ہی، سنبھالے نہیں جارہے اور باقی دوصوبوں میں بھی روز بروز عوامی بے چینی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ عزت بچائیں ۔ عوام سے کبھی بھی کوئی بھی طاقت نہیں جیت سکتی۔

بقول فیض احمد فیض

ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

جو لوح ازل میں لکھا ہے

جب ظلم و ستم کے کوہ گراں

روئی کی طرح اڑ جائیں گے

ہم محکوموں کے پاؤں تلے

جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی

اور اہل حکم کے سر اوپر

جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

جب ارض خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہل صفا مردود حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے حاضر بھی

جو منظر بھی ہے ناظر بھی

اٹھے گا انا الحق کا نعرہ

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

اور راج کرے گی خلق خدا

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے