NUKTADAAN

Reading: ‏۷۴۔ کوئی امید بر نہیں آتی
Reading: ‏۷۴۔ کوئی امید بر نہیں آتی

‏۷۴۔ کوئی امید بر نہیں آتی

admin
6 Min Read

نکتہ داں۔۷۴

۲۶ ستمبر ۲۰۲۴

کوئی امید بر نہیں آتی

کہنے لگے ، قاضی صاحب اس خاموشی کے پیچھے کیا راز چھپا ہے ؟

میں نے پوچھا بھائی کیسی خاموشی ؟

فرمایا ، اچانک ہی جنرل ندیم انجم کو ISI کے چیف کے عہدے سے سبکدوش کرکے، جنرل عاصم ملک کو، ISI کا نیا چیف بنادیا گیا اور آپ نے حسب عادت کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ :

کچھ کہنے پہ طوفان اٹھا لیتی ہے دنیا

اب اس پہ شکایت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے

دنیا کی عنایت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

کہا حضور ناراض نہ ہوں اور بتائیں کہ ایسا اچانک کیوں ہوا

میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ، اگر ISI کے چیف کیلئے، باقاعدہ درخواستیں وصول کی جاتیں ، اور اگر ، گزشتہ ISI کے چیفس کو بھی درخواست دینے کی اجازت ہوتی ، تو جنرل فیض حمید ، اپنے CV اور پچھلی کارکردگی پر ضرور دوبارہ منتخب ہوجاتے

کہنے لگے، کہ میں نے آپ سے لطیفے سننے کی فرمائش نہیں کی، موجودہ تقرری کی وجہ پوچھی ہے

میں نے جواباً وضاحت کی، کہ جناب، فیض حمید نے وہ وہ کارنامے انجام دئیے کہ اسکی CV دیکھ کر اسے ضرور دوبارہ منتخب کیا جاسکتا تھا۔ جس میں نواز شریف کو عدلیہ کے ذریعے نکلوانا ، دھرنوں کا اہتمام ، عمران کی پارٹی کو مضبوط کرنے، عمران خان کو ۲۰۱۸ میں جتوانے ، پھر عمران حکومت کو قائم رکھنے، اسمبلیوں میں حاضری مکمل رکھنے ، نیز ہر طرح کی کمک پہنچانے کا کام بخوبی کیا بلکہ بقول پرویز الٰہی عمران خان کی نیپیاں بھی صاف کرتے رہے

جھنجلا کر بولے ، قاضی صاحب لگتا ہے آپکے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں اس  لئے پرانے لطیفے دہرا رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا لطیفے، ان کو آپ لطیفہ کہہ رہے ہیں، کیا یہ سب نہیں ہوا ؟

پھر میں نے انکا ہاتھ پکڑ کر بٹھایا اور سمجھاتے ہوئے کہا کہ دیکھیں، ہر عہدے کی، ایک ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک آپ ضرورت پوری کرتے ہیں آپ عہدے پر قائم رہتے ہیں۔ لیکن جب آپ متواتر ،  دئیے ہوئے ٹاسک پر ناکام ہوتے رہیں گے تو پھر آپکو گھر بھیج دیا جائے گا۔ اور یہی کچھ ندیم انجم سے ہوا ہے۔

رازدارانہ انداز میں پوچھا، کہ کونسی ناکامی۔

میں نے کہا ایک ہو تو بتاؤں

بولے کچھ تو بتائیں

میں نے گنوانا شروع کیں

۱- ندیم انجم، عمران خان کے خلاف، عدلیہ کو اس طرح استعمال کرنے میں ناکام رہے جس طرح فیض حمید نے ، نوازشریف کے خلاف عدلیہ کو استعمال کیا

۲- الیکشن میں بھی تحریک انصاف کا پتہ صاف کرنے کی پلاننگ بہت دیر میں کی گئی اور مخالفوں کو فارم ۴۵ کے مسئلے کو اچھالنے کا موقع مل گیا۔اور گڈ مڈ فارم ۴۷ میں کرنی پڑ گئی۔ جس سے بھانڈا بھی پھوٹا، اور الزام بھی کھل کر لگ رہا ہے۔ توقع یہ کی جارہی تھی کہ کچھ ایسا کرتے کہ فارم ۴۵ ہی میں نتائج ، حسب منشا مل جاتے اور بات آگے نہیں بڑھتی

۳- تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو بھی ، سیاست سے ریٹائر کروانے، عمران کا ساتھ چھڑوانے اور انھیں تتر بتر کرنے کا عمل اس بے ڈھنگے انداز میں ہوا ، کہ سارا گند اسٹیبلشمنٹ پر گرا۔

۴- پیپلز پارٹی کو بھی حکومت میں شامل ہوکر وزارتیں لینے میں ناکامی کا وزن بھی ندیم انجم کی کارکردگی پر جاتا ہے

۵- اور حالیہ ۲۶ویں ترمیم پاس کروانے میں  ناکامی، حکومت سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کی سبکی کا باعث بنی ہے۔ یعنی ISI کو ووٹوں کی گنتی کا صحیح ادراک ہی نہیں تھا اور نہ وہ مولانا فضل الرحمٰن کو رام کرنے میں کامیاب ہوئے۔یہ ایک ایسی مشق تھی کہ جس نے ندیم انجم کے اناڑی پن کی قلعی کھولکر رکھدی

۶- جبکہ میڈیا پر بھی وہ کنٹرول نہیں ہو پا رہا جس کی امید کی جارہی تھی یا یوں کہئے کہ جس کی عادت ہماری مقتدرہ کو پڑگئی تھی۔

مختصر یہ کہ جنرل فیض حمید کی فعالیت نے ہماری مقتدرہ کی عادتیں خراب کردی تھیں  جبکہ ندیم انجم کی سبک رفتاری نے انکا کام نہ صرف بہت خراب کردیا بلکہ مشکلات میں اضافہ بننے کا سبب بنیں۔

اسلئے انکا جانا ٹہرچکاتھا

اب دیکھیں کہ جنرل عاصم ملک ، حالات کوکس طرح سنبھالتے ہیں ۔

انھیں اپنی ٹیم بنانے ، حالات کو سمجھنے اور اپنی گرفت مضبوط کرنے میں چند مہینے تو ضرور لگیں گے۔

اگر ہماری حکومت اور اس کی حلیف پیپلز پارٹی میں ذرا سا بھی سیاسی شعور ہو تو وہ ان چند مہینوں میں اچھی سیاسی پیش رفت کرکے، مقتدرہ کے ہاتھوں کھوئے ہوئے سیاسی میدان کو دوبارہ اپنے قبضے میں لا سکتے ہیں، لیکن یہاں حال یہ ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کے خوف کی وجہ سے  پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں دوڑ لگی ہوئی ہے، کہ کون جرنیلوں کو اپنی عطاعت کا زیادہ قائل کرسکتا ہے۔

اور ہم جمہوریت کے متوالے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ

کوئی امید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے