نکتہ داں – ۷۶
۵-اکتوبر ۲۰۲۴
نشہ بڑھتا ہے، شرابیں جو شرابوں میں ملیں
کوئی جماعت اسلامی کی سیاست سے چاہے کتنا اختلاف کرلے، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا، کہ جماعت اسلامی کے کارکن، جماعت کے چاہنے والے اور جماعت سے امید لگائے رکھنے والے اشخاص ، بہت منظم، متحرک، نیک نیت، کچھ کرنے کے جذبوں سے سرشار، جانباز، اور بعض اوقات متشدد واقع ہوئے ہیں۔ وہ اپنے رہنماؤں کے کہے پر آنکھیں بند کرکے یقین رکھنے اور تنظیمی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے جذبات سینے میں سجائے رکھتے ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے ، ایسے چاہنے والے ایک عظیم سرمایہ ہوا کرتے ہیں اور جماعت اسلامی کے قیام سے لیکر آج تک کی ۸۱ سالہ تاریخ ، جماعت کے پیروکاروں کے عزم، استقلال، جدوجہد اور جانفشانی کی داستانیں اس حقیقت کو واضح کرتی رہتی ہیں۔
میں سوچتا رہتا ہوں کہ ایسے عظیم سرمائے کی مالک، سیاسی جماعت ، آج تک کس وجہ سے ، وہ عوامی حمایت حاصل نہ کرسکی کہ جو اسکا مقدر ہونا چاہئے ، لیکن ایسا نہیں ہوسکا ۔ عوامی حمایت حاصل نہ کرنے کے عوامل پر بحث ایک علیحدہ موضوع ہے اور آج میرا یہ موضوع نہیں۔
جماعت اسلامی، کے بغیر پاکستان کی سیاسی تاریخ مکمل ہو ہی نہیں سکتی اور جماعت نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ہر اہم موڑ پر اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، یہ الگ بات کہ وہ کردار کن قوتوں کے فائدے اور کن کے نقصان کا سبب بنا اور اس کردار کے ردعمل میں عوام کا خاموش رد عمل کس صورت ظاہر ہوا، اس موضوع پر بحث مجھ سے زیادہ، جماعت اسلامی کے اکابرین ، اسکے چاہنے والوں اور جماعت اسلامی کو کامیاب دیکھنے کی خواہش رکھنے والوں کا کام ہے۔
میں اپنے اصل موضوع سے پھر بھٹک گیا !
میرا اصل موضوع جماعت کی پچھلی دو دہائیوں کی کارکردگی پر نظر دوڑانے اور حالیہ حکمت عملی کو زیر بحث لانا تھا۔
اگر ہم ماضی کا ذکر کریں تو جماعت اسلامی کی سیاست کسی نہ کسی سیاسی اتحاد کا حصہ بن کر، نہ صرف فیصلہ سازی میں کلیدی کردار ادا کرکے اپنا مقام منوانے میں کامیاب رہی ہے بلکہ اس اتحاد کی بدولت، انتخابی معرکے میں بھی اس نے اپنا حصہ بقدر جثہ حاصل کیا ہے اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنے نمائندے بھیجنے میں کامیاب رہی ہے۔
لیکن پھر پچھلے تقریبا ۲۰ سالوں میں جماعت اسلامی کے فیصلہ سازوں نے اکیلے اڑان بھرنے کی ٹھانی اور پھر ؟ ؟ ؟
اکیلے عوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے (میری دانست میں ) جماعت اپنے اسلامی تشخص (وہ بھی ایک خاص مکتبہ فکر کے اسلامی تشخص) کا بوجھ اٹھا کر اس آزادی سے سیاست کے سمندر میں تیر نہیں سکتی جس کی اسے خواہش ہے۔
کسی بھی سیاسی جماعت یا اسکے رہنما کی سیاسی قابلیت کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ وہ عوام کی توجہ حاصل کر نے میں کامیاب نہ ہو۔ اور موجودہ دور کی سیاسی فضا، نفسا نفسی کی وجہ سے اس قدر مکدر ہے کہ سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں ہم بحیثیت قوم کئی ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کوئی کسی کو مانتا نہیں ، ماننا تو کجا ، گفتگو میں احترام اور شائستگی بھی ناپید ہو گئی ہے۔ سیاسی اختلافات ذاتی جنگ اختیار کر گئے ہیں اور سوشل میڈیا نے تو اس آگ میں متواتر اور مسلسل تیل فراہم کئے رکھا ہے ۔
جماعتی قیادت( کہ کبھی)، اس کی پہچان، شائستگی اور تہذیب کی علامت ہوا کرتی تھی لیکن حافظ محترم نے ان افکار کو کم از کم سندھ کے سیاسی میدان میں بہت مجروح کردیا ہے۔
لیکن جناب حافظ نعیم الرحمٰن کا حالیہ قدم، میرے لئے ایک خوشگوار حیرت کا سبب بنا ہے۔
یقیناً فلسطین کی صورتحال نہ صرف ہر مسلمان کیلئے تکلیف دہ ہے بلکہ ہر انسانیت کا درد رکھنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کے تڑپنے کا سبب بنا ہوا ہے، اور اس مسئلے کو اجاگر کرنے اور پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنے کیلئے جماعت اسلامی اپنے طور پر بھی کوئی احتجاج ریکارڈ کرواسکتی تھی، لیکن انھوں نے اس عمل میں شامل کرنے کیلئے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتی اور حکومت سے باہر تمام سیاسی قیادت کو متفق اور یک آواز کرنے کا فیصلہ کیا جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ انھوں نے اس عمل کی ابتدا ، بلاول ہاؤس کے دورے سے کی اور چیئرمین PPP بلاول بھٹو زرداری نے بھی اسی جذبے سے حافظ صاحب کے احتجاج میں شرکت کرنے کا اعلان کیا۔ مجھے خوشگوار حیرت اس وقت بھی ہوئی کہ جب جماعتی وفد حافظ صاحب کی قیادت میں ، حکومت کو دعوت دینے وزیر اعظم ہاؤس پہنچے تو وہاں حکومتی وفد کے ساتھ بلاول بھی شریک نظر آئے۔ مجھے امید ہے کہ ملک کی دوسری تمام سیاسی قیادتیں بھی بمعہ تحریک انصاف کی قیادت کے اس موضوع پر، پورے پاکستانی عوام کی یک زبان ہو کر ترجمانی کریں گے اور حکومت کے ۷ اکتوبر کے آل پارٹی کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ بھی ، موجودہ دور کے تقسیم در تقسیم ماحول میں نہ صرف امید کی کرن روشن کرتا ہے بلکہ ان لوگوں کیلئے رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے کہ جو ہر وقت “ میں نہ مانوں” کی رٹ لگائے رکھے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ :
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہونگے
اور سب سیاسی قیادتوں کی متفقہ آواز سے جو ماحول بنے گا وہ یقیناً مسحور کن ہوگا
نشہ بڑھتا ہے، شرابیں جو شرابوں میں ملیں
آئیے دعا کریں کہ باہم گفتگو کا یہ عمل صرف فلسطین کے مسئلے تک محدود نہ رہنے پائے بلکہ پاکستان کے جملہ مسائل کو حل کرنے کی مشترکہ حکمت عملی کا شاخسانہ بنے اور جماعت اسلامی اس منزل کو پانے میں ایک کلیدی کردار ادا کرے
آمین یا رب العالمین
خالد قاضی