NUKTADAAN

Reading: ‏۷۷۔ علی امین گنڈاپور کا احسن اقدام
Reading: ‏۷۷۔ علی امین گنڈاپور کا احسن اقدام

‏۷۷۔ علی امین گنڈاپور کا احسن اقدام

admin
6 Min Read

نکتہ داں -۷۷

۱۱ اکتوبر ۲۰۲۴

علی امین گنڈاپور کا احسن اقدام

مجھے، محترم،  مرحوم پروفیسر غفور احمد صاحب کی یہ بات آج بہت یاد آرہی ہے۔ مرحوم نے PTV پر ، ایک مزاکرے میں فرمایا تھا، کہ ہمارے ادارے، سیاستدانوں کو کام ہی نہیں کرنے دیتے،  اور زور زبردستی سے تمام معاملات اپنی گرفت میں رکھ کر من مانی کرکے حالات بگاڑ دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ستر کی دہائی میں، سیاستدانوں کی آپس کی مخالفت ، دشمنی کی حد تک بڑھ چکی تھی لیکن جب ، یہی سیاستدان ، بنا کسی بیرونی مداخلت ، آپس میں بیٹھے،  تو معجزہ کر دکھایا۔ ان کا کہنا تھا، کہ تمام سیاستدانوں نے باہمی گفت شنید، مشاورت اور اتفاق سے جو آئین دیا ہے، اگر اس پر مکمل عمل کیا جائے تو وہ، پاکستان کی یکجہتی اور بقا کی ضمانت ہے۔

اگر آپ ستر کی دہائی کو یاد کریں تو پورا ملک ، پرو بھٹو اور اینٹی بھٹو قوتوں میں بٹا ہوا تھا۔ ہر سیاسی لیڈر اپنے ہم خیال کے علاوہ ، کسی کی بات سننے کو تیار نہیں نظر آتا تھا اور دونوں کیمپوں میں مخالفت برائے مخالفت کا اصول راج کر رہا تھا۔

آج کا سیاسی میدان بھی ستر کے حالات کو دہرا رہا ہے، ہاں اب شخصیت بدل گئی ہے، لیکن سماں ویسا ہی ہے۔

آج ملک پرو عمران خان اور اینٹی عمران خان میں بٹا ہوا ہے اور کوئی کیمپ ، اپنے مخالف کیمپ کی ایک بھی سننے کو تیار نہیں۔ وہی نا اعتباری وہی مخالفت برائے مخالفت ، کچھ بھی تو نہیں بدلا !

لیکن شاید ایک اچھی مطابقت بھی، ہوا چاہتی ہے۔

ستر کی دہائی میں جن لوگوں کو بھٹو ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا، اس کے ساتھ بیٹھے ، اپنی آرا پیش کیں، اسکے تخیل کو جانا اور پھر ، ایک دوسرے کی بات سے کچھ اتفاق، کچھ بڑا دل اور کچھ ایک دوسرے کر رجھا کر بات منوائی اور ایک متفقہ آئین تیار کرلیا۔

آج ، موجودہ حالات میں (میری رائے کے مطابق) عمران خان سے بھی بڑھ کر اگر کوئی متنازعہ شخصیت ہے تو وہ چیف منسٹر خیبر پختون خواہ جناب علی امین گنڈاپور ہیں۔

ہمارے طاقتور خاکی برداران، ہر کام تحکم ، طاقت اور نخوت سے کرنے کی عادت سے مجبور ہوکر ، خیبر پختون خواہ کی ابھرتی ہوئی سیاسی تحریک، “پشتون تحفظ موومنٹ” جو طالبان مخالف عوامی اتحاد ہے اور جو طالبان کے دوبارہ سرگرم ہوجانے کی پوری ذمہ داری خاکی برداران پر ڈالتی ہے اور اعلانیہ نعرہ لگاتے ہیں کہ “یہ جو دہشت گردی ہے، اسکے پیچھے وردی ہے” اس نعرے سے تلملائے ہوئے طاقتور صاحبان، PTM کا سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کے بجائے ، اسے زور زبردستی سے ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ہمارے وزیراعظم شہباز شریف ملک کے چیف ایگیکیٹو بن کر ہر معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے کی بجائے مشکلات کو (out source ) ٹھیکے پر دینے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ لہذا ٹھیکیدار نے کہا کہ اس تنظیم پر پابندی عائد کردو اور محترم شہباز شریف نے پرائم منسٹر نہیں بلکہ ایک ماتحت کی طرح حکم بجا لاتے ہوئے پابندی عائد کردیتے ہیں۔

خیبر پختون خواہ کی صوبائی اسمبلی ( جو صوبے کے عوام کی حقیقی نمائندہ ہے) نے اس عمل کی بھرپور مخالفت کی اور نہ صرف حکومتی بینچوں بلکہ اپوزیشن ممبران نے بھی یک زبان ہو کر اس پابندی کو آئین اور قانون کے خلاف گردانا۔

اب علی امین گنڈا پور حرکت میں آئے۔ انھوں نے طاقت کے بے جا استعمال (کہ جسکی وجہ سے PTM کے ۳ کارکن شہید کردئیے گئے اور درجنوں زخمی ہیں) کو غلط قرار دیتے ہوئے وزیراعلٰی ہاؤس میں کل جماعتی پشتون جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے صوبے کی تمام سیاسی قوتوں کے رہنماؤں ، وفاق سے زیادہ خاکی برداران کے نمائندے محسن نقوی اور گورنر اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو دعوت دی۔ اور پھر ،کمال اخلاص سے ، مدعو،  تمام لوگوں نے( ان میں وہ بھی شامل ہیں کہ جو علی امین گنڈاپور کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں اور گنڈاپور انکے خلاف ) نے بھرپور شرکت کی۔

جرگے کے اعلامیہ میں طاقت کے استعمال کی نفی کرتے ہوئے معاملات گفت شنید اور مکالمے سے حل کرنے پر زور دیا اور علی امین گنڈاپور کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے انھیں مزاکرات کا اختیار دیا ۔

ہم سب کیلئے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ،  ہمیں اپنی سوچ کو، اپنے اختلاف کو، اپنی رائے کو اور اپنے مخالف کو ، محض مخالفت برائے مخالفت کے شکنجے میں نہیں کسنا چاہئے۔ ہمارے پسندیدہ لیڈر یا غیر پسندیدہ لیڈران میں سب مکمل سفید یا مکمل سیاہ نہیں ہیں ۔ ان میں دونوں طرح کی خاصیتیں ہیں بالکل اسی طرح کہ جیسے ہم میں بھی اچھائیاں اور کچھ برائیاں بھی ہیں۔ چیزوں کو میانہ روی سے پرکھنا ہی بہتر ہے ورنہ ہم اپنی صحت، نفس اور مزاج کے دشمن بنے رہیں گے اور ہم سب محب وطن ہیں ہم بھی اور ہم سے مخالف رائے رکھنے والا بھی

وما علینا الا البلاغ

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے