NUKTADAAN

Reading: ‏۷۹۔ عمران خان کی رہائی
Reading: ‏۷۹۔ عمران خان کی رہائی

‏۷۹۔ عمران خان کی رہائی

admin
5 Min Read

نکتہ داں- ۷۹

۲۴ اکتوبر ۲۰۲۴

عمران خان کی رہائی

میرے ایک بے تکلف دوست نے مجھے لکھا، “او بھائی امریکی “ یہ بتاؤ کہ امریکہ میں کون جیت رہا ہے۔ ٹرمپ یا کمالا۔اور ٹرمپ کے جیتنے پر عمران خان کتنی جلد رہا ہوجائے گا ؟ انکے خیال میں امریکی کانگریس کا یہ مطالبہ کہ عمران خان کو رہا کیا جائے اور بائیڈن حکومت پاکستان پر پابندیاں عائد کرے بہت اہم پیش رفت ہے اور اس کا ضرور کوئی نتیجہ نکلے گا ، بس امریکی الیکشن ہونے دیں

میں نے اپنے بھائی جیسے دوست کو جواباً لکھا۔ کہ امریکہ میں مقیم امریکی پاکستانیوں نے پچھلے الیکشن میں بائیڈن کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اب، بائیڈن کی حالیہ فلسطینی پالیسی کے تحت، اسرائیل کی حمایت اور مسلمان کے مسلسل قتل عام پر خاموشی پر انھوں نے بائیڈن اور ٹرمپ، دونوں کو ووٹ نہ دینے کا اعلانیہ ارادہ کیا ہے۔ مسلمانوں کا اس دفعہ گرین پارٹی، کہ جسکا موقف فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی ظلم کے خلاف ہے، اسکی حمایت کا اعلان کیا ہے۔  یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ، امریکہ میں مقیم پاک- امریکیوں کی بہت بڑی اکثریت عمران خان کی حامی ہے۔

اب الیکشن سے کچھ پہلے، مسلمان ووٹروں کو رجھانے کیلئے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ پارٹیوں نے، یہ قرارداد پاس کروائی ہے

لیکن، حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکہ اپنے فیصلے ، اپنے فائدے اور اپنی پالیسیوں میں مدد فراہم کرنے والی اصل طاقتوں سے ڈیل کرکے کرتا ہے اور بس۔

امریکہ کا صدر کوئی بھی بنے، وہ امریکی پالیسی کی پٹری کی ٹرین کا ڈرائیور ہوتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ہاں اس کے ہاتھ میں گاڑی کی رفتار کو کنٹرول کرنا تو ہوتا ہے لیکن ٹریک بدلنے کا اختیار کم ہی ہوتا ہے۔ وہ لوگ اپنے فائدے کا فائدہ پہنچانے والی قوتوں سے معاملات طے کرتے ہیں ۔ باقی سب کہنے اور سننے کی باتیں ہیں۔

اب جب امریکہ کا نیا صدر آئے گا، “وہ جو بھی ہو”، پہلے حکومت بنائے گا، پھر اپنے دفاعی اور بین الاقوامی معاملات کی بریفنگ لیگا۔ اسے بتایا جائے گا کہ پاکستان میں ہماری مدد کی صلاحیت اور طاقت ، پاکستانی فوج کے پاس ہے، جمہوری حکومت کے پاس نہیں۔ اور جب نئی حکومت کی طرف سے پاکستانی جرنیلوں سے معاملات طے کئے جائیں گے، تو عمران خان کے معاملے میں انھیں کہا جائے گا، کہ آپ اس مسئلے کو بھول جائیے اور بس۔باقی امریکہ کے انسانی حقوق سے متعلق باتیں صرف کہنے، سننے کیلئے ہوا کرتی ہیں ، عملاً صرف اپنا فائدہ۔

ہمارے پی ٹی آئی کے چاہنے والے یہ بات نہیں سمجھ پا رہے کہ اس معاملے کا میدان پاکستان میں ہے، لہذا عمران خان کو رہا کرانے کے لئے انھیں  عمران خان کو رہا کروانے کیلئے  اپنی سیاسی جنگ پاکستان میں لڑنی پڑے گی امریکہ میں نہیں۔ اس لئے  بہتر یہ ہوگا کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کو بڑھانے کیلئے سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کریں۔ آپ ماضی قریب میں جھانکیں۔ الیکشن کے نتیجے کے بعد ، گو عوامی حمایت تھی لیکن سیاسی طور پر PTI بالکل تنہا تھی۔ اسکے بعد، PTI نے ماضی بھلا کر، مولانا فضل الرحمٰن سے ہاتھ ملایا۔ اس عمل کا انھیں سیاسی طور پر فائدہ ہوا ہے کہ نہیں ؟

دوسری اہم بات یہ کہ، PTI والے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ بھٹو کے معاملے پر ، دنیا کے تقریباً تمام سربراہوں ، انکی حکومتوں، انکی پارلیمنٹوں اور دنیا کے بڑے بڑے اسکالروں نے ضیا سے بھٹو کو پھانسی نہ دینے کی اپیل کی تھی ، لیکن نتیجہ کیا نکلا۔ ہاں اگر پاکستان کے اندر بہت بڑا عوامی احتجاج ہوتا تو شاید اس پھانسی کو روکا جاسکتا تھا۔ جس طرح ایوب دور میں فوجی حکومت نے محترم مولانا مودودی کی پھانسی کا حکم واپس لے لیا۔ ایوب کو مولانا سے محبت نہیں تھی، اپنی حکومت گرنے کا ڈر تھا اس لئے پھانسی نہیں دی جاسکی۔

ورنہ یہ جرنیل بڑے سفاک واقع ہوئے ہیں

بہرحال ہماری سمجھ تو یہی کہتی ہے لیکن

 پی ٹی آئی کے چاہنے والے ہم سے کہیں زیادہ سمجھدار ہیں ۔

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے