NUKTADAAN

Reading: ‏۸۰۔ اسکا حل کیا ہے ؟
Reading: ‏۸۰۔ اسکا حل کیا ہے ؟

‏۸۰۔ اسکا حل کیا ہے ؟

admin
8 Min Read

نکتہ داں -۸۰

۳۰ اکتوبر ۲۰۲۴

اسکا حل کیا ہے ؟

پچھلا ہفتہ شادی کی تقریب،  سفر کی تکان اور کچھ دوسری مصروفیات میں گزرا۔ آخری تقریب میسیچوسیٹس کے ہاؤس آف رپریزنٹیٹو،  جم میک گورن کے ساتھ عشائیہ تھا جو یہاں کے پاکستانی امریکن کمیونٹی کی ہر دلعزیز شخصیت کے گھر پر منعقد ہوا۔ طعام سے پہلے، دورانِ طعام  اور بعد از طعام،  امریکی الیکشن اور اس کے متوقع نتائج کے امریکی ایمیگرنٹس پر اثرات کا ذکر ووٹ بٹورنے کیلئے کیا جاتا رہا۔ کیونکہ موصوف ڈیموکریٹ ہیں لہذا وہ ٹرمپ کے جیتنے کی صورت میں خطرات بتاتے رہے۔

فلسطین کے ذکر پر، انھوں نے کمال ایمانداری سے تسلیم کیا، کہ سارے فیصلے سینیٹ کے ممبر کرتے ہیں اور انھیں یہودی لابیز نے خرید لیا ہے۔ سارا کھیل پیسے کا ہے۔

جہاں امریکی کانگریس کا نمائندہ ہو، وہاں عمران خان کی بات نہ ہو، امریکہ میں یہ ناممکن ہے۔لیکن موصوف سوائے تسلی کے اور کچھ نہ دے پائے۔ ظاہری بات ہے، جانے والی حکومت ایسے معاملات آنے والوں پر چھوڑتی ہے۔ اس وقت تو حکومتی اکابرین کا پورا دھیان الیکشن پر ہی مرکوز ہے۔ باقی اللٰہ اللٰہ ، خیر سلّا

میں گھر آکر عمران خان کے موجودہ حالات پر سوچتا رہا ۔

قطع نظر اسکے کہ عمران خان کی سیاست کے متعلق میرا موقف کیا ہے، یہ تو حقیقت ہے، کہ، حکومت سے بے دخل کئے جانے کے بعد ، عمران خان نے فوج کے متعلق عموماً اور جرنل باجوہ اور جرنل عاصم منیر کے متعلق خصوصاً ، جو زبان استعمال کی اور اپنے پیروکاروں کے “*عشقِ عمران*” کو ، جس بے دریغ طریقے استعمال کرکر کے ضائع کیا، اس نے ہماری مقتدرہ کو موقع عطا کیا کہ وہ تحریک انصاف کی سیاسی طاقت , کم سے کم کرنے کیلئے مختلف حربے، بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے استعمال کرے۔

نہ صرف کارکنوں کو ،چادر و چاردیواری کو پامال کرتے ہوئے،  بنا مرد و زن کی تفریق کے ، پابند سلاسل کیا گیا بلکہ ، تمام قیادت کو اغوا کر کر کے، ان سے ، سیاست اور تحریک انصاف ، دونوں کو خیرباد کرنے کے بیانات اور پریس کارنفرنسیں کر وائی گئیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر، ہماری مقتدرہ کیلئے ، عمران خان کو قید کیا جانا تو جزو لازم ہوچکا تھا۔ لیکن ، کیا ان پابندیوں سے عوام کے خیالات کو بدلا جاسکا ہے؟  یقیناً ایسا نہیں کیا جاسکا اور ایسا کیا بھی نہیں جاسکتا۔

میرے سیاسی ادراک کے مطابق، تحریک انصاف کو، اس پورے منظر نامے پر ٹھنڈے دل سے، علمی اور تدریسی بحث کرنے کی ضرورت ہے ۔

سیاست کے ایک ادنا طالبعلم کی حیثیت سے  میرا موقف یہ ہے کہ ، کسی بھی سیاسی جماعت کی طاقت اس کی عوامی  پزیرائی پر منحصر ہوا کرتی ہے۔ اور عوام اس سیاسی جماعت کے مرکزی رہنما کی محبت میں اکھٹے ہوکر ایک مضبوط اور منظم تحریک چلا نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس ہی حقیقت کے پیش نظر، مقتدرہ پہلا کام ہی یہ کرتی ہے کہ رہنما کو ہی کسی نہ کسی،  جائز یا ناجائز طریقے سے قید کرلیا جائے۔ اسکے بعد دوسری پیشرفت یہ ہوتی ہے کہ سیاسی جماعت کی نمبر دو اور تین درجے کی قیادت میں توڑ پھوڑ کی جائے۔ اسکے لئے بھی کئی ناجائز طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔

مجھے بھٹو صاحب کی حکومت کا تختہ الٹنے کا زمانہ یاد آ رہا ہے۔ بھٹو کے بعد اہم ترین لیڈران میں ، بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید، جو بھٹو کے بعد پارٹی چیئرمین بھی تھے۔ حفیظ پیرزادہ، غلام مصطفی جتوئی، مولانا کوثر نیازی، اور کئی قدآور شخصیات تھیں ۔ لیکن ان میں سے متعدد شخصیات ، متعدد وجوہات کی بنا پر ، بیک فوٹ پر چلیں گئیں اور عوام کو اکھٹا کرنے  کی وہ استطاعت نہ دکھا سکیں، جو اس وقت کی از حد ضرورت تھی۔

یہی حال، مجھے تحریک انصاف کا بھی لگ رہا ہے۔ آپ خود محسوس کریں گے کہ تحریک انصاف کے مختلف اکابرین کے بیانات کی دھن اور پچ، مختلف ہوا کرتی ہے۔ عوام جو بے چینی کی کیفیت کا شکار  ہیں، وہ ان بے ہنگم اور  متضاد بیانات سے بد دلی کا شکار ہوئے جارہے ہیں اور یہی مقتدرہ کی خواہش بھی ہے۔

ایسی صورتحال  کا مداوا نہ صرف پیپلز پارٹی ، بلکہ ANP اور PML N نے بھی کامیابی سے کیا۔

عوام کو مرکزی رہنما کے قید ہونے کی صورت میں ، صرف ایسی شخصیت ہی ، بد دلی سے بچا سکتی ہے جس پر ان کا مکمل اعتماد ہو ، کہ وہ،  نہ صرف پارٹی سے، بلکہ مرکزی رہنما سے بھی ، دھوکہ دہی  اور غداری کا،  ہرگز مرتکب نہیں ہوسکتا۔

اسکی مثال نہ صرف پاکستان میں ، بلکہ  دنیا بھر میں  گاہے بگاہے نظر آتی ہیں

پیپلز پارٹی نے ان ہی حالات میں، بیگم نصرت بھٹو کو پارٹی چیئرمین بنایا تاکہ پارٹی متحد رہے اور اسکا شیرازہ بکھرنے نہ پائے

خان ولی خان ، کے بھٹو دور میں، غداری کے جھوٹے مقدمے میں قید ہونے کے بعد، بیگم نسیم ولی خان کو میدان سیاست میں آنا پڑا ورنہ اس سے پہلے بیگم صاحبہ کا سیاست سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا

اور بیگم کلثوم نواز بھی اپنے خاوند کی قید و بند ختم کرنے کیلئے ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں سیاست کے میدان میں مجبوراً آئیں۔

ہندوستان ، سری لنکا، بنگلہ دیش ، فلپائن ، برما اور کئی دوسرے  ممالک بھی ایسے ہی واقعات کی نشاندہی کرتے ہیں

اب آپ غور کریں ، کہ اگر عمران خان کی جمائمہ سے علیحدگی نہ ہوتی، یا عمران خان کی اولاد پاکستان میں ہوتی ، تو کیا ان حالات میں ، جن سے عمران خان گزر رہے ہیں ان کی جان بچانے کی خاطر انکے اہل خانہ پیچھے رہتے ؟

اب بھی اگر عمران خان کی بہنیں پارٹی کی قیادت سنبھال کر، پارٹی کے دوسرے رہنماؤں کو ایک مرکزی لڑی میں پرو پائیں تو تحریک انصاف کے فیصلوں میں یکسانیت پیدا کی جاسکتی ہے۔

شاید اسی خوف کے پیش نظر عمران خان کی بہنوں کو بھی قید کردیا گیا ہے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے