نکتہ داں۔۸۱
۱۵ نومبر ۲۰۲۴
یہ ننگے لوگ
سمجھ نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کروں۔
کیا اس ذکر سے شروع کروں ، کہ قائداعظم اور لیاقت علی خان کو کس ننگی سازش کے ذریعے راستے سے ہٹایا،
کہ یہ بتاؤں کہ محترمہ، فاطمہ جناح کو کس دھاندلی سے ہرا کر بددیانتی کی۔
یا پھر اس مدہوش حکمرانی کا ذکر چھیڑوں کہ جو خود صدارت پر جمے رہنے کے چکر میں کوئی سیاسی مصالحت نہ کرسکا اور ملک تڑوا بیٹھا اور ملک ٹوٹنے کے بعد بھی صدارت پر جمے رہنے پر مُصر رہا ۔
یا پھر اس منافقانہ طرز عمل کی کہانی سناؤں کہ جو پہلے احتساب کا نعرہ لگا کر 11 سال تک اسلام بیچتا رہا۔
یا اس کے ذکر سے بات شروع کروں جو تمغہ جمہوریت سینے پر سجا کر بےشرمی سے جمہوریت کے خلاف سازشیں کرتا رہا
یا پھر اس فرعون کی کتھا سناؤں جو پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر، امریکہ کے ہاتھوں ،(اپنی گدی کی خاطر ) ملک کو بیچ ڈالا اور ڈالروں کے عوض اس دھرتی کے سپوتوں کو امریکہ کے حوالے کرتا رہا۔
یا پھر اس کا ذکر چھیڑوں کہ جس نے اپنے ہی باس کے خلاف سازش کرکے، وکلا تحریک چلوائی اور باس کو بے بس کر کے دو مدتوں تک چیف بنا اور مال بنا کر آسٹریلیا کے جزیرے میں غائب ہوگیا۔
یا اس خود پرست کا ذکر کروں جو اپنی مدت میں توسیع کی خاطر جمہوری حکومت کیلئے روز نئی سازش کرتا رہا اور بالآخر ریالوں سے راضی ہوا
شاید یہ سب کچھ ہم بھول جاتے لیکن یہ سلسلہ ختم ہونے کو آ ہی نہیں رہا۔
کیونکہ اس دفع جو سپہ سالاری پر تھا اسے اندازہ تھا کہ اسے کسی صورت توسیع نہیں ملنی، لہٰذا حکومت ہی گرادی جائے اور کوئی ایسا چہیتا لایا جائے جو ربڑ اسٹیمپ بنا رہے۔ بولے چاہے کچھ بھی لیکن ، کام وہ ہی کرے جو اسے کہا جائے۔
لیکن تیسری مدت کیلئے اسے اپنے ہی ماتحت کی سازش کا شکار ہونا پڑگیا۔ دو جنرلوں کی لڑائی میں ایک وزیراعظم حکومت گنوا بیٹھا۔
اس افراتفری میں نہ جمہوریت رہی، نہ معیشیت
سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔
ایک نے جاتے جاتے اعلانیہ مانا کہ ہم شروع ہی سے اپنے حلف اور ملک کے آئین کے خلاف سیاست کرتے رہے ہیں لیکن اب ہمارے ادارے نے فیصلہ کیا ہے کہ سیاست نہیں کریں گے
اندھے کو بھی نظر آرہا ہے کہ یہ سیاست سے باز نہیں آئے
عمران کا خوف اسقدر طاری ہے کہ اسے عوام سے کسی قسم کے رابطے سے منقطہ کرنے کیلئے، عدالت جیل ہی میں لگادی ہے۔
لوگوں کو غائب کرنے والے یہ ننگے لوگ ، جبر ، دہشت، ظلم کر کر کےبڑی ڈھٹائی سے یہ اعلان کرواتے ہیں کہ جناب ہم نے سیاست چھوڑ دی ہے۔
یہ کیسے لوگ ہیں ، انھیں کیسی تربیت دی جاتی ہے، انکی ٹریننگ میں یہی ہے کہ اپنی ڈات کیلئے نہ ملک کی پرواہ کرو، نہ کسی آئین کو مانو، نہ کسی قانون کا احترام کرو ۔ بس فرعون بن کر عقل کل ہونے کا اعلان کرتے رہو۔
یہ بے ضمیر لوگ، چاہے کسے حلیے میں کیوں نہ ہوں یہ اپنی ذات سے آگے دیکھنے کی صلاحیت ہی سے محروم ہیں۔
ابتدا ہی سے دیکھ لیں، چاہے یہ بظاہر بڑے کروفر والے دکھائی دیں، چاہے عیاشی و مدہوشی انکا شعار ہو، یا بظاہر اسلام کا نام لے لے کر متقی بنتے ہوں، یا روشن خیالی کا روپ دھارے ہوے ہوں یا پھر حافظ قرآن ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوں، انھیں خدا کے خوف سے کوئی سروکار ہے ہی نہیں۔
اگر مرنے کا خوف ہوتا تو یہ لوگ ، کوئی ماں کا بیٹا لاپتہ نہ کرتے۔ جبکہ ہزاروں لاپتہ افراد کیلئے، کئی مائیں ، کئی بیویاں ، کئی بہنیں، کئی بیٹیاں اپنے پیاروں کے انتظار میں اپنے گھروں کے دروازے تک تک کر ہلکان ہو چکی ہیں۔
انھیں کسی مواخذے ، کسی قانون اور کسی عدالت کا خوف نہیں۔
کیا یہ سب اسی طرح چلتا رہے گا ؟
نہیں کبھی نہیں، صبح طلوع ضرور ہوگی، رب کے پاس دیر ضرور ہے، اندھیر نہیں
پاکستان کے باشعور لوگ انھیں انکے انجام تک ضرور پہنچائیں گے انشااللہ
خالد قاضی