NUKTADAAN

Reading: ‏۸۲۔ حکومت اپنے چکر میں اور پیپلز پارٹی اپنے چکر میں توسیع پر متفق
Reading: ‏۸۲۔ حکومت اپنے چکر میں اور پیپلز پارٹی اپنے چکر میں توسیع پر متفق

‏۸۲۔ حکومت اپنے چکر میں اور پیپلز پارٹی اپنے چکر میں توسیع پر متفق

admin
9 Min Read
Opposition Pakistan People's Party (PPP) Senator Raza Rabbani (2nd R, seated), a candidate for the country's upcoming presidential election, speaks while flanked by party leaders Ameen Fahim (2nd L), Aitzaz Ahsan (L) and Khurseed Shah (R) during a news conference in Islamabad on July 26, 2013. Pakistan's main opposition party announced July 26 it would boycott next week's presidential election to protest against the vote being brought forward without consultation. The Supreme Court ruled Wednesday that the ballot would be held on July 30 instead of August 6 after the main ruling party complained that the original date clashed with the end of Ramadan. AFP PHOTO / AAMIR QURESHI

نکتہ داں -۸۲

۸ نومبر ۲۰۲۴

حکومت اپنے چکر میں اور پیپلز پارٹی اپنے چکر میں توسیع پر متفق

قاضی صاحب آپ بات سمجھ نہیں رہے۔ یہ قانون پاس کرنا اشد ضروری تھا۔ آپ کو مرحوم جرنل حمید گل  کا وہ تاریخی انٹرویو تو یاد ہوگا، کہ جس میں انھوں نے TV پر انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں آرمی چیف، وزیراعظم کی منظوری سے نہیں بلکہ امریکہ کی منظوری سے مقرر ہوتا ہے۔

آپ بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ حالیہ قانون سازی، جسکی وجہ  سے مسلح افواج کے تینوں چیفس کی مدت ملازمت ۳ سال سے بڑھا کر ۵ سال کرنا،  امریکہ میں ٹرمپ کے صدر بننے کے خوف کی  وجہ سے ضروری ہوگیا تھا۔

میُں مسکراتا رہا لیکن انکے چہرے پر سنجیدگی نمایاں تھی۔

میں نے سوال کیا کہ محترم کہاں ٹرمپ کی کامیابی اور کہاں پاکستان کے سروس چیفس کی مدت ملازمت کا بڑھایا جانا۔ کیا ربط ڈھونڈ لیا آپ نے ان دونوں میں ؟

فرمانے لگے، دیکھیں جنرل عاصم منیر کی تقرری ایک اضطراری کیفیت میں ہوئی تھی ، وہ امریکہ کی ترجیح ہرگز نہیں تھے۔

جب جرنل عاصم چیف بنائے گئے اس وقت،  ایک طرف عمران خان امریکہ پر الزامات کی بوچھاڑ کئے ہوئے تھا تو دوسری طرف،۳ جرنیلوں کی دوڑ بھی جاری تھی۔ باجوہ دوسری توسیع چاہ رہا تھا ، فیض کی پلاننگ لمبی تھی،اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ملک میں تحریک انصاف کے حامی  ہنگامے کر رہے تھے  ، اس ساری صورتحال کے پس منظر میں، ن لیگ “خوف عمرانی” کے زیر اثر، جرنل عاصم منیر کی پناہ چاہ رہی تھی ۔ امریکہ تو خان کے الزامات کی وجہ سے پہلے ہی ناراض تھا لہذا نا چاہتے ہوئے بھی اس نے جرنل عاصم منیر کی تقرری پر خاموشی اختیار کئے رکھی۔ لیکن اب، صورتحال مختلف ہے اور COAS کی نشست پر وہ اپنے من پسند جرنل کی تقرری چاہے گا۔ اور ٹرمپ کے منتخب ہوجانے سے تو دباؤ اور زیادہ پڑے گا۔ اس پوری صورتحال کا مداوا یہی تھا کہ فوجی سربراہ کی مدت ۳ سال سے بڑھا کر ۵ سال کردی جائے۔ اس طرح اب ٹرمپ مداخلت کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گا۔

میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ افسانہ تو خوب گڑھا ہے آپ نے لیکن نہ اس کا کوئی سر ہے نا پیر۔ بولے وہ کیسے

میں نے انھیں کہا بھولے بادشاہ ، اگر تمھارا کوئی پروجیکٹ چل رہا ہو، جسے کرنے کیلئے تم نے کوئی ادارہ بہت بڑی رقم کے عوض مستعار لیا ہوا ہو، تو تمھاری خواہش کیا ہوگی ؟ تمھاری خواہش ہوگی کہ تمھارا پروجیکٹ ۱۰۰ فیصد کامیاب ہو، کیونکہ پروجیکٹ کی کامیابی کیلئے تم ایک خطیر رقم بھی خرچ کر رہے ہو۔ اور جس ادارے کے ذریعے کام کروایا جا رہا ہے، اسکی افرادی قوت کی ٹاپ مینیجمنٹ کے متعلق تمھیں علم ہو کہ فلاں بندہ کس قدر لائق ہے اور فلاں شخص کن کن صلاحیتوں کا مالک ہے۔ تو اس وقت تم اس ادارے سے کہو گے کہ میرے پروجیکٹ کو فلاں شخص لیڈ کرے ۔ چونکہ ادارہ تم سے ایک خطیر رقم لے رہا ہے، اسلئے تمھیں اس کی ہدایت کے مطابق ، پروجیکٹ مینجر رکھنا پڑے گا۔

اب مجھے بتاؤ کہ اس خطہ عرض پر،  سوویٹ یونین کے خاتمے اور پھر طالبان کی دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کے بعد، اب اور کونسا نیا پروجیکٹ امریکہ کیلئے رہ گیا ہے جسے مکمل کرنے کیلئے امریکہ کو آپکی فوج کی مدد درکار ہو۔ اس وقت تو، چین امریکی اعصاب پر سوار ہے اور اس کو قابو میں رکھنے کیلئے امریکہ کا مطلوب ہندوستان ہے، پاکستان نہیں ہے۔اور صاحبو اس وقت امریکہ کو پاکستان کی فوج کی افرادی قوت درکار نہیں ہے، ضرورت اس وقت کاروباری ہے، جسے کوئی بھی آرمی چیف بصد رضا و رغبت انجام دینے کیلئے کمر بستہ نظر آئے گا، کیونکہ ان لگوں کی تربیت ہی “یس سر” کہنے اور سلوٹ کرنے کی ہوتی ہے۔

میری یہ توجیہہ سن کر انھوں نے سوال داغا کہ پھر آپکے خیال میں کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ مدت ملازمت بڑھانے کا قانون پاس کیاُ گیا ؟

میں نےعرض کی ، اس سوُال کے جواب کی تلاش ہی میں تو آپ کا در کھٹکٹایا ہے۔

ہنس کر بولے، بابا معاف کرو

میں نے کہا کہ “آئے ہیں تیرے در پے تو کچھ لیکے جائینگے”۔

یوں یہ گفتگو آگے بڑھی ۔ اس دوران گرم گرم چائے بھی آگئی اور ساتھ میں سموسے بھی

میں نے بات بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت عمران خان کی پالیسی نے اسکے تمام مخالف سیاسی کرداروں کو یکجا کر دیا ہے، حالانکہ الیکشن کا نتیجہ آتے ہی PPP نے PTI سے حکومت کی تشکیل کیلئے رابطہ کیا تھا، اگر اس۔ موقعے سے PTI فائدہ اٹھاتی تو PM بھی اسکا ہوتا اور عمران بھی باہر ہوتا ، اندر نہیں۔

اب حالت یہ ہے کہ عمرانی خوف سے لرزاں ن لیگ اور PPP دونوں کے اوسان خطا اور سوچنے سمجھنے کی قوت جاتی ہوئی لگ رہی ہے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے جرنیل   اپنی طاقت میں اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں جبکہ ن لیگ پنجاب(جو اسکا گڑھ سمجھا جاتا ہے)  میں اپنے وجود کو قائم رکھنے کی خاطر بلیک میل ہورہی ہے، جبکہ PPP کا مخمصہ یہ ہے، کہ اس کے مطابق۔ ہر  نیا جرنل اپنا مزاج، اپنی سوچ اور اپنی پسند رکھتا ہے، لہذا اگر بلاول کو  پرائم منسٹر  بنانا ہے تو شاید جرنل عاصم منیر ہی کی موجودگی میں بن پائے ورنہ نئے جرنیل پر نئے سرے سے، نئی محنت کرنی پڑے گی۔

اس بات پر انکا تبصرہ تھا کہ، اس کے علاوہ اور کیا بھی ، کیا جاسکتا ہے ؟

میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا، کہ یہ دونوں پارٹیاں ذرا سی ہمت دکھائیں تو جرنیلوں کو بلیک میل کیا جاسکتا ہے نہ کہ خود  دباؤ میں آجاتے !

بولے وہ کیسے ؟

میں نے کہا کہ سیاسی لوگ سیاست کو ہتھیار بنایا کرتے ہیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ عمران خان سے خود خوفزدہ ہونے کے بجائے جرنیلوں کو خوفزدہ کرتے کہ دیکھو اپنے دائرے اور حدود میں رہو۔ ہمیں اپنی فکر نہیں ہے، تم اپنی فکر کرو اگر عمران آگیا تو ہمارا اس نے پہلے کیا بگاڑ لیا تھا جو اب اور بگاڑلے گا۔ اور عدلیہ کے اندر جو انقلابی میلانات سامنے آرہے ہیں وہ حکومت کیلئے مثبت ہوتے نظر آرہے ہیں ، منفی نہیں۔

اب اس قانون سے ہوگا یہ کہ فوج کے دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت میں بد دلی بڑھے گی ، فوج کے پہلے درجے کی قیادت کو رام رکھنے کیلئے، چیف اپنی آنکھیں بند رکھے گا اور کرپشن میں حد درجہ اضافہ ہوگا۔ اور فوج کے حلقوں کی یہ بے چینی کوئی بھی رخ اختیار کرسکتی ہے۔

میرے خیال میں ، اس قانون سے پاکستان کا فائدہ نہیں نقصان ہی نقصان ہے۔

اللٰہ ہمارے رہنماؤں کو عقل سلیم اور ہمارے ملک کو سلامت رکھے

آمین یا رب العالمین

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے