نکتہ داں-۸۴
۲۶ نومبر ۲۰۲۴
حکومت ہو یا حزب اختلاف، سب نے عقل طاق پر سجا رکھی ہے
اس میں اچھنبے کی کونسی بات ہے، کہ جب کوئی سرمایہ دار، اگر کسی ملک میں سرمایہ کاری سے نفع کمانے کا سوچتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس ملک میں اپنے سرمائے کے محفوظ ہونے ، اس ملک کے امن و امان ہونے، قانون کی پاسداری ہونے ، ہنگاموں سے آزاد اور سیاسی طور پر پائیدار، علاقے یا ملک کا چناؤ کرتاہے۔
اور اس میں بھی کسی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اگر کوئی حکومت، اپنے ملک میں بیرونی سرمایہ لاکر معیشیت کو بہتر کرنے کی خواہش رکھتی ہے تو اسے اپنے ملک کی، دنیا میں ایسی تصویر پیش کرنی ہوگی کہ سرمایہ دار مطمئن ہوسکے۔
اب اس پس منظر میں، اگر ہم، پاکستان کے حالات ، حکومت کے اقدامات اور اپوزیشن کے نظریات کا مطالعہ کریں تو سیاسی یا معاشی استحکام کا امکان دور دور تک نظر نہیں آئے گا۔
پاکستان کا، اس کے دارلخلافہ اسلام آباد سے رابطے کے تمام زمینی ذرائع بند کر دینا، ہر جگہ کنٹینر لگا لگا کر خوف اور بے یقینی کی فزا قائم کرنا، میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسر لاگو کرنا، انٹر نیٹ اور واٹس ایپ کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دینا اور حکومتی عہدہ داران کی فوج ظفر موج، کے بیانات، ڈر، خوف اور غلو کا مغلوبہ نظر آتے ہیں ، گویا یک زبان ہو کر کہہ رہے ہوں کہ :
“جال تو، جلال تو +++ آئی بلا ٹال تو”
اتنی خوفزدہ حکومت، ماضی قریب میں، مجھے تو نظر نہیں آئی۔
دوسری طرف، تحریک انصاف ، کے اقدامات کا غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو، مندرجہ ذیل، تصویر، سامنے آتی ہے
۱- قیادت کے منظّم اور یک زبان ہونے کی نفی ہوئی ہے
۲-گو تحریک انصاف، ایک وفاقی پارٹی ہے لیکن اس کے احتجاج کا لاوا محض ایک صوبے “خیبر پختون خواہ” میں واضح طور پر ابلتا دکھائی دیتا ہے۔ پنجاب میں رد عمل واجبی جبکہ سندھ اور بلوچستان میں محض حاضری لگاتا نظر آتا ہے۔
۳- خیبر پختون خواہ میں بھی تحریک انصاف کی حکومت ہونے کی وجہ سے چونکہ کوئی انتظامی سختی اور پابندی نہیں ہے، اسلئے وہاں احتجاج آزادی سے کیا جارہا ہے،،،
یہ صورتحال اس بات کو پوری طرح واضح کر دیتی ہے کہ، پچھلے دو سال سے تحریک انصاف اور عمران خان کی حمایت ، سندھ میں محض کراچی، پنجاب میں وسطی اور بالائی پنجاب کے شہروں اور بلوچستان میں فقط ظاہری حمایت کے “ *عوامی اظہار* “میں نمایاں کمی محسوس کی گئی ہے۔ بقول مرزا غالب
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا سو وہ لہو کیا ہے
یعنی، آپ کی دلوں میں حمایت ضرور ہوگی لیکن اس حمایت کا عملی اظہار، اگر نہ ہوسکا تو اس محبت کو جیب میں رکھیں، کیونکہ ایسی محبت کسی کام کی نہیں
لیکن اس عوامی بد دلی کی ایک وجہ، عمران خان کے تواتر کے ساتھ غیر منطقی فیصلے، گفت شنید کے ذریعے اپنی سیاسی قوت میں اضافے اور ملک کے حقیقی لیکن غیر آئینی حکمرانوں کو اکیلا کردینے اور انکی کسی طرف سے بھی ، ہر قسم کی سیاسی حمایت کے دروازے بند کر دینے کی حکمت عملی پر عمل کرنے کے بجائے، اپنی بے وجہ کی بھڑکوں ، گفت شنید سے انکار اور کم سے کم اتفاق تلاش کرکے، ساری سیاسی قوتوں کو مجتمع کرنے کی حکمت سے ناآشنائی نے، عمران خان کے سارے مخالفوں کو بمعہ اسٹیبلشمنٹ یکجا کردیا ہے۔
جب مکہ کے کافروں کے یکجا ہوکر حملے کی خبر پہنچی، تو نہ صرف دفاعی خندق کھودی گئی تھی بلکہ مدینہ کے غیر مسلم اور یہودی طاقتوں سے بھی گفت شنید کرکے ، ہر قسم کے اندرونی خطرے کے تدارک کا اہتمام کیا گیا تھا
لیکن اتنی سمجھ نہ عمران خان میں ہے اور نہ اسکے چاہنے والوں میں ۔ انھیں تو بس چور چور کہنے سے ہی فرصت نہیں ملتی اور اسی میں وہ اپنی سیاسی ناکامیوں کا غم غلط کرکے کچھ سکون تلاش کرتے نظر آتے ہیں
خالد قاضی