نکتہ داں ۸۵
۳۱ دسمبر ۲۰۲۴
خاموش انقلاب کی کہانی
غیر حاضری تو واقعی بہت لمبی تھی، لیکن وجہ اسکی ، سفر تھا۔ بزرگوں کا قول ہے “سفر باعث ظفر”۔یعنی سفر کے دوران علم و آگہی ، حاصل ہوجائے تو یقیناً اسے کامیاب سفر کہا جائے گا۔
پاکستان جانے کی وجہ تو اقربأ میں شادی تھی، لیکن موقع غنیمت جانتے ہوئے، ہم نے عمرہ ادا کرنے کا ارادہ بھی کرلیا۔ لہذا ہماری پہلی منزل سعودی عرب میں حرمین شریفین تھے۔
میری مشاہدے کے مطابق، پچھلے ۷ سال کے عرصے میں سعودی عرب نے اپنی معاشی اور معاشرتی صورت، قدرے بدل لی ہے اور پچھلی ایک دہائی کے دوران ہر اس شخص کو، کہ جسکا تعلق کسی ناطے سے سعودی عرب سے رہا ہو، اسے یقیناً پچھلے اور آج کے سعودی عرب میں ایک خوشگوار تبدیلی محسوس ہوگی۔
خوشگوار تبدیلی ترقی پسند لوگوں کیلئے جبکہ قدامت پسند افراد کہ جنکی تعداد میرے مشاہدے کے مطابق قدرے کم ہے کو یہ تبدیلی قہر خدائی محسوس ہوتی ہے
چونکہ میں سعودی عرب میں ۲۸ سال رہ چکا ہوں اور سعودی عرب سے نقل مکانی کے بعد بھی اپنے سعودی دوستوں کا حلقہ یاراں میرے رابطے میں رہا ہے اس لئے میری آمد کا سن کر دوست اور ماتحت جوق در جوق ملنے آئے۔
سعودی شہریوں کا ایک خاصہ یہ بھی ہے، کہ وہ سیاست اور معاشرت پر ،اس وقت تک بات نہیں کرتے جب تک انھیں اپنے مخاطب کے متعلق کامل اطمینان نہ ہو۔ اور اگر وہ غیر سعودی ہے تو انھیں اطمینان جلد میسر آجاتا ہے۔
میرا سوال بہت سادہ اور سیدھا تھا، کہ سعودی عرب معاشی اور معاشرتی طور پر جس سمت میں جارہا ہے، کیا تم مطمئن ہو۔
سوال کے پہلے حصے پر ہر ایک متفق نظر آیا، کہ واقعی معاشی طور پر ہماری سمت بالکل درست ہے اور ہمارے معاش کا دارومدار اب محض تیل کی فراوانی پر نہیں رہا، بلکہ، پیداواری میدان میں پچھلے چند سالوں میں ہم نے درآمدات پر انحصار کم کرنے اور اپنی استعداد بڑھانے کی پالیسی پر مسلسل پیش رفت کی ہے اور متواتر کر رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے سعودی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کثرت سے مل رہے ہیں۔
سعودی عرب کی نصف سے زیادہ آبادی خواتین کی ہے اور اس بڑے نصف کا نوے فیصد گھروں میں براجمان رہتا تھا لیکن محمد بن سلمان نے، سعودی معاشرت میں جوہری تبدیلی لاکر خواتین کیلئے زندگی کے ہر شعبے میں ملازمت کے دروازے کھول دئیے ۔ اب سعودی ائیرپورٹ پر ایمیگریشن کی تقریبا ۸۰ فیصد ذمہ داری خواتین انجام دے رہی ہیں۔ شاپنگ سینٹرز پر سیل گرلز خواتین ، ٹرین سٹیشن کے ٹکٹ کاؤنٹر پر خواتین ۔ ہوٹل کے ریسیپشن پر خواتین ، غرض زندگی کے ہر شعبے میں آپکو خواتین کام کرتی نظر آئیں گی۔ اور اس تبدیلی سے ایک بہتری اور آئی ہے جو آپکو ضرور محسوس ہوگی۔ وہ یہ کہ اب سعودی جوان کام چور نہیں رہا ۔ وہ اپنی ڈیوٹی پہلے سے قدرے بہتر انداز میں انجام دیتا نظر آتا ہے
میں نے سوال کیا کہ وہ کونسی بات ہے کہ جس سے کام کرنے کی استعداد میں خاصہ اضافہ نظر آرہا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ، اب سعودی عرب میں سفارش کا کلچر ختم کردیا گیا ہے، نظام پر سختی سے عمل ہوتا ہے اور جزا اور سزا ِبنا کسی رعایت کے لاگو ہوتی ہے اس لئے سب کام کر رہے ہیں۔ انصاف کے نظام میں بھی ایک جوہری تبدیلی لائی گئی ہے۔ اب پچھلے ادوار کی طرح ، حکومت جسے چاہے جب تک چاہے قید نہیں کرتی۔ اب ایسا نہیں ہے۔بلکہ اب ملزم وکیل کرکے اپنا مقدمہ لڑ کر قانون کے مطابق سہولت حاصل کرتا ہے۔
ہاں سیاسی عمل میں عوامی شمولیت ابھی بھی دور کی بات ہے۔
یہ کہا جاسکتا ہے کہ خلیجی ریاستوں، خاص کر دوبئی میں وہاں کے باشندوں کو جس قدر معاشرتی آزادی حاصل ہے، سعودی عرب بھی اس ہی سمت بڑھ رہا ہے۔ ہاں سیاست کے میدان میں جو بندشیں پورے خلیج عرب کی ریاستوں پر لاگو ہیں سعودی عرب بھی اسی پالیسی کو اپنائے ہوئے ہے
سوشل میڈیا پر حرمین شریفین کی حرمت کے برخلاف، سینما گھروں یا موسیقی کے پروگراموں کی
خبریں بہت دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
ثقافتی آزادی دوسرے شہروں میں ضرور ہے لیکن حرمین شریفین میں ایسا کچھ نہیں۔
پچھلی ایک دہائی میں سعودی عرب نے سیاحتی میدان میں بے انتہا ترقی کی ہے اور اپنے شمالی سیاحتی علاقوں میں سہولیات کی فراوانی میسر کرکے سیاحت میں قدرے اضافہ کیا ہے
سعودی عرب کا قدامت پسند شہری ، گو معاشی ترقی سے تو خوش نظر آتا ہے لیکن اس معاشی ترقی کیلئے جو معاشرتی آزادی دی گئی ہے اسے وہ ایک نظر بھی پسند نہیں کرتا۔ وہ خواتین کے ہر شعبہ زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کو ایک شیطانی عمل تصور کرتا ہے اور اسے ڈر ہے کہ اللہ کا عذاب کسی وقت ہمیں پکڑ سکتا ہے۔
جب میں نے اس نکتے کی طرف اپنے ترقی پسند سعودی دوست کی رائے لی، تو اس نے بڑا معنی خیز جواب دیا۔ اس نے کہا ، کہ کیا محمد بن سلمان سے پہلے، جب قدامت پسندوں کا راج تھا، تو تمام خواتین فرشتہ صفت تھیں ؟ خراب خواتین سات پردوں میں بھی ہیں اور پاکباز خواتین مردوں کے درمیان کام کر کے بھی اپنے وقار کو قائم رکھ سکتی ہیں ۔ اس کاتعلق کام سے نہیں تربیت سے ہے۔
جدہ ائیرپورٹ سے مدینہ منورہ کا ٹرین سے سفر ایک بہت خوشگوار تجربہ تھا۔ ۳۰۰ کلومیٹر کی رفتار سے دو گھنٹے میں مدینہ منورہ بنا کسی تھکن کے پہنچ جانا بہت اچھا لگا۔ تجربے اور آگاہی کیلئے میں نے ٹرین کے دونوں درجوں میں سفر کیا۔ جاتے ہوئے بزنس کلاس اور واپسی پر اکانومی میں سفر میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوا ۔ بزنس کلاس میں قہوہ اور کھجور سے تواضع اچھی لگی لیکن جو کھانا پیش ہوا وہ بالکل بھی بزنس کلاس کے لائق نہیں تھا بلکہ ذائقے میں بھی واجبی سا تھا
مدینے میں کراؤڈ مینیجمنٹ کے نام پر خواہ مخواہ کی جو بندشیں زائرین پر لاگو کردی گئیں ہیں وہ تھکا دینے والی ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے زائرین، جو لاکھوں خرچ کرکے دور دراز کے ممالک سے آتے ہیں کچھ ان کے آرام کو بھی مد نظر رکھا جائے
یہی حال مکہ مکرمہ میں حرم شریف میں بھی ہے۔ یہ درست کہ توسیع کا کام چل رہا ہے۔ تو توسیع کے کام کے دوران عمرے کے کم ویزے جاری کئے جانے چائیں ۔ یہ کیا کہ سوائے عمرے کے، طواف صحن میں ممنوع کردیا جائے اور اوپر طواف کے دوران کعبہ کا کہیں دور تک نام و نشان بھی نظر نہ آئے۔ یہ کیسا طواف ہوگا ؟
ہر طرف آپ نے دیواریں کھڑی کردیں ہیں، میرے خیال میں یہ اس غریب حاجی کے ساتھ زیادتی ہے جو اپنی جمع پونجی خرچ کرکے کعبے کی زیارت کو آتا ہے۔
طائف میرے تینوں بچوں کی جائے پیدائش ہے اور یہ شہر میری جوانی کی یادوں سے مزین رہا ہے
میرے عزیز دوست ڈاکٹر غلام محمد جویو نے طائف کے تمام دوستوں کو مدعو کرکے دعوت کا اہتمام کیا ۔ پاکستان ڈائریکٹر جرنل حج جناب عبدالوہاب سومرو بھی جدہ سے تشریف لائے۔
حجاج کے بہتر انتظامات کی تفصیل اور دوستوں سے پرانی یادوں کے ذکر نے اس محفل کو یادگار بنا دیا۔
سعودی عرب میں عمرے کا شرف ایمان اور قرب الٰہی کے جو امکانات پیدا کرتا ہے اس کے ذکر کیلئے الفاظ ساتھ نہیں دے پاتے انھیں صرف محسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
ہماری اگلی منزل کراچی تھی ۔ وہاں کی مصروفیات کا ذکر انشااللہ اگلے کالم میں
خالد قاضی