نکتہ داں -۸۶
۴ جنوری ۲۰۲۵
ملیر میں اجتماعی سزا
زندہ قومیں، اپنے معاشرے کو تہذیب ، علم ، عمل، ترقی ،ایمانداری، خلوص، باہمی خیال اور صحت سے مزین کرنے کیلئے، محض زبانی جمع خرچ نہیں کیا کرتیں بلکہ ان تمام عناصر کا شعور، پہلی جماعت سے، طلبأ کے تدریسی نصاب، مدارس کے ماحول میں اور گھر محلے کے اطراف، گاؤں اور شہروں میں بھی بلدیاتی قوانین کے عملی طور نفاذ کی وجہ سے ، انھیں شہری قوانین پر عمل کرنا، انکی زندگی کا ایک معمول بن جاتا ہے۔
اور یہی چیز ہم پاکستانیوں میں دور دور تک ، نہ صرف نظر نہیں آتی بلکہ ہمارا ماحول ہمیں قانون توڑنے کی ترغیب دلاتا ہے۔ہمارا نظام غلط کام کرنے والے کو روکنے کے بجائے پورے معاشرے کو ایک عادی مجرم تصور کرتے ہوئے اسے اجتماعی سزا دینے کا انتظام کرتا ہے۔
یہ اتنی لمبی تمہید مجھے اس لئے باندھنی پڑی کیونکہ، کراچی اور اسلام آباد کے گزشتہ دورے میں ، میں اس اجتماعی سزا کے عذاب سے گزر کے آیا ہوں۔
کراچی میں میرا قیام کراچی کے محفوظ ترین گردانے والے علاقے ملیر میں تھا۔ یہاں کی حدود میں داخلہ بھی ایک صبر آزما عمل ہے، لیکن میرے میزبانوں نے اس کا اہتمام میرے داخلے کا( ایک مہینے کی مدت کا) کارڈ بنواکر کرلیا تھا۔ لیکن میری کار کو ہر دفعہ تفتیش کے عمل سے ضرور گزرنا پڑتا تھا۔ ملیر کی سڑکوں پر آپ کی مجال نہیں ہے کہ آپ گاڑی ذرا بھی تیز چلا سکیں۔ فوراً ایک سپیڈ بریکر آپکی لگام کھینچ لے گا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ تیز رفتاری پر صرف اس شخص کو سزا دی جائے جو اسکا مرتکب ہو، جا بجا سپیڈ بریکر لگا کر، ہر ایک کو اجتماعی سزا کہیں نہیں دی جاتی۔ دنیا بھر میں کہیں بھی ہر ۵۰۰ گز کے بعد سپیڈ بریکر نہیں ہوا کرتا۔ سڑک پر سپیڈ کا بورڈ آویزاں ہوتا ہے اور ہر کوئی اسی رفتار سے گاڑی چلاتا ہے۔ تیز رفتاری کیلئے کیمرے نصب ہوتے ہیں جو فوراً نشاندہی کرکے جرمانا نافذ کرتے ہیں۔
میرے اشتعال کی وجہ در اصل یہی ہے، ملیر میں یہ انتظام موجود ہے۔ کیونکہ نصف شب کے بعد، جب میں کسی دعوت سے واپس آیا تو میرے ڈرائیور نے کہیں کچھ دیر گاڑی تیز چلائی، اور صبح ہی کو ہمارے میزبان کے فون پر تیز رفتاری کے جرمانے کی پرچی آگئی تھی۔ تو جب آپکے پاس مقررہ حد سے تجاوز کرنے والے کو پکڑنے کا نظام موجود ہے، تو پھر سپیڈ بریکر لگا لگا کر سب کو اجتماعی سزا کیوں دی جارہی ہے ؟ اس سے گاڑی کی مرمت، پٹرول کا زیاں ، وقت اور کوفت ، ہر ایک کا مقدر کیوں بنا دی گئی ہے
رونا یہی نہیں ہے، پچھلے دنوں کراچی ائیرپورٹ کے قریب ، دہشتگردی کے واقعے میں چائینیز مہمان ہلاک ہو گئے تھے۔ اب اس جرم کی اجتماعی سزا اس مقام سے ہر گزرنے والے کو دی جارہی ہے جو نہ جانے کب تک دی جاتی رہے گی۔ ہر گاڑی کے اندر جھانکا جاتا ہے اور بعض دفعہ پوچھتے ہیں کہ کہاں جا رہے ہو۔
کئی راستے روک رکھے ہیں کہیں یو ٹرن کرواکر دوسری راہ پر دھکیلا جاتا ہے اور یو ٹرن میں گاڑیاں پھنس کر رہ جاتی ہیں۔ دہشتگرد تو اپنا کام کرکے چلتے بنے ۔ اب عوام کو اجتماعی سزا، وقت کے زیاں، پٹرول کا زیادہ خرچ اور گاڑی کی اضافی مرمت کی قیمت میں ادا کروائی جارہی ہے
شہر کا تقریباً ہر علاقہ، ٹریفک کے اژدہام کو قابو کرنے کیلئے ناکافی ہے اور متبادل راستے ، نہ ہونے کی وجہ سے ہر چوراہا عبور کرنا ، جان جوکھوں کا کام بن گیا ہے
کراچی کی ضرورت ایک نہیں ، کئی رِنگ سڑکیں ہیں ۔ موجودہ دور میں پلرز لگا لگا کر اوپر سے رنگ روڈز بنائے جاسکتے ہیں جس سے ٹریفک بنا کسی سگنل کے رواں دواں رہ سکتی ہے۔ جسے جہاں اترنا ہو وہ ایگزٹ لے کر اپنے علاقے میں چلا جائے ۔یہ نظام کسی ۵ سالہ منصوبے، کسی تخیل یا سیاسی بڑھک کے طور پر بھی سننے کو نہیں ملا۔
ٹریفک کے رواں دواں رہنے میں رکاوٹ بھی ہم ہی لوگ بنتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کراچی کے باسیوں نے اسے اپنی زندگی کا معمول بنا لیا ہے اسے وہ ایک way of life کے طور پر قبول کرچکے ہیں۔ جبکہ حکومت کے اکابرین اس معاملے کو ایک سیاسی نعرے کے طور پر ہی سہی ، یہ میٹھی گولی دینے کو تیار نہیں کہ ہمیں ووٹ دو ہم یہ مسئلہ حل کردیں گے
مسئلے تو کراچی کے اور بھی بہت سے ہیں جس میں پانی، گیس ، سڑکوں کی حالت اور نکاسی آب سر فہرست ہیں۔ میری پچھی آمد کے مقابلے میں کچرے کے ڈھیر کچھ کم نظر آئے لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ ڈھیر مکمل طور پر ختم ہو گئے ہوں
کراچی کی مزید تفصیل اور پھر اسلام آباد کا تذکرہ اگلے کالم میں
خالد قاضی