NUKTADAAN

Reading: ‏۸۷۔ ایک یادگار ظہرانہ
Reading: ‏۸۷۔ ایک یادگار ظہرانہ

‏۸۷۔ ایک یادگار ظہرانہ

admin
8 Min Read

نکتہ داں -۸۷

۹ جنوری ۲۰۲۵

ایک یادگار ظہرانہ

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان  اپنے ذوق کی تسکین کے سامان کا متلاشی رہتا ہے ، اور یہی کچھ میری گھٹی میں بھی بھرا ہوا ہے۔  

میرے قارئین  ، اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ میں سیاست کے ایک ادنٰی طالبعلم کی طرح، سیاست پر نظر رکھنے والے اساتذہ کی تلاش میں رہتا ہے۔ 

دسمبر ۲۰۲۴ کے دورۂ پاکستان میں  چونکہ کراچی ہی ٹھکانہ رہا، لہٰذا ہمارا ذوق سیاست، پاکستانی صحافت  کے معتبر  ناموں جناب مظہر عباس، وسعت اللٰہ خان ، ARY کے ندیم جعفر، انٹرنیشنل میڈیا کے، پاکستان میں معتبر نمائندے اشرف خان، ۶۰ ، ۷۰ کی دہائی کے اسٹوڈینٹ لیڈر اور سیاسی کارکن جناب جمیل عرب سے ایک طویل مجلس کا اہتمام ،خلیل مغل کی میزبانی میں ہوا ۔ 

میں اپنے متعین سوالوں سے اپنے ہم نشینوں کو کرید کرید کر ، معلومات کی جستجو کا شکم بھرتا رہا۔

ہماری گفتگو کا دائرہ ماضی کے سیاسی واقعات بھی تھے، عوامی جدوجہد کے قصے بھی، موجودہ دور کی سیاسی پیش رفت بھی، کراچی کی نا گفتہ بہ حالات بھی اور مستقبل کی کچھ صورت گری بھی۔

میرے ہم نشین چونکہ صحافت اور سیاسی میدان کے پرانے کھلاڑی تھے لہذا میرے اس خیال کے متعلق، کہ “موجودہ دور میں سیاسی کارکنوں پر بہت ظلم ہوا ہے، قید و بند بھی ہے اور بندشیں بھی” پر مسکرانے لگے

فرمایا، کہ پچھلے ایام ، جن میں خاص کر ضیاءالحق کا دور ، اور اسکے علاوہ ایوب خان اور نواب کالا باغ کے دور کے مقابلے میں آج کی سختیاں ماضی کے حالات کی عشر عشیر بھی نہیں۔ نہ وہ قید بند کی سختیاں ہیں ، نہ کوڑے ، نہ سیاسی کارکنوں کی پھانسیاں اور نہ خواتین کی بے حرمتی۔ لیکن چونکہ آج ، سوشل میڈیا اور موبائل فون کے طفیل دنیا آپکی مٹھی میں سمائی ہوئی ہے، اور آپکے  چند فقرے کروڑوں لوگوں تک ، ہزاروں میل کا سفر طے کرکے ، لمحوں میں ہر طرف پھیل جاتے ہیں اس لئے آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے زیادہ  برا وقت کبھی بھی نہیں آیا۔  مزید بر آں،  چونکہ ہماری نئی نسل ماضی سے کوئی خاص ، نہ واقفیت رکھتی ہے اور نہ نسبت ، لہذا وہ اپنی نسل ہی کو سیاسی قافلوں کا امیر سمجھنے لگی ہے۔

عمران خان کے مستقبل اور موجودہ سیاسی جدوجہد پر، انکا  تبصرہ ایک حساب داں کی طرز کا تھا۔ انکے بقول، سیاست کا ہر عمل، اگر بدلے میں مزید ناکامی ہی لائے تو اسے کیا کہا جائے گا۔ آپ کو قدم وہ اٹھانا چاہئے جن سے سیاسی اکائیاں ، آپ سے آکر جڑیں،  نہ کہ آپ اپنے سارے مخالفین کو آپس میں جڑے رہنے پر مجبور کریں اور مسلسل کرتے رہیں۔  انکے بقول ہر سیاسی چال کا وقت ہوتا ہے۔ بہت دیر کردینے سے سیاسی وزن بھی گھٹ جاتا ہے  اور چال کی افادیت بھی نہیں رہتی۔ اس بات پر میں نے کچھ وضاحت چاہی۔ فرمایا کہ مذاکرات کا وقت وہ تھا جب اسمبلی وجود میں آئی تھی،تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات کی دعوت دے رہیں تھیں۔ اس وقت سمجھنے کی بات یہ تھی کہ تمام سیاسی قوتیں مختلف ادوار میں، اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں ڈسی ہوئیں ہیں۔لہذا یہی بہتر ہے کہ آپس میں ایکہ کرکے،  جرنیلوں کی دھونس کو پرے دھکیلا جائے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ،  اسٹیبلشمنٹ کبھی بھی سیاسی قوتوں میں گفت شنید نہیں چاہتی۔ عمران خان نے مذاکرات کی دعوت کو رد کرکے دراصل اسٹیبلشمنٹ کا کام آسان کر دیا۔

اسی طرح کا غلط فیصلہ بی بی شہید سے بھی ہوا تھا، کہ جب ضیاءالحق نے غیر جماعتی انتخاب کا اعلان کیا تو PPP نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ اسی فیصلے کی وجہ سے پنجاب میں PPP کا زور کم ہوا جو رفتہ رفتہ موجودہ شکل میں سب پر واضح ہے۔ 

کراچی کے حالات کا تذکرہ جمیل عرب سے پہتر شاید کوئی اور نہ کرسکا۔ وہ تو کراچی کی حق تلفی کی انسائیکلو پیڈیا ثابت ہوئے۔ چونکہ وہ پیپلز پارٹی کے ایک دیرینہ کارکن رہ چکے ہیں لیکن اس وقت “ناراض لوگوں” کی فہرست میں شامل ہیں۔ 

 پیپلز پارٹی اپنے ناراض لوگوں کو راضی کرنے کی تگ دو میں بھی رہتی ہے، اسی لئے بقول انکے آصف علی زرداری نے انھیں بلوایا اور ون او ون ملاقات ہوئی۔ جمیل عرب نے اپنی ناراضگی کی وجہ کھل کر بیان کی، جو کہ کسی عہدے یا ذاتی فائدے کیلئے نہیں تھی بلکہ محض اصولی تھی- انکی شکایات سن کر آصف زرداری نے ان سے کہا کہ تم سب باتیں چھوڑو اور پارٹی میں شامل ہو جاؤ۔ جمیل عرب نے، ان سے جواباً کہا کہ آپ اپنی پارٹی چھوڑ کر میری پارٹی جوائن کرلیں تو عوام کا بھلا ہوگا۔اس پر زرداری کے وہی الفاظ تھے جس جھینپ مٹانے کیلئے کہے گئے  کہ “یہ مشورہ مجھے تمہارے سوا اور کوئی نہیں دیگا”

اس بات کا چرچا بھی ہوا کہ کرپشن ایک سسٹم کے تحت ہورہی ہے اور کوئی روکنے والا نہیں

اس پر میں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا، کہ یہ سب محض پاکستان ہی میں نہیں ہورہا بلکہ انڈیا جیسے جمہوری ملک میں بھی ہے۔ لیکن وہاں کی صحافتی برادری پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ فعال ہے۔ میں نے انڈیا کے “تہلکہ” کی مثال دی کہ جس میں ایک صحافی بھیس بدل کر سسٹم میں گیا اور پھر تمام ثبوتوں کے ساتھ ہر چیز تشت از بام کرکے رکھ دی ۔ ایسا ہمارے صحافی کیوں نہیں کرتے۔ہمارے یہاں قیاس آرائیاں تو بہت ہیں لیکن ٹھوس  ثبوت کم کم ہی سامنے آئے ہیں

اس پر جناب مظہر عباس نے کہا کہ کئی اخباری رپورٹیں آچکی ہیں لیکن ہمارے ادارے صرف مخالفوں کے خلاف ایکشن لیتے ہیں اور بس۔

اسپر ، وسعت اللٰہ خان نے لقمہ دیا کہ اپنوں کے خلاف لکھنے والے غائب کر دیئے  جاتے ہیں 

مستقبل کی صورت گری پر، فرمایا کہ ہر سرکس کا  “رِنگ ماسٹر “ ، نئے نئے جانور لاتا ہے اور نیا بازار سجاتا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں نئے رنگ ماسٹر کے مزاج کو دیکھیں گی اور پھر کچھ طے کریں گی، لیکن موجودہ رنگ ماسٹر تو کھیل اسی طرح چلائے گا جس طرح سب چلاتے رہے ہیں اور بس

جناب خلیل مغل نے لذت کام دہن کا بھی خوب اہتمام کیا ہوا تھا، جس میں سندھی پلاؤ بھی تھا ، تلی ہوئی بھنڈیاں بھی ، سندھ کے بیھ بھی اور مچھلی و کڑھائی گوشت بھی۔ میٹھے مال سے بھی ہم نے انصاف کیا۔  سو یہ محفل سبز چائے کی پیالی پر ختم ہوئی۔ لیکن میرے لئے یہ ملاقات ایک اور دعوت کا سبب بن گئی۔ میرے ہم نشیبوں نے مجھے کراچی پریس کلب کے دورے کی دعوت دی۔ میرے لئے یہ کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ سو کراچی پریس کا ذکر اگلے کالم میں ۔

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے