NUKTADAAN

Reading: ‏۸۸۔ ایک شام کراچی پریس کلب کے نام
Reading: ‏۸۸۔ ایک شام کراچی پریس کلب کے نام

‏۸۸۔ ایک شام کراچی پریس کلب کے نام

admin
10 Min Read

نکتہ داں۔ ۸۸

۱۳ جنوری ۲۰۲۵

ایک شام کراچی پریس کلب کے نام

اگر ہر طرف، “ہو“ کا عالم طاری ہو۔ دھوپ کی تپش آگ سلگا رہی ہو، ریت اڑاتی لو میں سانس لینا دشوار ہو، پیروں میں چھالے اور پیاس سے حلق خشک ہو رہا ہو ، دور دور تک کوئی سایہ یا سر چھپانے کی جگہ نظر نہ آئے اور درندوں کے ڈر سے  جان کے لالے پڑے ہوئے ہوں تو ایسے میں اگر کوئی نخلستان میسر آجائے۔ جہاں آپکو سایہ بھی میسر آئے، آپکی  پیاس بھی بجھ سکے، ہوا کے ٹھنڈے جھونکے بھی آپکی آس بندھائیں اور آپ کے درد کو بٹانے والے بھی مل جائیں تو ایسی جگہ کو *کراچی پریس کلب* کہا جائے گا۔

یہ افسانہ نہیں حقیقت ہے، کہ جب بھی ملک میں زبردست زبان بندی اور سینسر شپ کے ذریعے “ہو” کا عالم طاری کردیا گیا، انسانی حقوق پامال کئے گئے، قید و بند کی سعوبتیں اور پکڑ دھکڑ شروع کردی گئی ، تو ایسے  میں، سیاسی اسیروں، انسانی حقوق کے پرستاروں،  انصاف اور قانون کی آواز بلند کرنے والوں اور سیاسی رہنماؤں کی آواز دنیا تک پہچانے کا کام، اپنے قیام (۱۹۵۸)کے ساتھ ہی کراچی پریس کلب نے پوری مستعدی اور عزم کے ساتھ جاری و ساری رکھا ہوا ہے ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ ، کراچی پریس کلب کے ذکر کے بغیر نہ شروع ہوگی ، نہ جاری رہ سکے گی اور نہ اسے سمجھا جا سکے گا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ہر دور میں ، جب جب، جمہوریت پر قدغن لگائی گئی ،تو ،  پاکستان کے محکوم، اور پسے ہوئے تمام طبقوں کی آواز کراچی پریس کلب کے توسط سے دنیا بھر میں پہنچائی جاتی رہی ہے۔ ان طبقات میں پاکستان کے ہر پیشے، ہر طبقے، ہر صوبے ، ہر سیاسی جماعت اور تمام مختلف نظریات کی مذہبی ، علمی، ادبی اور ثقافتی تنظیمیں شامل ہیں۔ان میں مزدور ، ہاری، طلبہ، اساتذہ، کاروباری حضرات ، وکلأ، سیاسی کارکن ، لیڈران، صحافی، غرض زندگی کے تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ، اپنی اپنی آواز ، اپنا اپنا دکھ اور اپنے اپنے حق کیلئے کراچی پریس کلب کا رخ کرتے ہیں اور کراچی پریس کلب انکی آواز نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں پہنچانے کا کام بڑی مستعدی، تواتر اور بلا تکان کرتی چلی آئی ہے۔ اس مشن کی ابتدا ۱۹۵۸ میں کراچی پریس کلب کے پہلے منتخب صدر اظہارالحق برنی نے شروع کی اور اس مشن کو ہر دور میں الیکشن کے ذریعے منتخب باڈی نے پورے زور شور سے جاری رکھا ہوا ہے۔

کراچی پریس کلب کے 1800 ممبران ، جن میں خواتین کی تعداد 150 ہے اس کلب میں،مختلف  محفلوں ، سیمیناروں ، ثقافتی اور سماجی پروگراموں کے ذریعے اس کلب کی رونق لگا کر رکھتے ہیں۔ اس کلب کی تاریخ میں ۷۰ اور ۸۰ کی دہائی، اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ ضیاالحق کے جبر اور ظلم کے زمانے میں ، صحافتی و سیاسی آزادی، انسانی حقوق اور ظلم و زیادتی کے خلاف ہر آواز کو پاکستان اور دنیا بھر میں پہنچایا ۔ کراچی پریس کلب دراصل پاکستان کا “ہائیڈ پارک” ہے

اس کلب میں ضیا دور میں بیگم نصرت بھٹو، مشرف دور میں، بیگم کلثوم نواز ، اور پشتون حقوق تنظیموں، بلوچستان اور سندھ کے قومی لیڈروں ، مزدوروں ، کسانوں اور طلبا کے نمائندوں کی آواز کو بلند کرنے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ ضیا دور کے ایک وزیر نے کراچی پریس کلب کو “دشمن کے علاقے” سے تعبیر کیا تھا، جسکے جواب میں کراچی پریس کے نمائندوں نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں عوام کو اگر کوئی آزاد   گوشہ میسر ہے تو اس کا نام “ کراچی پریس کلب” ہے۔

اس کلب میں پروفیشنل صحافیوں کی سہولت کیلئے میٹنگ روم ، پریس کانفرنس ہال، لائیبریری، کانفرنس روم، اسٹوڈیو، ایڈیٹنگ لیب، کمپوٹر لیب اور کمیونیکیشن کی سہولتیں میسر ہیں۔ 

یہاں ہر وقت صحافیوں کا میلہ سا لگا رہتا ہے جو مختلف ٹولیوں میں ، مختلف موضوعات پر گفت شنید اور معلومات کو آپس میں شیئر کرتے رہتے ہیں ۔ یہاں کی کینٹین کے پکوڑے، سموسے اور چائے و کافی ، بڑے اعلٰی درجے کے ہیں ۔

میرے اس دورے کے دوران مجھے کئی سینئر  صحافیوں سے ملنے کا موقع ملا، جو جلد ہی دوستی میں تبدیل ہوگیا۔ 

یہاں میری ملاقات، پاکستان بلڈرز ایسوسی ایشن “آباد” کے صدر جناب حسن بخشی سے بھی ہوئی۔

موصوف، پاکستان اور دوبئی میں تعمیرات پر حکومتی ٹیکس ، سہولیات اور مشکلات کا تفصیل سے ذکر کر رہے تھے۔ انکے بقول، یہاں ہر قانون کام میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے بنایا جاتا ہے جبکہ دوبئی میں، قانون کام میں سہولت پیدا کرنے کیلئے بنایا جاتا ہے۔ انکی باتیں سن کر، میں نے ان سے کہا، کہ آپ نہ جانے کس طبقے کی شکایت ، کس طبقے سے کر رہے ہیں ۔ میرا تو مشاہدہ یہ ہے کہ، یہاں چپراسی سے لیکر بڑے افسر تک، کاروبار افراد سے لیکر ہر پیشے سے متعلق لوگ ،اپنے اپنے کام میں دو نمبری ہی کو اپنا خاصہ بنائے ہوئے ہیں ۔ ہماری قوم کو بس دوسروں پر تنقید کا فن آتا ہے، اپنے گریبان میں ہم کبھی بھی نہیں جھانکتے۔

اس دورے میں میری جستجو، بلوچستان اور سندھ کے حالات سے باخبر ہونے کیلئے مجھے ان صوبوں سے متعلق صحافیوں سے ملنے کا موقع ملا۔

ارباب چانڈیو، صوبہ سندھ کے باخبر صحافی ہیں جبکہ بلوچستان کی صورتحال پر، نظر رکھنے والے اخبار “ آزادی” کے چیف ایڈیٹر اور  کہنہ مشق صحافی عارف بلوچ سے بھی معلومات حاصل کی۔

بلوچستان میں جاری مزاحمتی گروپوں کو کور کرنے والے باخبر صحافی جناب عزیز شنگھور سے بھی بہت تکلیف دہ معلومات ملیں ۔

مختصر یہ، کہ تمام حضرات کی متفقہ رائے تھی کہ میڈیا کو، شمالی علاقہ جات اور بلوچستان کے اصل حالات شائع کرنے کی مکمل ممانعت ہے۔ ہماری ایجنسیاں اور سیکیورٹی اداروں کا، ان علاقوں میں عمل دخل ،محض سورج کی روشنی کا مرہون منت ہے۔ سورج کے ڈھلتے ہی، یہ اپنے اپنے محفوظ کیمپوں میں مقید ہوجاتے ہیں اور پھر ان علاقوں پر راج ، عوامی راج دلاروں کا ہو جاتا ہے۔

میں نے اس بات کی وضاحت چاہی، تو مجھے بتایا گیا کہ، *کوئی بھی فوج اور نہ کوئی مزاحمتی تحریک , اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب تک اسکے پیچھے عوامی حمایت نہ ہو*

فوج کی کامیابی بھی عوامی حمایت کی محتاج ہوتی ہے اور مشرقی پاکستان میں ہماری فوجی ناکامی کی وجہ بھی یہی تھی کہ عوام فوج کی پشت پناہی نہیں کر رہے تھے۔  یہی حالات،اب بقیہ پاکستان میں بھی پیدا ہو تے چلے جارہے ہیں ۔ اسکی وجہ فوج کی سیاسی مداخلت، کرپشن اور غیر قانونی حرکات، کے لامتناہی قصے ہیں۔ ان قصوں  پر ISPR, کے جاری کردہ ، جرنل فیض حمید سے متعلق اعلانات نے یقین  پیدا کردیا ہے۔  بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور سر بریدہ یا مسخ شدہ لاشوں نے عوامی حمایت کا پلڑا رفتہ رفتہ فوج کے بجائے مزاحمتی گروہوں کی جانب پلٹ دیا ہے اس وجہ سے اب قومی حقوق کے نام پر تشدد اختیار کرنے والے گروہ، عوامی لاج دلارے بنتے جارہے ہیں۔

انکے ان دلگرفتہ بیان کی افسردگی کو، گرم گرم پکوڑوں ، سموسوں اور چائے بھی کم نہ کرسکی۔

کراچی پریس کلب کے مختلف پروگرام ، تقریبات اور کارکردگی کے متعلق معلومات فیس بک پر تو مل جاتی ہیں لیکن میرے لئے، یہ بات نا قابل یقین تھی کہ کراچی پریس کلب کی کوئی اپنی ویب سائٹ نہیں کہ جس سے اس عظیم ادارے کی ، مختلف سیاسی ادوار کی تاریخ ، انکے منتخب میمبران کی فہرست اور دیگر معلومات مل سکیں

اس کالم کے توسط سے، کراچی پریس کلب کے تمام عہدیداران اور ذمہ داران سے میری گزارش ہے کہ وہ اپنی اولین فرصت میں کراچی پریس کلب کی ویب سائٹ تشکیل دیں تاکہ اس عظیم ادارے کے متعلق  معلومات کی رسائی ہر ایک تک آسانی سے ہوسکے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے