دہشتگردی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا
* دہشتگرد حملے کی پر زور مذمت کرتے ہیں
* دہشتگردی کے خلاف پر عزم ہوکر مقابلہ کیا جائے گا
* متاثر خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں
* پاکستان کے دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے
* پاکستان کی حفاظت کیلئے کسی بھی قسم کی قربان دینے کیلئے تیار ہیں
وغیرہ وغیرہ وغیرہ
اس طرح کے بیانات سننے کی اب عادت سی ہو گئی ہے، لیکن دہشت گردی کے حملے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ پچھلے دو سالوں میں تقریباً ۱۹۰۰ حملے ہو چکے ہیں ، دہشت گردوں نے زیادہ تر پاکستان کے دونوں مغربی صوبوں، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کو تختہ مشق بنایا ہوا ہے۔
اور بلوچستان اور خیبر پختون خواہ ہی کے عوام میں، حکومت، ایجنسیوں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بے چینی انتہا کو چھو رہی ہے۔
دونوں صوبوں کا نوجوان طبقہ، اپنے حقوق، اور ریاستی زیادتیوں سے نالاں ہے
لیکن کیا ہمارے کرتا دھرتاؤں کے کان پر کوئی جوں رینگتی محسوس ہوئی ہے ؟
کیا متواتر حملے ہمارے خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہیں ؟
کس کی ذمہ داری ہے، یہ حملے روکنا ؟
جو کام کرنے کا ہے، وہ تو کرتے نہیں لیکن جس کام میں دخل دینا، قانوناً، حلفاً، اخلاقاً اور آئین میں ممنوع ہے ، اس میں گوڈے گوڈے دھنسے ہوئے ہیں اور سیاست اور تجارت میں دخل اندازی سے مان کر ہی نہیں دیتے۔
جبکہ جو فرض ہے، جس کام کی تنخواہ لیتے ہیں، مراعات حاصل کرتے ہیں اور بزور طاقت ملک کے مالک بن بیٹھے ہیں اس کام کی صورتحال ان متواتر حملوں پر قابو پانے میں ناکامی انکی کاردگی واضح کر رہی ہے۔
میرا ذہن، حماس کے جری، ایمان افروز اور ثابت قدم مجاہدین کی طرف چلا جاتا ہے کہ وہ کس طرح پچھلے چار مہینوں سے بے سروسامانی کے باوجود ، ہتھیار نہیں پھینک رہے اور اسرائیل ، جسے فوجی اعتبار سے ہر طرح کی برتری حاصل ہے کے آگے ڈٹے ہوئے ہیں۔
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنھیں تونے بخشا ہے ذوق خدائی
اور پھر مجھے جنرل نیازی اور اس کے ساتھی یاد آجاتے ہیں، جو چند دن بھی محاصرہ برداشت نہ کرسکے اور ہتھیار پھینک دئیے
یہ خاکی یہ تیرے بھڑکباز بندے
جنھیں تونے بخشا ہے ذوق کمائی
خالد قاضی