NUKTADAAN

Reading: ‏۸۹۔ غزہ ، اب تک ،کس نے، کیا پایا کیا کھویا
Reading: ‏۸۹۔ غزہ ، اب تک ،کس نے، کیا پایا کیا کھویا

‏۸۹۔ غزہ ، اب تک ،کس نے، کیا پایا کیا کھویا

admin
8 Min Read

نکتہ داں۔ ۸۹

۱۵- جنوری ۲۰۲۵

غزہ ، اب تک ،کس نے، کیا پایا کیا کھویا

تمام دنیا ، اس انتظار میں ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ پر کب دستخط ہوتے ہیں اور کب، غزہ میں فلسطین کے عوام سکھ کا سانس لیں گے۔

اسی  پس منظر میں،  میرے ایک مہربان نے مجھے صوتی مراسلہ (audio message)بھیج کر پوچھا کہ اس سارے معاملے میں میری کیا رائے ہے۔

تو عرض یہ ہے کہ:

یہ حقیقت ہے کہ حماس فلسطین میں اس واقعے سے پہلے،  ایک بہت بڑی عوامی حمایت رکھتی تھی (لیکن کیا یہ حمایت اب بھی باقی ہے یہ وقت طے کرے گا) لیکن ،محض عوامی حمایت، کسی تنظیم کے فعال رہنے کی ضمانت نہیں ہوا کرتی۔  فعالیت کیلئے، مالی، عسکری، تکنیکی اور سیاسی مدد درکار ہوتی ہے۔ حماس کی یہ تمام ضرورتیں ایران مہیا کرتا آرہا ہے۔ یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے، کہ اسرائیل پر حملہ کرنے کا فیصلہ حماس نے بنا ایرانی آشیرباد کے، کیا ہو۔ بلکہ میرے خیال میں تو ایران ہی اس حملے کا اصل محرک ہے۔ گو، ، ہزار کوششوں کے باوجود امریکہ، حماس کی اس کاروائی میں ، ایران کی فراہم کردہ کسی قسم کی ٹھوس مدد  ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے، کہ ایران /حماس ،اسرائیل پر حملہ کرکے کیا حاصل کرنا چاہتا تھا ؟ اب تک تو، حماس سوائے غزہ کی تباہی کے ، کچھ بھی حاصل نہیں کرسکا۔ بلکہ اسکے اس عمل سے، اسرائیل کو، جارحیت اور بے رحمانہ کاروائی کا ایک بہانہ مل گیا۔

تو کیا ، یہ سارا آپریشن، ایران کے حکم پر کیا گیا ؟ اگر ایسا ہی ہے تو وہ کونسے اھداف تھے، جنھیں حاصل کرنے کیلئے ایران نے حماس اور فلسطینیوں کو اس آگ اور خون کے  طوفان میں جھونک دیا۔

میری رائے میں، انکی مندرجہ ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں۔

۱- ایران تین اطراف سے خلیجی ممالک میں گھرا ہوا ہے۔ ان تمام خلیجی ممالک کی ایران سے دشمنی اس خوف کی وجہ سے ہے، کہ ایران کے اسلامی انقلاب سے پہلے ایران میں بھی بادشاہت تھی۔ عوامی انقلاب نے بادشاہت کا خاتمہ کردیا۔ ایران کے اطراف ملکوں کو اس بات کا شدید خوف ہے۔ کہ آزادی اور جمہوریت کی خواہش ، کہیں ہمارے عوام میں بھی سرائیت نہ کر جائے اور کہیں ہمیں بھی ایرانی انقلاب جیسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس ہی لئے انکا سارا زور،  اپنے عوام میں ، ایران کے خلاف پروپیگنڈا کرنے پر ہوتا ہے۔ جبکہ ایران حقیقی طور پر اپنے انقلاب کو اپنے اطراف کے خلیجی ممالک میں برآمد کرنا چاہتا ہے۔ 

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام اسلامی دنیا میں، اسرائیل کے خلاف ،  عوامی طور پر،،  شدید نفرت پائی جاتی ہے، جبکہ، ان ملکوں کے حکمران، اسرائیل سے تعلقات استوار  کر چکے ہیں یا تعلقات قائم کرنے کے حیلے بہانے ڈھونڈھتے  رہتے ہیں۔ اس عوامی اور حکومتی تضاد کو بڑھاوا دینے میں، حماس اور اسرائیل کی جنگ نے  تقویت پہنچائی ہے۔اور یہی ایران چاہتا ہے

۲- حماس کو اپنے حملے کے اسرائیلی رد عمل کا پورا احساس تھا، اس ہی لئے انھوں نے سینکڑوں اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تاکہ سیاسی سودے بازی کر سکے۔

۳- ایران، نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ دنیا بھر میں، اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کی نفی کرنا چاہ رہا تھا، اور حقیقتاً بھی ،  اپنی تمام چنگیزیت ، بربریت اور بے شرمانا جارحیت کے باوجود،اسرائیل “*جنگی طور پر*” اپنے یر غمالی ، آزاد نہیں کروا سکا اور ۱۵ مہینوں کی مسلسل بمباری کے بعد بھی اسے ایک معاہدے کے تحت اپنے یرغمالی آزاد کروانے پڑے۔

۳- پوری دنیا ، اسرائیلی پروپیگنڈے اور مغربی حکومتوں کی سرپرستی کی وجہ سے، فلسطینی جدوجہد کو دہشتگردی کے زمرے میں شمار کرتی چلی آئی تھی، لیکن اس پندرہ ماہ میں دنیا کے ہر خطے بشمول یورپ اور امریکہ کے ، عوام ، عموماً اور نوجوان طبقہ خصوصاً ، فلسطینی جدوجہد  اور اسرائیلی ظلم کے خلاف احتجاج کرتا نظر آیا اور یہی ایران کا منشا بھی تھا۔

۴- اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر پروپیگنڈے کے ذریعے،  دنیا کو یہ باور کرایا تھا کہ اسرائیل کے شہروں کو میزائل حملے نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ لیکن یہ بات ایران نے ثابت کردی کہ، میزائلوں سے اسرائیلی دفاع کو توڑا جاسکتا ہے-

۵- گو اس جنگ میں، اسرائیل نے ایرانی دفاعی تنصیبات کو شدید نقصان بھی پہنچایا، لیکن اس عمل نے، ایران کو اپنی جنگی کمزوریوں سے آگاہ کردیا۔

۶- اسرائیل ، دنیا بھر میں عوامی طور پر جتنا تنہا آج ہو چکا ہے ، آج سے پندرہ ماہ پہلے نہیں تھا۔

اب آئندہ کیا ہونے جا رہا ہے ؟ 

حماس سے معاہدے کی وجہ سے اسرائیل کی مخلوط حکومت میں، ابھی سے دراڑیں پڑنی شروع ہوچکی ہیں، بلکہ اب تک، نیتن یاہو کی حکومت اس جنگ ہی کی وجہ سے بچی ہوئی تھی، نیتن یاہو پر کرپشن کے مقدمات ہیں۔ 

میرے خیال میں ، اس معاہدے کے بعد، نیتن یاہو مزید اقتدار میں نہیں رہ پائے گا اور اسرائیل ایک نئے انتخاب کی طرف بڑھے گا

امریکہ اور یورپ میں بھی عوامی دباؤ اپنی اپنی حکومتوں کو فلسطینی ریاست قائم کرنے  کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے پر مجبور کرے گا۔ 

لیکن اس ساری واردات میں پاکستان کیلئے بھی کچھ سبق ہیں

* پہلا سبق ہمارے طاقتور جرنیلوں کیلئے ہیں ، کہ طاقت کے نشے سے معاملات بنتے نہیں بگڑتے ہیں

* ⁠دوسرا سبق تحریک انصاف اور انکے چاہنے والوں کیلئے ہے، کہ چاہے کتنی ہی عوامی حمایت حاصل کیوں نہ ہو، اس پر تکبر کرنے کے بجائے  دانشمندی سے کام لینا چاہئے کیونک معاملات کا حل گفت شنید سے ہی حاصل ہوتا ہے

* ⁠تیسرا سبق، حکمرانوں اور اسکے حمایتوں کیلئے ہے کہ، اصل فتح عوام پر راج کرنا نہیں ہے، دلوں پر لاج کرنا ہے ، کہ جس سے آپ کوسوں دور نظر آتے ہیں

* ⁠اور اوپر بیان کردہ تمام فریقوں کیلئے مشترکہ سبق یہ ہے کہ پاکستان کو اپنے رویوں سے خدارا غزہ نہ بنائیں کیونکہ اب تک آپ کا رویہ ملک کو سیاسی اور معاشی تباہی کی طرف لے گیا ہے، ترقی اور خوشحالی کی طرف نہیں لے گیا۔

وما علینا الی البلاغ

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے