نکتہ داں-۹۰
۱۷ جنوری ۲۰۲۵
یہ جو تیرے نظر آتے ہیں، یہ سب تیرے نہیں
معروف شاعر جناب افتخار عارف اپنی غزل میں فرماتے ہیں کہ:
میں نے اک اور بھی محفل میں،انھیں دیکھا ہے
یہ جو تیرے نظر آتے ہیں، یہ سب تیرے نہیں
اس شعر میں ، پاکستان کی سیاسی صورتحال کے متعلق، سیاسی شعور رکھنے والی ہر سیاسی جماعت کیلئے ایک سبق ہے۔
پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے، کہ ڈکٹیٹرشپ اور حقیقی سیاستدان ایک دوسرے کے، ہو ہی نہیں سکتے۔ مصلحتاً یا ضرورتاً، دونوں اطراف، ایک دوسرے سے بغل گیر ضرور ہوئے ہیں لیکن ضرورت تک۔ ضرورت پوری ہوتے ہی ، دونوں ہی فریق، ایک دوسرے سے آنکھیں چرانے لگتے ہیں۔
تحریک انصاف اور عمران خان کا، حکومت سے بے دخلی کے بعد، دوٹوک موقف تھا، کہ ہم کسی سیاسی جماعت سے بات نہیں کریں گے، اگر بات ہوگی تو براہ راست، مقتدرہ کے نمائندوں سے ۔ جبکہ دوسری طرف، نہ صرف ISPRکے ترجمان، بلکہ جرنیلوں کے میڈیائی مبلغ، فیصل واوڈا اور میڈیا میں (پنڈی کے نمائندہ) مختلف اینکر پرسن اپنے اپنے وی لاگز اور یوٹیوب چینیلز پر، پورے اعتماد اور نخوت سے اعلان کرتے پھرتے تھے، کہ جرنیل عمران خان یا، اس کی جماعت کے کسی نمائندے سے کبھی بات نہیں کریں گے۔ تو پھر ایسا کیا ہوا کہ آج کا میڈیا ان خبروں سے لبریز ہے کہ، جنرل عاصم منیر، نے پشاور میں وزیر اعلٰی امین گنڈا پور ، گورنر فیصل کریم کنڈی اور ANP کے ایمل ولی خان سے ملاقات کی اور یہ خبر بھی ہے، کہ عمران خان کو خصوصی ہیلی کاپٹر میں اڈیالہ سے پشاور لایا گیا اور معاملات پر بات ہوئی ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین گوہر خان نے، کچھ دنوں کی رد و کد کے بعد اعتراف کرلیا کہ انکی اور امین گنڈا پور کی پنڈی میں عاصم منیر سے ملاقات ہوئی ہے۔
یہ پیش رفت، مستقبل کا کیا نقشہ پیش کرتی ہے ؟اور افتخار عارف کا شعر ن لیگ اور شہباز شریف کیلئے کیا پیغام دیتا ہے کہ “ یہ جو تیرے نظر آتے ہیں وہ تیرے نہیں”
تو کیا اس سے یہ مطلب لیا جائے کہ آرمی کے بڑوں نے (عوام میں فوج کے خلاف بڑھتی نفرت کے پیش نظر)، اپنے موقف پر نظر ثانی کرلی ہے !
اور کیا یہ طے کرلیا گیا ہے کہ آئندہ حکومت ن لیگ کی نہیں ہوگی ؟
ظاہری بات ہے، کہ جنریلی جنتا اور تحریک انصاف میں کوئی بھی بات یکطرفہ نہیں، بلکہ کچھ لو اور کچھ دو پر ہی طے پائی ہوگی۔
تحریک انصاف کے تحریری چارٹر آف ڈیمانڈ میں اسکی جھلک صاف محسوس کی جاسکتی ہے
تحریک انصاف کا شروع ہی سے، جوہری موقف تھا، کہ یہ حکومت فارم ۴۷ کی ہے اور دھاندلی زدہ حکومت کو ہم تسلیم نہیں کرتے۔ انکا مطالبہ تھا کہ ایک عدالتی کمیشن فروری ۲۰۲۴ کے انتخابی نتائج کی تحقیق کرکے، حقیقی کامیاب ممبران کا تعین کرے۔
لیکن ، چارٹر آف ڈمانڈ میں یہ مطالبہ موجود ہی نہیں ۔گویا، PTI سے اگلے الیکشن تک صبر کرنے کے بدلے، آئندہ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ بھی اس شرط پر کہ PTI اچھے بچوں کی طرح رہے گی اور زیادہ اچھل کود اور شور شرابے سے گریز کرتے ہوئے، موجودہ حکومت کے ساتھ اپوزیشن اپوزیشن ضرور کھیلے گی، لیکن اپنے تیروں کا رخ جرنیلوں کی طرف سے دور ہی رکھے گی اور انکے اس طرز عمل کے بدلے، انکے سیاسی قیدیوں کو بھی آزادی ملے گی اور دوسری سہولتیں بھی۔
تو اس پورے منظر نامے سے میرا یہ مشورہ درست ثابت ہوا، کہ PTI کو پاکستانی سیاست کے معاملات، پاکستان کے کرداروں ہی سے طے کرنے پڑیں گے، امریکہ یا ٹرمپ انکی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ میں نے لکھا تھا، کہ ہر صدر کی حلف برداری سے پہلے ، امریکہ کے سکیورٹی کے ادارے دنیا کے تمام خطوں میں، امریکی سکیورٹی اور وہاں اپنے معاونین کے متعلق بریفنگ دیا کرتے ہیں اور امریکی صدر، انکے مشوروں کے خلاف نہیں جاسکتا۔ لہذا، جب برصغیر اور پاکستان کی بات ہوگی، تو صدر کو بتایا جائے گا کہ امریکہ کی سکیورٹی کی ضرورتیں پاکستانی جرنیل پوری کرتے ہیں عمران خان نہیں۔ امریکی کانگریس میں عمران خان کے حق میں قرارداد، اس وقت میں جاری امریکی الیکشن کی ضرورت تھی اور بس۔
ہاں، امریکی انتظامیہ،پاکستان کی جمہوری قیادت سے بھی بناکر رکھنے کی سعی کرتی ہے لیکن انکی نظر آج سے زیادہ کل پر ہوتی ہے۔
اور، ٹرمپ کی حلف برداری میں شرکت کی دعوت پاکستان کے صرف ایک لیڈر بلاول بھٹو کو ملنے پر اہل دانش کو واضح اشارے ملتے ہیں۔ یہ دعوت نامہ،دراصل ، صوبہ پنجاب کی سیاست کے منتخب ہونے کے قابل (electables) رہنماؤں کا قبلہ درست کرنے کیلئے ہے۔
“تے توانوں کجھ سمجھ آئی کہ کی ہوڑں لگا اے”
تحریک انصاف کی قیادت ، تاریخ میں تلاش کرے کہ پاکستان کے کس ، ڈکٹیٹر نے، کس، سیاسی لیڈر کے ساتھ، کیا ہوا ، کونسا وعدہ، کب پورا کیا ہے؟ یہ جرنیل اپنے مطلب کے ہوتے ہیں اور بس! اور ویسے بھی بقول مرزا غالب
“کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک”
میری رائے میں، معاملات سیاسی لوگوں کو آپس میں طے کرنے چاہئیں۔
جرنل عاصم منیر PTI کی قیادت سے اس وجہ سے بات کرنے پر مجبور ہوئے، کہ PTI موجودہ حکومت سے بات کرنے پر آمادہ ہوگئی۔ اگر PTI بات شروع نہ کرتی تو عاصم منیر، PTI کی طرف کبھی بھی راغب نہیں ہوتے۔
جہاں تک حکومت کا تعلق ہے، ن لیگ کو اپنی ہی پارٹی کے مرحوم رہنما ، محمد خان جونیجو سے سبق لینا چاہئے۔ اس عظیم ہستی کا پاکستانی قوم نے ساتھ نہیں دیا۔
اس نے اسمبلی میں وزیر اعظم کا حلف اٹھاتے ہی اعلان کیا کہ مارشل لا اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس نے ایمرجنسی ختم کرکے سیاسی سرگرمیوں کی آزادی دی۔ اس نے بینظیر کو ملک آنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ کیا ضیاءالحق بینظیر کی پاکستان میں واپسی چاہتا تھا۔ ہرگز نہیں۔ جونیجو نے بنا کسی خوف کے بینظیر کو جلسے کرنے کی کھلی چھوٹ دی اور اس ہی آزادی کی وجہ سے لاہور میں بینظیر بھٹو کا فقیدالمثال استقبال ہوا۔
جونیجو کو جمہوریت کی طاقت کا پتہ تھا ۔ اس نے بینظیر کی مقبولیت کو جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے استعمال کیا ۔ کیونکہ ڈر تو ڈکٹیٹر کو ہوتا ہے۔ اسے معلوم تھا کہ بینظیر جمہوریت کو مضبوط کرنے میں مددگار ہوگی اور اس طرح ڈکٹیٹر کمزور پڑے گا کیونکہ
“نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں “
ن لیگ اور PTI کو بینظیر اور جونیجو جیسا کردار ادا کرنا چاہئے تھا تاکہ جرنیل کمزور پڑیں۔ جبکہ ن لیگ جرنیلوں سے زیادہ ڈرپوک نظر آئی ۔
میری رائے یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو بنا کسی خوف کے، آپس میں گفت شنید کرکے معاملات جرنیلوں کی گرفت سے باہر لانے پر سوچنا چاہئے
وما علینا الا البلاغ
خالد قاضی