NUKTADAAN

Reading: ‏۹۵۔ غم بڑھے آتے ہیں قاتل کی نگاہوں کی طرح ۔ تم چھپا لو مجھے اے دوست، گناہوں کی طرح
Reading: ‏۹۵۔ غم بڑھے آتے ہیں قاتل کی نگاہوں کی طرح ۔ تم چھپا لو مجھے اے دوست، گناہوں کی طرح

‏۹۵۔ غم بڑھے آتے ہیں قاتل کی نگاہوں کی طرح ۔ تم چھپا لو مجھے اے دوست، گناہوں کی طرح

admin
8 Min Read

نکتہ داں۔۹۵

۳ فروری ۲۰۲۵

غم بڑھے آتے ہیں قاتل کی نگاہوں کی طرح

تم چھپا لو مجھے اے دوست، گناہوں کی طرح

چھپائے گناہ ہی جاتے ہیں، اچھے کاموں کی تو نمائش کی جاتی ہے انکے متعلق فخر سے بتایا جاتا ہے۔

شاعر حضرات، تشبیہ اور استعاروں کے سہارے، اپنے اپنے وقت کی تصویر،  چند الفاظ میں بیان کرنے پر قادر ہوا کرتے ہیں۔ جرم، ظلم، ڈاکہ، چوری، اور ہر قسم کے غیر قانونی عمل کو کرنے والا، چاہے کتنا زور آور کیوں نہ ہو، وہ معاشرے سے ڈر کر رہتا ہے اور چاہتا یہ ہے کہ اسکے عمل کی، کسی کو ، کسی طرح، کوئی بھی، خبر نہ ہونے پائے۔ 

گویا جب بھی، آپ محسوس کریں کہ معلومات کی رسائی پر قدغن لگائی جارہی ہے،تو آپ جان لیں کہ یہ ضرور کوئی جرم، زیادتی، نا انصافی، غیر قانونی یا غیر آئینی عمل کے چھپانے کے لئے کیا جارہا ہے۔ 

پاکستان کی پوری تاریخ چھان لیں ، جب جب اخبارات اور میڈیا پر بندش رہی، تو اس کی وجہ سے ہمیشہ ، پاکستان کو نقصان ہوا۔ اگر اس دوران میڈیا آزاد ہوتا، عوام کو حالات کی صحیح تصویر دکھائی جا رہی ہوتی تو شاید پاکستان دو لخت بھی نہ ہوتا ۔

ہمارے بنگالی بھائیوں کے متعلق، حکومتی نگرانی میں، جھوٹی خبریں گھڑی گئیں اور نفرتیں پھیلانے کیلئے دین اور  دینی جماعتوں کا، سہارا لیا گیا۔ پاکستان کی حب الوطنی کی، ٹھیکیداری کی آڑ میں دراصل پاکستان کی جڑیں کاٹی جاتی رہیں۔ 

یہی عمل آج کل پھر دہرایا جارہا ہے۔ چاہے بلوچستان ہو، خیبر پختون خواہ ہو، سندھ ہو یا پنجاب ۔ اور تو اور ، پاکستان کے دارالخلافہ اور سکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ سمجھے جانے والے شہر اسلام آباد کے وسط سے، ہر دوسرے دن ، صحافی ، سیاستدان ، شاعر، وکیل اور سول سوسائٹی کے معروف افراد اغوا کئے جاتے ہیں، مارے جاتے ہیں ، زد و کوب کئے جاتے ہیں اور پھر وہ عوام کے غم وغصے کے ڈر سے اپنے اپنے گھروں کو واپس بھی بھیج دیئے جاتے ہیں لیکن انکے غائب کرنے والوں کا کبھی کوئی پتہ یا نام و نشان سامنے نہیں آتا اور جب نام سامنے نہیں آتا تو قانون سے بھی وہ ہمیشہ  مبرا نظر آتے ہیں 

دنیا میں پاکستان کا جمہوری چہرہ اس روز خاک میں ملا یا گیا جب قومی اسمبلی کے PTI سے تعلق رکھنے والے ۱۱ ارکان کو قومی اسمبلی کی  حدود کے اندر، بجلی کاٹ کر کے اغوا کیا گیا۔ گو، حکومت اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی کوششوں سے انھیں بازیاب کروالیا گیا لیکن اغوا کاروں کا نام کبھی سامنے نہ آسکا ۔ اور مجال ہے کسی اخبار، کسی صحافی یا کسی لکھاری کی کہ وہ جانتے ہوئے بھی کسی کو جانکاری کروا سکے۔لیکن بقول شاعر “جانے نہ جانے، گل ہی نہ جانے۔ باغ تو سارا جانے ہے”

یہ کیسا ملک ہے کہ جہاں ، مجرم کا سب کو پتہ ہے ، وہ اسے اچھی طرح جانتے ہیں لیکن انکا نام نہیں لیتے۔ انھیں کبھی فرشتوں کے نام سے، کبھی محکمہ زراعت کے نام سے، کبھی ویگو گاڑی والوں کے عرف عام سے اور کبھی زور آوروں کے القاب سے جانتے ہیں

پچھلے ادوار میں جب انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کا زمانہ نہیں تھا تو سینسر شپ آسان تھی لیکن آج کے دور میں، سوشل میڈیا، یو ٹیوب چینیلز اور بلاگرز کے طفیل، خبر کا روکنا مشکل ہوگیا ہے۔

گو سوشل میڈیا نے لوگوں تک خبر کی رسائی آسان بنا دی ہے لیکن یہ عنصر دو دھاری تلوار کی مانند ہے کہ جس کی کاٹ فائدہ مند بھی ہے لیکن اس سے نقصان بھی بے انتہا ہورہا ہے۔

ہمارے نہ صرف بلاگر، اور یو ٹیوب چینلز کے مہربان بلکہ  سوشل میڈیا پر بیٹھا کوئی بھی شخص، جب چاہے، جسے چاہے، بغیر کسی ثبوت کے کسی کو بھی بدنام کرسکتا ہے، فیک نیوز پھیلا سکتا ہے

اسی غلط کام کی آڑ لیکر، حکومت، بنا کسی مشاورت، بنا کسی بحث اور مباحثے کے، محض اپنی عددی برتری کے زور پر قومی اسمبلی سے پیکا قانون منظور کر وا چکی ہے۔یہ قانون جھوٹی خبروں کو روکنے کے نام پر بولنے کی ہمت رکھنے والوں کا گلا دبانے کیلئے بنایا گیا ہے۔

اگر آپ پاکستان کے مختلف ادوار کی حکومتوں کا جائزہ لیں تو ڈکٹیٹرشپ کے تمام  طویل ادوار، آزادی اظہار پر سینسرشپ کے سخت ترین دور تھے۔ گو مشرف کے دور کو الیکٹرانک میڈیا کی تجدید کا دور کہا جاتا ہے، لیکن اس دور میں بھی ایک سرخ لکیر کھینچ دی گئی تھی۔ اس لکیر کے ایک طرف کھیلنے کی کھلی آزادی تھی لیکن دوسری طرف جھانکنا بھی سنگین جرم تھا اور اس ظاہری آزادی کا پول اس وقت کھل گیا جب پورا ملک ، چیف جسٹس افتخار چودھری اور سپریم کورٹ کے دیگر جج صاحبان برطرفی کے خلاف  کھڑے ہو گئے ۔ جمہوری  حکومتوں میں گو ایسی قدغن نہیں لگائیں گئیں لیکن مکمل آزادی اظہار کی منزل دور ہی رہی ۔ذولفقار علی بھٹو کا دور حکومت،  ملک کے اخباروں اور صحافیوں کیلئے ایک گراں دور تھا۔ لیکن پیپلز پارٹی کے بقیہ ادوار، آزادی اظہار کیلئے قدرے سہل اور آزاد رہے۔ شہید بینظیر بھٹو کی دونوں حکومتیں ہوں یا آصف علی زرداری کی پہلی صدارت  یا یوسف رضا گیلانی کی حکومت، پیپلزپارٹی نہ صرف آزادی اظہار کی وکالت کرتی رہی بلکہ عملاً  اپنے ادوار میں خبر تک رسائی پر قدغن لگانے سے اجتناب کی پالیسی پر قائم رہے۔ یہ بھی ایک امر واقعہ ہے کہ ہمارے صحافتی اداروں نے پیپلز پارٹی کے ہر دور میں انھیں کام کرنے نہیں دیا ، انکے خلاف پروپیگنڈے کی بارش جاری رکھی اور انکے صبر اور تحمل مزاجی کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

 لیکن اس دور میں پیپلز پارٹی کو کیا ہوا۔اس نے پیکا قانون کے پاس کروانے میں کیوں ساتھ دیا ؟ 

ایک باوثوق ذریعے نے اس معاملے پر باپ بیٹے میں اختلاف کی بات کی ہے بلکہ زرداری ہاؤس کے نوکروں نے دبے الفاظ میں باپ بیٹے کی، ایک دوسرے پر چیخنے کی خبر دی ہے۔ 

کیا بلاول بھٹو زرداری کا ملک سے لمبے عرصے کیلئے چلے جانا اسی سبب ہے ؟

واللٰہ اعلم

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے