نکتہ داں-۹۷
۱۵ فروری ۲۰۲۵
فہم،افہام و تفہیم ندارد
میرے ایک محترم دوست ، (جنکا میرے سیاسی موقف سے اکثر اختلاف رہتا ہے)، نے مجھ سے سوال کیا کہ، ترکی کے صدر اردگان نے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران شہباز شریف کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا نام لیا۔ اس نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا کیا مقصد تھا عمران خان کا نام لینے کا ؟
میں نے جواباً انھیں لکھا:
پاکستان کا ہر دوست ملک، جو صحیح معنوں میں۔ آپ کو (اسلامی نظریے کے مطابق ایک برادر ملک سمجھتا ہے)، وہ آپکو ترقی کرتا، پھلتا پھولتا دیکھنا چاہے گا۔ اور آپ اس ہی وقت پھلیں اور پھولیں گے جب آپ معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو جاتے۔ جبکہ معاشی استحکام ، سیاسی استحکام کے بغیر کبھی بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔
ترکی، پاکستان کا حقیقی دوست ملک ہے، وہ پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام نہیں ہے۔
اردگان نے عمران خان کی غیر موجودگی کا معنی خیز انداز میں ذکر کرکے، شہباز شریف کو احساس دلانے کی کوشش کی ہے، کہ ایسا نہ ہو کہ جب میں اگلی دفعہ (مستقبل میں) پاکستان کا دورہ کروں تو، عمران خان کی طرح، آپ مجھ سے ہاتھ ملانے کیلئے موجود نہ ہوں !!!
پاکستان میں اس وقت تک سیاسی استحکام نہیں آسکتا جب تک الیکشن دھاندلی سے پاک نہ ہوں جائیں گے۔ عوام جس پر اعتماد کریں، جسے جتائیں ان ہی جماعتوں کو اقتدار میں ہونا چاہئے۔ دھاندلی زدہ لوگ سیاسی استحکام نہیں لا سکتے۔
لیکن سیاسی استحکام کی ذمے دار صرف حکومت وقت نہیں ہوتی۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، حزب اختلاف کی جماعتیں، عدلیہ، اور حکومت وقت، اپنے اپنے کردار سے سیاسی عدم استحکام نہ صرف پیدا کرتی رہی ہیں بلکہ سیاسی عدم استحکام میں اضافہ کرتی ہیں۔
اس موضوع پر، محض کسی ایک کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ ہر ایک کو ہوش کے ناخن لیکر ، مثبت کردار ادا کرنا چاہئے لیکن ۷۰ سال میں، ہم بہ حیثیت قوم، دانشمندی اور جمہوری طرز عمل سے گریز ہی کرتے رہے ہیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ بقول شاعر
وائے ناکامی، متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
خالد قاضی