NUKTADAAN

Reading: ‏۱۷۶۔ سمجھنے کی بات
Reading: ‏۱۷۶۔ سمجھنے کی بات

‏۱۷۶۔ سمجھنے کی بات

admin
10 Min Read

نکتہ داں-۱۷۶

۵ جنوری ۔۲۰۲۶

سمجھنے کی بات

۱-حقیقت یہی ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر اگلے  ۲۵ سالوں تک، مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان کی حکومتوں نے ایک کالونی کی طرح ،  استحصال کیا۔ اسی لئے اس استحصال کے مکمل سدباب کیلئے، وہاں کی قیادت نے چھ نکات پیش کئے۔ بات فوجی ایکشن تک پہنچی اور پاکستان ٹوٹ گیا۔وجہ “لاقانونیت “ 

۲-پھر اسی، آزادی کے قائد کو آزادی کے محض ۴ سال بعد ، اسکے پورے خاندان سمیت  بیدردی سے قتل کردیا گیا ۔ وجہ ؟ “بے لگام لاقانونیت”۔ 

۳- اسی قائد کی بیٹی حسینہ واجد کو، جسے بنگلہ دیش کے عوام نے ۱۹۹۶ میں پہلی دفعہ منتخب کیا تھا ۵ سال تک حکمرانی کی۔ اپنے دوسرے دور اقتدار میں، جسکی ابتدا ۲۰۰۹ سے ہوئی تھی ،  اس اقتدار کی طوالت بذریعہ دھونس ، دھاندلی ۲۰۲۴ تک جاری رہی، لیکن آخر کار، طلبا کے شدید احتجاج کے بعد، حسینہ کو اپنی جان بچانے کیلئے، ملک سے فرار ہونا پڑا۔ وجہ ؟ “بے لگام   لاقانونیت “۔

۴- سعودی عرب میں بادشاہت کے خلاف عوام الناس دبے دبے الفاظ میں ناپسندیدگی کا اظہار تو کرتے تھے لیکن، یہ لاوا سخت قوانین کی وجہ سے اندر ہی پکتا رہا۔ اسکا عمومی اظہار حرم شریف پر قبضے کی شکل میں ضرور ہوا لیکن حکومت نے اسکے بعد حرم شریف کے معاملات میں شفافیت پیدا کرکے لوگوں کے غصے کو کم کیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان اس معاملے میں بہت دور اندیش ثابت ہوئے ہیں ۔انھوں نے لوگوں کی گھٹن دور کرنے کیلئے معاشرے میں آزادی کو فروغ دیا۔ خواتین کو سعودی معاشرے میں اسکا جائز مقام دلوایا۔ انکے لئے تعلیم ، کاروبار، ملازمت اور زندگی کے تمام شعبوں میں شمولیت کے دروازے کھول دیئے ۔ میرے پچھلے دورہ سعودی عرب میں ، میرے سعودی دوستوں نے کھل کر حکومتی اقدامات کی تعریف کی، گو ایک مختصر حلقہ کچھ بیچین بھی نظر آیا لیکن انکی تعداد کم تھی۔ گویا عوام کو حکومتی کارکردگی کے ثمر پہنچنے کی وجہ سے وہاں کسی شورش کے آثار نہیں ہیں۔ وجہ ؟ معاشرے کو ملک کی معاشی ترقی سے فائدہ اٹھانے کے برابر مواقع میسر کرنا اور لا قانونیت کی نفی

۵- امام خمینی کی سربراہی میں جو انقلاب ۱۹۷۹ میں وارد ہوا تھا اس کی پشت پر ۹۹ فیصد عوام تھے۔ امریکہ کے ایما پر چھیڑی گئی جنگوں، اقتصادی بندشوں، اور دنیا سے کٹ جانے کی وجہ سے عوام کو بہت صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ لیکن ان تمام مشکلات نے ایران کو اپنے دفاع کیلئے، کسی پر بھروسہ کرنے کے عمل سے روکا اور انھوں نے بڑی خاموشی سے اپنی میزائل ٹیکنالوجی کو دنیا کے معیار کے مطابق لاکھڑا کیا۔ حالیہ اسرائیلی حملے کا ایران نے ترکی بہ ترکی ایسا جواب دیا کہ اسرائیل کو سیز فائر کروانے پر امریکہ کی مدد لینی پڑی۔ لیکن ایرانی نوجوان کی ضرورتیں اس کے علاوہ بھی ہیں۔ اسے اپنی بہتر معاشی زندگی گزارنے کے مواقع میسر نہیں۔ مہنگائی نے انکا جینا حرام کیا ہوا ہے اور اس پر طرہ  یہ، کہ حکومت نہ بولنے دیتی ہے اور نہ سنتی ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے مظاہرے کو پوری حکومتی قوت سے کچل دیا جاتا ہے۔ اگر ایران کے مولویوں کی حکومت، سعودی عرب کی پیروی کرتے ہوئے، نوجوانوں کو کچھہ معاشرتی آزادی دیدے تو سیاسی گھٹن کو کم کرنے کا موقع ملے گا۔ سیاسی گھٹن کا قائم رہنا کسی بھی معاشرے میں ترقی کی راہوں کو مسدود، بے چینی اور بیزاری کو بڑھانے اور عوام اور حکومت میں خلیج پیدا کردیتا ہے ۔ نتیجہ امریکی مالی مدد سے، ایران میں، بنگلہ دیش جیسی صورتحال پیدا ہوجانے کا احتمال بڑھتا جارہا ہے۔ وجہ ؟ حکومتی اقدامات میں عوام کی رضامندی کا فقدان۔

میرے پیش نظر سوال یہ ہے کہ ہمارے پاکستان میں ایسی صورتحال سے کیسے بچا جائے۔ یہ معاملہ سمجھنے کیلئے ہمیں تاریخ کے جھروکے میں جھانکنا پڑے گا۔

اس ملک خداداد کو سیاستدانوں کے جہد و جستجو کی بنا پر،  بنا تو لیا گیا تھا، لیکن اسکے بنائے جانے میں کچھ بین الاقوامی طاقتوں کی ضرورتیں بھی شامل  تھیں۔ اس ہی لئے،ان  بین الاقوامی ضرورتوں کے تحت، اس ملک  میں جمہوریت کو کبھی بھی  پنپنے نہ دیا گیا۔ابتدا ہی سے بیوروکریسی اور فوج کے گٹھ جوڑ کے ذریعے اور پھر،  ننگی آمریت کے زور پر ، اس ملک پر قبضہ کرلیا گیا۔ یہ عمل تقریباً ایک دہائی تک تو چل پایا لیکن عوامی امنگوں پر بند باندھنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن عوامی احتجاج اور حکومتی مزاحمت کی اس کشمکش میں،  ایک مارشل لا سے دوسرے مارشل لا کا سامنا کرنا پڑا۔ جرنیل اقتدار کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے اور عوام تھے کہ ان کو اب میٹھی باتوں سے، بہلایا نہیں جاسکتا تھا۔ اس آپا دھاپی میں نہ صرف ملک دو لخت ہوا لیکن  مارشل لا سے بھی گلو خلاصی ہوئی۔ 

لیکن، کیا منزل مل گئی ؟ حالانکہ بظاہر  آئین بھی بنا، نئے نئے پروجیکٹ بھی شروع ہوئے، مسلمان ملکوں کے اتحاد پر بھی پیش رفت ہوئی، بیرون ملک روزگار کے دروازے بھی وا ہوئے،دفاع پاکستان کیلئے نئے نئے منصوبے بھی تشکیل دیئے گئے ،  لیکن سیاسی حبس قائم رہا۔ نہ کسی کو لکھنے کی آزادی ملی اور نہ بولنے کی۔ نہ صرف یہ، بلکہ بین الاقوامی عوامل کا آلہ کار بنکر دو صوبائی حکومتیں بھی ختم ہوئیں اور  ایک صوبے میں فوجی آپریشن بھی جاری کردیا، نتیجہ عوامی بیچینی جسے بیرونی حمایت بھی میسر تھی۔ ۔وجہ “بے لگام لاقانونیت” ۔   نتیجہ ؟  اپوزیشن کی جلد بازی نے  جرنیلوں کے منصوبے کو  کامیاب کردیا۔ اور ملک کو پھر ایک طویل مارشل لا کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس مارشل لا کیلئے بین الاقوامی ضرورتیں بھی تھیں اور جب وہ ضرورتیں ختم ہو گئیں تو ، جرنل کو اب ایک بوجھ سمجھ کر، سازش کے ذریعے طیارے کے ساتھ گرا کر جلا دیا گیا۔ 

اب ایک نیا دور شروع ہوا ، جسے ناکام کرنے کا بندوبست پہلے ہی سے ترتیب دیا جاچکا تھا۔ یعنی جمہوری حکومتوں کو چلنے ہی نہیں دینا۔ نتیجتاً چار حکومتیں بنا کسی ٹھوس ثبوت کے گھر بھیج دی گئیں اور چار پارلیمنٹ بھی برخاست ہوئیں۔ 

قصہ مختصر یوں کہ ایک طرف حکومتی مشینری ، عدالتی چھتری، ،  مقتدرہ کی سازشوں اور جرنیلوں کی اقتدار  کی اندرونی دوڑ  اور ایکسٹیشن کی خواہش نے ملک کو سیاسی استحکام سے بہت دور کردیا ہے۔ 

ہمارے سیاستدانوں کیلئے سمجھنے کی بات یہ ہے، کہ غیر مستحکم پاکستان، ہمارے دشمنوں کی بھی ضرورت ہے۔ اور حکومت اور مقتدرہ  کو یہ سمجھنا چاہیے کہ طاقت کے استعمال سے چند روز تو کام چل سکتا ہے  لیکن طویل مدت تک طاقت کا استعمال  خرابی میں اضافہ کرے گا کمی نہیں۔پر امن سیاسی جدوجہد ہی پاکستان کے حالات پہتر کر سکے گی۔ اگر سیاست میں تشدد شامل ہوا تو، اس سے یا دشمن خوش ہونگے یا جرنیل۔ عوام کو ثمر نہیں مل پائے گا۔ میں اپنے استدال میں، گزشتہ انتخابات کا ذکر کروں گا۔ مقتدرہ اور عدلیہ نے تو کوئی کمی نہیں کی۔ انتخابی نشان بھی چھین لیا، پارٹی پر بھی انتخابی بندش لگادی، انتخابی رکاوٹیں اس کے علاوہ اور پولنگ اسٹیشنوں کو بھی دور دور اس طرح رکھا گیا کہ لوگ نہ پہنچ پائیں۔ لیکن عوام نے فیصلہ کیا کہ نہ صرف ووٹ کا بھرپور استعمال کرنا ہے بلکہ مقتدرہ کے ہتھکنڈوں کو ناکام بنانا ہے۔ نتیجہ عوام جیت گئے اور مقتدرہ ننگی ہو گئی ۔ایک اور  مثبت مثال چند دن پہلے ہی سامنے آئی، جب امریکہ میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم زورین نضامانی نے ایکسپریس نیوز میں، پاکستان کی نوجوان نسل کی ذہنی کشمکش اور مقتدرہ کی طرف سے ٹھونسی جانے والی حب الوطنی کے تضاد کو واضح کیا۔ اس آرٹیکل کو شاید چند ہزار لوگ پڑھ پاتے لیکن، اسے سائٹ کے ہٹائے جانے کی وجہ سے، یہ آرٹیکل سوشل میڈیا کی بھرپور توجہ کو مرکز بنا اور مقتدرہ کی خواہش کے برعکس، یہ آرٹیکل کروڑوں کی نظروں سے گزرا۔ 

آنے والے وقت میں بھی، اگر پہیہ جام کی کال دی جاتی ہے تو، بنا کسی توڑ پھوڑ اور دنگے فساد کے، ہر محب وطن پاکستانی، گھر بیٹھا رہے تاکہ ملک کے تمام شہروں ، قصبوں ، گلی کوچوں اور بازاروں میں  ُہو  کا سماں ہو۔ پورا عالم گواہی دے کہ مقتدرہ اور عوام میں دوری بدرجہ اتم موجود ہے۔ 

میرا ایمان ہے آخری جیت عوام کی ہوگی، آخری جیت جمہوریت کی ہوگی اور آخری جیت پاکستان کی ہوگی۔ انشااللٰہ العزیز 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے