Skip to main content

NUKTADAAN

Reading: ‏۲۰۳۔ ۔حلقہ یاراںن کتہ داں
Reading: ‏۲۰۳۔ ۔حلقہ یاراںن کتہ داں

‏۲۰۳۔ ۔حلقہ یاراںن کتہ داں

admin
5 Min Read

نکتہ داں۲۰۳

۲۱ اگست ۲۰۲۶

حلقہ یاراں

آجکل کے دور کی  نئی نئی ایجادات نے، نئے نئے امکانات کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ یہ امکانات مثبت بھی ہیں اور منفی بھی۔

آج میں ایک مثبت پہلو کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ سوشل میڈیا کے مختلف میدانوں میں ایک اہم میدان واٹس ایپ ہے اسکے ذریعے نہ صرف آپ اپنے دوست احباب، ہم پیشہ اور ہم نوالہ لوگوں سے، باہمی رابطے میں رہتے ہیں بلکہ واٹس ایپ کے طفیل، مختلف الخیال لوگوں کے گروپس، مختلف موضوعات پر، دوستانہ انداز میں، ایک دوسرے کے خیالات سے بہت کچھ سیکھ بھی سکتے ہیں اور اپنے علم کو دوسروں کے ساتھ بانٹ بھی سکتے ہیں۔ لیکن یہ صرف اس وقت ممکن ہے کہ جب ، کوشش مخلصانہ، انداز مؤدبانہ ، دلیل منطقیانہ ، گفتگو برادرانہ اور لحجہ دوستانہ ہو۔ 

میرے ایک نہایت قابل احترام دوست، جن سے میرا تعلق، FD Group کے توسط سے، پچھلی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے، قائم ہے، اوپر  بیان کی گئی تمام خوبیوں سے مرصع ہیں ۔ اسکی ایک بڑی وجہ، انکا خاندانی پس منظر بھی ہے۔کیونکہ بقول ایک کہاوت، آپکی زبان اور لہجہ ، آپکی  تربیت اور آباء اجداد کا پتہ دیتا ہے ۔ 

میرے دوست کے والد محترم مبین الحق صدیقی صاحب سنہ ۱۹۶۲-۶۳ کے دوران، مغربی پاکستان کی اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں۔ موصوف کاتعلق ضلع سہارنپور یو پی سے ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے وقت انکے والد علی گڑھ میں زیرتعلیم تھے۔ ۱۹۴۹ میں تعلیم مکمل ہوتے ہی، پاکستان کا رخ کیا اور اپنے خاندانی میدان، یعنی تجارت اور سیاست میں نام  پیدا کیا۔ جی ہاں میں جناب مبین الحق کے فرزند ارجمند، محترم جاوید صدیقی صاحب (جنکا شمار پاکستان کے بڑے تاجر اور صنعتکار گھرانے سے ہے) کا ذکر کر رہا ہوں۔

جاوید صدیقی صاحب سے جو بات میں نے سیکھی وہ، اختلافی موضوعات پر گفتگو کرنےکا سلیقہ ہے۔ ان کا ہتھیار  دلیل، جبکہ مرکز نگاہ،  مختلف نقطہ نگاہ رکھنے والے شخص کی بات کو سمجھنا اور خود کو اسکی جگہ پر رکھ کر سوچنا ہے۔  وہ اپنی بات منوانے کیلئے بحث نہیں کرتے، اپنی بات سے اختلاف رکھنے والے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ انکے خیالات ہر قسم کے تعصب سے بالا ہوتے ہیں، اس ہی لئے نہ صرف وہ اختلاف رکھنے والے شخص کیلئے،  کچھ جگہ بناتے ہیں لیکن اسی عمل کی وجہ سے ، وہ اس  کے دل میں بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ وہ بات،  بنا لگی لپٹی کہنے کے عادی بھی ہیں  اور اپنے نقطہ نظر سے اختلاف سننے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔یہی سب خوبیاں ہماری دوستی کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ 

پچھلے چند سالوں سے ہمارا سوشل میڈیا ، کراچی کی صورتحال پر،مختلف الخیال لوگوں کی، کچھ شہری اور کچھ سیاسی تکالیف و شکایات کے،   اظہار کا میدان بنا ہواہے، اور ان تکالیف کے پردے میں،  کچھ لوگ اپنی، توقعات،امکانات ، ممکنات اور خواہشات کے حصول کیلئے، اپنے فرمودات، کے ذریعے،  زہریلے جذبات کے بے دریغ اظہار  کی غرض سے سوشل میڈیا کو اکھاڑا بنائے ہوئے ہیں۔ 

یقیناً ہمارا ملک جب سے معرض وجود میں آیا ہے، وہ سیاسی اور معاشی استحکام کی منزل سے بہت دور رہا ہے جبکہ پاکستان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے مختلف طبقات، اپنے اپنے میلانات، ضروریات اور سب سے بڑھ کر، خواہشات کے زیر اثر، اسکا حل پیش کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں، پاکستان کے جملہ مسائل کے حل کیلئے ایک مجرد نسخہ پاکستان کے وزیر داخلہ جناب محسن نقوی کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ انکے بقول، پاکستان کے جملہ مسائل کا حل پاکستان کے صوبوں کو تقسیم کرکے مزید صوبوں کی تشکیل میں ہے۔

اس اعلان سے پورے پاکستان میں ایک سیاسی بھونچال آگیا اور ہر طرف سے کہیں تائید اور کہیں سخت مخالفت کے بیانات کی بوچھاڑ ہونے لگی۔

جاوید صدیقی صاحب کا کمال یہ ہے کہ، بجائے وہ اپنا نقطہ نظر بتاتے، انھوں نے کمال شفقت سے ، مجھے ہدایت فرمائی کہ میں اس موضوع پر اپنا نقطہ نظر بیان کروں۔ میری مصروفیات انکے حکم پر فوری عمل کرنے میں رکاوٹ بنی رہیں۔ لیکن اب مجھے وقت ملا ہے تو میں 

عرض کئے دیتا ہوں۔ 

بقیہ آرٹیکل کل ملاحظہ کیجئے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے