۱۷۷نکتہ داں۔
۱۲ جنوری ۲۰۲۶
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آسکتا نہیں
کون دادا گیر چاہے گا کہ اس کے مقابلے میں، کوئی دوسرا طاقتور، اسکے علاقے کے پچھواڑے میں آکر، اپنا اڈا چلائے۔ اس طرح نہ صرف اس کے کاروبار کو دھچکا لگے گا بلکہ شہر بھر میں، اس کے رعب، دبدبے اور خوف میں بھی، کمی آئے گی جسے برداشت کرنا اسکے لئے ناممکن ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد، دنیا میں دو ہی سپر طاقتیں تھیں ایک روس اور دوسری امریکہ۔ لیکن نصف صدی کے معاشی اتھل پتھل نے، آج ان دونوں قدیم طاقتوں کے مقابل ایک تیسری طاقت یعنی چین، بھی نمودار ہو چکی ہے۔
دوسری جنگ عظیم میں، جاپان پر ایٹم بم گرا کر فتح حاصل کرنے کے پس منظر میں ،امریکی خارجہ پالیسی کا اسلوب، محلے کے داداگیر جیسا ہوگیا ہے ۔ وہ طاقت کے زور پر ، خود کو کسی عالمی قانون کے طابع تصور نہیں کرتا۔ ایک طرف تو وہ چین کو نیچا دکھانے کے شوق میں، تائیوان (جسے چین اپنا حصہ سمجھتا ہے) کی سفارتی، معاشی اور دفاعی مدد کرتا ہے، دوسری طرف، پشاور ، پاکستان سے ، روس کی جاسوسی اور نگرانی کرنے کیلئے فوجی اڈا قائم کرتا ہے، جبکہ ایران کے رضا شاہ کو وزیراعظم مصدق کا تختہ الٹ کر، علاقے کا امریکی چوکیدار تعینات کرنا بھی (اسکے مطابق) اسکا حق ہے۔ لیکن وہیں روس کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ امریکہ کے پچھواڑے ، کیوبا میں میزائل نصب کرے یا فوجی اڈا قائم کرے۔ ۱۹۶۲ میں جان ایف کینیڈی کی حکومت نے، روسی رہنما، خروشیف کو کیوبا پر حملے کی دھمکی دیکر اور کیوبا کے اطراف مکمل بحری ناکہ بندی کرکے روسی بحری جہازوں کو کیوبا آنے سے روک کر روس کو مجبور کیا کہ وہ اپنے میزائل کیوبا سے ہٹائے۔ یہی نہیں، دنیا بھر میں اپنے معاشی مفادات حاصل کرنے کیلئے ، امریکہ اپنے مخالف ممالک کی حکومتوں کو ہٹانے کے بہانے بھی خوب جانتا ہے۔ ایران کے قوم پرست وزیر اعظم مصدق کو ایرانی تیل کمپنیوں کو قومیائے جانے کی سزا کے طور پر، اسے فوجی بغاوت کے ذریعے ہٹایا گیا۔ پاکستان میں، نہ صرف، بھٹو کی حکومت بذریعہ، ضیا چھینی، بلکہ جان بھی چھین لی گئی اور پوری قوم کو نظام مصطفٰی کی چورن بیچی گئی۔
عراق کے صدام حسین کو اسرائیل کیلئے خطرہ سمجھتے ہوئے، “و یپن آف ماس ڈسٹرکشن “ کی من گھڑت کہانی کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ ۹/۱۱ کا بہانہ بنا کر افغانستان پر حملہ کیا گیا اور اسی طرح اسرائیل کیلئے خطرہ بن سکنے والے ہر ملک کے، نہ صرف حکمران ، بلکہ پورے نظام ہی کو تہس نہس کردیا گیا، ان ممالک میں لیبیا، شام، تو تھے ہی لیکن مصر کو قابو، اس ہی کی فوج کے ذریعے کیا ہوا ہے۔ دوسری طرف روس کے بار بار انتباہ کے باوجود، یوکرین کو ناٹو فوجی اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش نے روس کو یوکرین پر حملہ کرنے پر مجبور کردیا۔
یہ تو دنیا کے اطراف داداگیری کا احوال تھا۔ جبکہ اپنے ہی علاقے، یعنی امریکہ کے پچھواڑے لاطینی امریکہ میں کاروائیاں تو مزید سنگین ہیں۔
لاطینی امریکی ممالک کو امریکہ اپنے مد مقابل دوسری عالمی طاقتوں سے دور رکھنے کیلئے، نہ صرف کیوبا کے خلاف محاذ آرائی کرتا رہا ہے، بلکہ پنامہ میں تمام حدود پھلانگ کر، پانامہ کے حکمران، مینویل نوریگا کو ۱۹۸۹ میں اغوا کرکے امریکہ لایا گیا اور یہی عمل حال ہی میں وینزویلا کے حکمران نکولس مروڈو کو بمعہ اسکی اہلیہ کے فوجی طاقت کے ذریعے امریکہ لایا گیا۔ اور الزامات ان دونوں واقعات میں تقریباً ایک سے ہی ہیں ۔ یعنی ڈرگ ٹریفکنگ اور منی لانڈرنگ وغیرہ وغیرہ
لیکن جن جن ملکوں کے خلاف امریکہ کاروائیاں کرتا رہا ہےاور کامیاب ہوا ہے اس میں قدر مشترک ایک اور بھی ہے۔یعنی، امریکہ کو کامیابی ان ملکوں میں ملی ہے جہاں کے حکمران عوام کا اعتماد کھوچکے تھے۔ کیوبا اور ایران میں امریکہ چاہتے ہوئے بھی اب تک ناکام اس وجہ سے ہوا ہے کہ عوام اور حکمران یکجا رہے ہیں۔ ہاں ایران کی موجودہ صورتحال کیا کروٹ لیتی ہے اسکا جواب وقت دے گا۔
ایشیا میں امریکی اقدامات میں ایک،مختلف ممالک میں علیحدگی کی تحاریک کو تقویت دینا شامل ہے۔ طالبان حکومت کی دہشتگردی کو فروغ دینے کی پالیسی اگر جاری رہتی ہے اور افغانستان میں اگر طالبان قیادت مزید کمزور ہوتی ہے تو خانہ جنگی کا شدید خطرہ ہے جسکی وجہ سے افغانستان کے شمالی حصے کو آزادی مل سکتی ہے۔ روس اور چین بھی افغانستان کی تقسیم کی مخالفت نہیں کریں گے کیونکہ اس طرح انکے خطوں میں دہشتگردی کی مصیبت سے چھٹکارا نصیب ہوگا۔
پاکستان میں بھی امریکی خواہش ایک کمزور پاکستان کی ہے۔ اس ہی وجہ سے امریکہ پاکستان کی مقتدرہ اور ان سیاسی قوتوں کی ہمیشہ حمایت کرتا آیا ہے کہ جنکے اعمال، حرکات، بیانات اور فیصلوں سے صوبائی تعصب بڑھے، نفرتیں پیدا ہوں اور پاکستان میں موجود مختلف لسانی، ثقافتی اور علاقائی اکائیوں کے درمیان دوریاں بڑھیں۔
لیکن صدر ٹرمپ کے حالیہ فیصلوں کی وجہ، انکی اندرونی سیاسی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے ۔ گزشتہُ ایک سالہ عرصے میں اپنی تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے، امریکہ میں، نہ صرف مہنگائی کا طوفان جاری ہے بلکہ بیروزگاری بھی عروج پر ہے۔ میڈیکل انشورنس میں کٹوتی کی وجہ سے آبادی کی نچلی معاشی سطح کے لوگ پریشان اور ناراض نظر آتے ہیں۔ امریکی عوام اپنی ناراضی کا کھل کر اظہار ہمیشہ بیلٹ بکس کے ذریعے کردیتے ہیں۔اور گزشتہ سال کے انتخابی معرکوں میں جورجیا کی سینیٹ کی انتخابی شکست اور نیویارک کے میئر کے انتخابات، (جسے ٹرمپ نے اپنی ناک کا مسئلہ بنایا ہوا تھا) میں ناکامی اور ڈیموکریٹ سوشلسٹ میئر ظہران ممدانی کی کامیابی، اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ مارچ کے مڈ ٹرم الیکشن میں عوام کا مزاج کیا ہوگا۔ اگر امریکی عوام کو نہ رجھایا گیا تو مارچ میں نہ صرف لوئر ہاؤس میں بلکہ سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی اپنی اکثریت کھوسکتی ہے۔
پاکستان میں مقتدرہ اور اسکی پروردہ سیاسی پارٹیاں، عوامی حمایت کیلئے، یا تو مذہب کا کارڈکھیلتی ہیں ، یا حب الوطنی کے چورن سے اور یا پھر علاقائی لسانیت کو ہوا دیکر لوگوں میں تفریق کا بیج بو کر اپنے سیاسی اہداف حاصل کرتی رہی ہیں۔
امریکہ میں یہ کام ، کمزور دفاع کے حامل ممالک کے خلاف، من گھڑت الزامات کی اوٹ میں کاروائیاں کرکے، امریکی عوام کو دنیا کے ممالک پر ، احساس برتری میں مبتلا کرکے سیاسی اہداف حاصل کئے جاتے رہے ہیں ۔ وینزویلا کے صدر کے بمعہ اسکی اہلیہ کا اغوا بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور پھر گرین لینڈ پر قابض ہوجانے کے بیانات تو اس نظریے کو مزید تقویت بخشتے ہیں کہ یہ سب کچھ، صدر ٹرمپ، محض داخلی سیاسی کمزوری کے خوف سے کر رہے ہیں۔ لیکن ہر عمل کا ایک رد عمل بھی ہوتا ہے۔ اگر ان تمام اقدامات کے باوجود، مارچ کے مڈ ٹرم الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کو مزید انتخابی ہزیمت اٹھانی پڑی تو پارٹی میں ٹرمپ سے نجات حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ پارٹی کے ممبران یہ سوچنے پر مجبور ہوسکتے ہیں کہ، ٹرمپ تو اپنی آخری مدت گزار کرچلا جائے گا لیکن اسکے کئے ہوئے اقدامات کی وجہ سے آئندہ الیکشن
میں جیتنا پارٹی کیلئے تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔ اس لئے مارچ کے انتخابی معرکے کے بعد، سینیٹ میں اکثریت مل جانے کے وجہ سے، اگر ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدر ٹرمپ کی امپیچمنٹ کی کوشش کی گئی تو شاید، ریپبلکن پارٹی کے کچھ ممبران اس کی حمایت کریں۔ یعنی مارچ کے بعد صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے مارچ آؤٹ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن دوسری طرف، ڈیموکریٹ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ، ٹرمپ کو نکالنے سے، اگلے الیکشن میں ہمدردی کا ووٹ انکے پلان کو ناکام بھی بنا سکتا ہے، لہذا ٹرمپ کو اسکی مدت پوری کرنے دینا ہی صحیح سیاسی حکمت عملی ہوگی۔لہذا آنے والا وقت ڈیموکریٹس کیلئے خوش آئند نظر آتا ہے۔
واللٰہ اعلم
خالد قاضی
بہترین عکاسی کی ہے ۔
شکریہ سر