Skip to main content

NUKTADAAN

Reading: ‏۲۰۵۔ نکتہ داں صوبائی مکالمہ (آخری قسط)۔
Reading: ‏۲۰۵۔ نکتہ داں صوبائی مکالمہ (آخری قسط)۔

‏۲۰۵۔ نکتہ داں صوبائی مکالمہ (آخری قسط)۔

admin
16 Min Read
Screenshot

نکتہ داں-۲۰۵

۲ ستمبر ۲۰۲۶

حلقہ یاراں میں صوبائی مکالمہ (آخری قسط)

بات اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی، جب تک مسئلے کی موجودگی کا اعتراف نہ کیا جائے اور اس کے درست حل کی نشاندہی  نہ کر لی جائے

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ انتظامی طور پر، پی پی پی کی حکومت وہ کارکردگی بالکل نہیں دکھا سکی جو سندھ بمعہ اس کے دارلخلافہ کراچی کا حق ہے، لیکن کیا صوبے بنانے کی وجہ محض خراب کارکردگی ہے ؟ اگر کارکردگی ہی معیار ہے،  تو پی پی پی سے پہلے ، جو ضیا دور سے لیکر مشرف کے دور تک حکومتیں آئیں ہیں جن میں جام صادق، لیاقت جتوئی، مظفر حسین شاہ، ارباب غلام رحیم اور مشرف کے زیر سایہ ایم کیو ایم کا راج رہا ، اس دوران کونسی برق رفتار ترقی ہو گئی ؟ یعنی صوبے بنانے کی خواہش  کی وجہ یہ نہیں کچھ اور ہے ۔ 

سندھ میں رہنے والے ہر سندھی کو (چاہے اسکی مادری زبان کوئی بھی ہو) ، یہ حق حاصل ہے کہ وہ سندھ کی وزارت اعٰلی کی خواہش رکھے۔ اس کے لئے سیاسی میدان تیار کرے اور اس خواہش کی تکمیل کیلئے سیاسی جدوجہد، دوسری جماعتوں سے اتحاد اور لوگوں کا اعتماد حاصل کر نے کی تگو و دو کرے۔ لیکن کوئی مجھ کم عقل کو  یہ سمجھائے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین آئے، افغانوں کو امریکہ، یورپ، اور دیگر ملکوں میں بطور مہاجر ویزہ دیا گیا ، بنگلہ دیش میں روہنگیا لوگ مہاجر بن کر آئے، سری لنکن ، ہندوستان آئے، کیا یہ تمام مہاجریں جب تک، ہجرت کرنے والے ملکوں کی نہ صرف شہریت حاصل کر لیں وہ نہ صرف اس ملک کی زبان سیکھیں بلکہ خود کو اس ملک کا باسی کہلوائیں تو وہ کوئی سیاسی عہدہ حاصل کرنے کے مجاز بن سکتے ہیں ؟ جبکہ سندھ میں تو وہاں کئی دہائیوں تک پیدا ہونے کے بعد بھی نہ زبان سیکھتے ہیں بلکہ اب تک اپنی شناخت مہاجر کے طور پر کر وارہے ہیں اور اس ہی وجہ سے وہاں کے اصل باشندوں کی اعلانیہ نہ صرف تحقیر کرتے، وی زبان سے نفرت کی وجہ سے سیکھنے سے انکار کرتے اور اپنی شناخت وہاں کی زمین سے کرنے کے بجائے متروکہ زمین حاصل کرنے کا دعوٰی کرتے پھریں تو ان سے بصد ادب یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ سندھ کے علاوہ پاکستان کے تین دیگر صوبوں میں بھی تو متروکہ زمین کا دعوٰی کرکے دکھائیں ، پھر دیکھیں کیا جواب ملتا ہے۔سندھ کے اردو بولنے والوں کا کچھ حصہ خود کو مہاجر کہلوا کر اپنے لئے خود ، سندھ کی وزارت اعٰلی کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ 

تو کیا، سندھی بولنا سیکھ کر ، سندھ کی ثقافت کو اپنا کر، سندھ کے سیاسی ، معاشی اور پانی کے جائز حصے کیلئے آواز اٹھا کر کوئی دیگر مادری زبان بولنے والا، سندھ کی وزارت اعلٰی کا قانونی دعویدار بن سکتا ہے ؟

بالکل ہر اس سندھی کو(بنا اسکی مادری زبان کی تخصیص) جو سندھ کے حقوق ، اسکی ثقافت، زبان ، سیاسی و معاشی معاملات کیلئے نہ صرف آواز اٹھائے بلکہ جدوجہد بھی کرے ، اسے سندھ کا حکمران بننے سے روکنا ، نہ اخلاقاً  جائز ہے اور نہ قانوناً  ۔اس کو پورا حق ہے کہ وہ سندھ کا وزیر اعٰلی بنے سندھ کے قدیم سندھی نے نہ پہلے کبھی اس کی مخالفت کی ہے اور نہ آئندہ کرے گا۔

کراچی کا میئر مرتضٰی وہاب ہے۔ سندھ کی تمام  قوم پرست جماعتوں میں سے کسی نے کبھی بھی انکو میئر مقرر کرنے پر اعتراض نہیں کیا۔

یہ الگ بات کہ انکی تحقیر ، ان ہی کی زبان بولنے والے کرتے ہیں۔ نہ صرف انکی بلکہ جس جس نے سندھ اور سندھیوں کا ساتھ دیا ان سب کی اردو بولنے والوں نے تحقیر کی۔ جمیل الدین عالی جیسے معتبر پاکستانی کو پی پی پی کے ٹکٹ دینے پر اسے اسکی زبان بولنے والوں نے ففتھ کالمنسٹ کا الزام لگایا۔ عبدالخالق اللٰہ والا کی تحقیر کی گئی ہر اس اردو بولنے والے کو برا کہا گیا جس نے پی پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا۔

میرے اردو بولنے والے بھائی  یہ بات نظر انداز کر تے ہیں   کہ سندھ میں آباد مختلف بلوچ اور پشتون قبائل، جنھوں نے نہ صرف سندھی زبان اور ثقافت کو اپنایا بلکہ سندھ کے حقوق کیلئے ہر جدوجہد میں ہراول دستہ بنے رہے انھیں سندھ کے عوام نے نہ صرف محبت دی بلکہ انھیں بخوشی اپنا حکمران بھی بنایا۔ 

موجودہ دور میں سندھ کی قوم پرست پارٹیوں کی قیادت بیشتر بلوچ رہنما کر رہے ہیں ۔ جن میں زرداری، جتوئی، رند، مگسی، چانڈیو، جمالی، کھوسو، اور برگھڑی شامل ہیں۔ پشتون قومیں جو سندھ میں رچ بس گئیں ان میں ، آغا، درانی، ترین، لودھی، کاکڑ، شیروانی اور بنگش شامل ہیں ۔پنجابی سیٹلرز میں، رانا، آرائیں، جاٹ، بھٹی، رانے، راجپوت اور گجر پچھلی کئی دہائیوں سے سندھ کی ثقافت میں رچ بس کر یہاں نہ صرف سندھی بولتے ہیں بلکہ سندھیوں سے رشتہ داریاں بھی قائم کر لیں ہیں۔ 

جبکہ سندھ میں  پیدا ہونے والی، اردو قیادت سندھ کے مسائل پر خاموش رہتی آرہی ہے۔ نہ کالا باغ ڈیم کے وقت یہ لوگ سندھ کے موقف کی حمات میں کچھ بولے، نہ نہروں کی تعمیر کی مخالفت میں جب پورا سندھ یک آواز ہوکر چیخ رہا تھا یہ اس تمام احتجاج سے لاتعلق رہے۔ جبکہ کراچی بار کے صدر جو ایک  پنجابی وکیل ہے امیر نواز وڑائچ نے سندھ میں دھرنے کو لیڈ کیا اور سندھ کے عوام نے اسے عزت دی۔ اگر ایسا شخص سندھ کی وزارت اعلٰی کا امیدوار ہو گا تو سندھ کے عوام اسے خوش آمدید کہیں گے۔

حادثہ یہ ہوا کہ ستر کی دہائی میں ممتاز بھٹو اور رسول بخش ٹالپور کی ناعاقبت اندیش اور کم عقل قیادت نے ، بہت ہی بیوقوفانہ لسانی بل پاس کروا کر ، جماعت اسلامی (جو ہمیشہ فوج کی بی ٹیم رہی ہے) کو اس بل کو بنیاد بنا کر سندھی اور اردو بولنے والے لوگوں میں لسانی نفرت کی بنیاد ڈالی۔ گو بھٹو نے فوراً،  (جی ہاں فوراً،)  نہ صرف ممتاز بھٹو کو بحیثیت وزیر اعلٰی ، (جو اس کا فرسٹ کزن تھا) اور رسول بخش ٹالپور کو بحثیت گورنر برطرف کرکے، غلام مصطفٰی جتوئی کو وزیراعلٰی اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کو سندھ کا گورنر بنایا۔اور لسانی بل بھی منسوخ کرکے نیا بل بنایا جس میں سندھی اور اردو دونوں کو سرکاری زبان تسلیم کیا گیا 

لیکن جس نفرت کی بنیاد ضیاالحق کی بی ٹیم جماعت اسلامی نے بنائی  تھی اسے ضیا ہی کی بنائی ہوئی ایم کیو ایم نے اسے نفرت کے قلعے میں تبدیل کردیا۔ اور یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ایک جرنل آکر ایم کیو ایم بناتا ہے ، پھر کچھ عرصے بعد دوسرا جرنل آکر اسکے خلاف آرمی ایکشن کرتا ہے، تیسرا جرنل اسکے دو حصے کردیتا ہے، چوتھا جرنل پھر تمام پابندیاں اٹھا کر اپنی ضرورت کے تحت اپنی آنکھ کا تارا بنا دیتا ہے اور اسکے بعد آنے والے جرنل آج تک، اپنی اپنی سیاسی ضرورتوں کے تحت ایم کیو ایم کو استعمال کرتے رہے ہیں اور ایم کیو ایم استعمال ہوتی رہی ہے۔

اور آج بھی صوبے کا نعرہ ایم کیو ایم ، نہ صرف کراچی میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ بچانے کیلئے لگارہی ہے بلکہ اسکا اصل محرک موجودہ فوجی قیادت ہے جو ایم کیو ایم کو لالی پاپ دیکر استعمال کر رہی ہے۔فوجی قیادت کا منصوبہ اٹھارویں ترمیم کے این ایف سی ایوارڈ میں رد و بدل کرنا۔ پانی، مالیاتی اور معدنیاتی وسائل پر قبضہ کرنے پر صوبائی حکومت کے پر زور احتجاج کو کم کرنے کیلئے، چھوٹے صوبے بنانا مقصود ہے۔ اس کیلئے موجودہ فوجی قیادت کو اور کہیں سے تو سیاسی حمایت نہیں مل رہی لیکن ایم کیو ایم، فوجی جرنیلوں کے ایوب خان کے بیٹے سے لیکر آج تک کے،  بننے، سنورنے، پھر ٹوٹنے ، بکھرنے پھر دوبارہ اکھٹا کرنے اور اس کے بعد پھر لاتیں جوتے کھانے ، کے بعد ،سب کچھ بھلا کر،  دوبارہ استعمال ہونے کیلئے ہاتھ باندھے تیار کھڑی ہے۔

ایم کیو ایم یہ حقیقت بالکل نظر انداز کئے ہوئے ہے کہ کل کوئی اور جرنل ہوگا ۔ اس کا مزاج اور اسکے منصوبے کچھ اور بھی تو ہو سکتے ہیں۔ ہم کیوں ان لوگوں سے بگاڑ رہے ہیں جو ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ نہ ہم کہیں جائیں گے اور نہ انکو کہیں جانا ہے۔ سندھیوں سے دوری حاصل کرنےکے لئے ایم کیو ایم کی منطق اسقدر غیر منطقی ہے کہ سوائے انکی عقل پر ماتم کے اور کیا کیا جائے۔

فرماتے ہیں کہ آبادی بڑھ جائے تو صوبے بھی زیادہ کر دینے چاہئیں۔

پورا بنگلہ دیش ایک صوبہ ہے، انڈیا کی اتر پردیش کی آبادی پورے پاکستان کے برابر ہے۔ رقبے میں ٹیکساس،  الاسکا اور کینیڈا اور آسٹریلیا کے کئی صوبے ہیں جو پورے پاکستان سے بھی بڑے ہیں ۔ 

مزے کی بات یہ بھی ہے، کہ جو” بلف “ ہماری مقتدرہ نے صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنے، سیاسی پارٹیوں کو تقسیم کرنے اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کیلئے، محسن نقوی کے بیان ، پھر آئیٗ ایس پی آر کی تائید، میڈیا پر چینلوں سے اپنے ہم نوا اینکروں کی تمہید ، لاہور میں دانشوروں ، قانون دانوں اور معتبر صحافیوں کی تردید کے بعد محسن نقوی، فیصل واوڈا ، مصطفٓی کمال، خالد مقبول صدیقی اور فواد چودھری جیسے سیاسی بے روزگاروں سے اپنے منصوبے کی تعضید کروانے کے بعد، جو ردعمل آیا ہے اس سے وہ اپنے منصوبے سے دو قدم پیچھے ہٹ گئی ہے۔ 

ایسی صورتحال میں ان تمام حمایتی لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ 

“پھر ہمیں کیوں دھکا دیا تھا “

مقتدرہ کے، اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹنے کے شواہد سامنے آچکے ہیں۔ جی ہاں۔ میں یہ بات پورے اعتماد سے کہہ رہا ہوں

اسکی وجہ مندرجہ ذیل مشاہدات ہیں

  • مقتدرہ کے ترجمان جانے پہچانے اینکرز اور سیاستدان کے بیانیے بدل چکے ہیں۔ پچھلے مہینے سے لیکر کل تک، منیب فاروق، منصور علی خان، نجم سیٹھی، عبدالمالک اور فیصل واوڈا جیسے لوگ جو پورے طمطراق سے صوبوں کے بننے کو تقدیر کا لکھا کہتے  تھے، آج کل اپنے بیانیوں میں صوبوں کے معاملے کو ثانوی گردان رہے ہیں۔ سسٹم کے چلتے رہنے کی نوید دے رہے ہیں اور شہباز شریف کو نہ صرف ۲۰۲۹ تک بلکہ اس کے بعد بھی وزیر اعظم رہتا دیکھ رہے ہیں۔ شاید یہ صورتحال دیکھ کر خالد مقبول صدیقی خاموشی سے امریکہ سدھار چکے ہیں 
  • اس بدلتی صورتحال کی وجہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں روزانہ ہماری فوج ، اپنے شہید جوانوں کی لاشیں اٹھا رہی ہے۔ دہشتگردی کا عفریت تھمنے کے بجائے روز بروز بڑھ رہا ہے
  • آزاد کشمیر کی صورتحال بھی ابھی تک قابو میں نہ آسکی ہے
  • سندھ کے ادیب، علما، دانشوروں ، تاریخ دانوں قانون دانوں صحافیوں ، سیاستدانوں غرض ہر مکتبہ فکر کے تمام لوگوں نے یک آواز ہوکر سندھ کی تقسیم کی مخالفت جس اتحاد اور جس پیمانے پر کی ہے اس نے ہمارے خاکی دماغوں کو گھما کر رکھ دیا ہے اور ان لوگوں نے اس معاملے پر ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔ اب نیا جرنل جب آئے گا جسے آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں تو پھر دیکھا جائے گا
  • صوبوں کے معاملے پر، مقتدرہ کو ن لیگ سے بھی وہ حمایت نہ مل سکی جسکی انھیں توقع تھی
  • انکا دوسرا پلان عمران خان کو رعایت دیکر پی ٹی آئی کے ووٹوں کے تعاون سے آئین میں ترمیم کرانا تھا۔ اس ہی وجہ سے ن لیگ کے پسینے چھوٹے اور حکومت نے مقتدرہ کو جھٹکا دینے کیلئے ، سپریم کورٹ کے فیصلے کی حکم عدولی کا رسک لیکر، عمران کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز لیکر گئے۔
  • ان تمام ملکی صورتحال کا نزلہ حکومت کے بجائے مقتدرہ پر زیادہ پڑ رہا تھا اس ہی لئے، پچھلے کئی سالوں سے سیاسی طور پر اونگھتی ہوئی (اپنی بی ٹیم ) جماعت اسلامی کو مقتدرہ نے اٹھنے اور عوام کا دھیان مقتدرہ کے بجائے سیاستدانوں کی طرف موڑنے کیلئے اسے دھرنے دینے کا حکم دیدیا ۔ اب آپ خود ملاحظہ کر لیں کہ ایک حافظ دوسرے حافظ کو بچانے کیلئے ملک کی ہر  سیاسی پارٹی اور ہر سیاسی لیڈر پر توپیں داغ رہا ہے لیکن سیاست کرتے جرنیل حافظ نعیم کو نظر نہیں آتے
  • کرنے کی بات یہ ہے کہ، آئینی ترمیم کرکے، صوبوں کو قانونی طور ہر پابند کیا جائے کہ وہ نچلی  لیول تک بلدیاتی اداروں کو خود مختار کرے ، انھیں صوبائی ایواڈ سے انکا جائز حصہ قانوناً دینے کا پابند کرے
  • کراچی منی پاکستان ہے۔ اس میں ہر رنگ، نسل اور علاقوں کے مختلف زبانیں بولنے والے لوگ آباد ہیں لیکن اپنے رویے سے ایم کیو ایم سے وابستہ لوگ، کراچی کی دوسری تمام آبادی سے مختلف سوچ رکھنے کی وجہ سے اس شہر میں بالکل الگ اور اکیلے رہ گئے ہیں اور ان کا سیاسی طور پر کوئی بھی ساتھی نہیں رہا ۔

   فالحال تو مجھے یہی کچھ ہوتا نظر آرہا ہے 

واللٰہ عالم بالصواب

خالد قاضی

Share This Article
2 تبصرے
  • خالد قاضی صاحب، آپ نے سندھ کی سیاسی تاریخ، انتظامی مسائل اور مقتدرہ کے کردار کا بہت ہی مدلل، فکر انگیز اور جامع تجزیہ پیش کیا ہے۔ یہ بات بالکل بجا ہے کہ کسی بھی خطے کا حقیقی باسی وہی بنتا ہے جو وہاں کی زبان، ثقافت اور حقوق کے لیے جدوجہد کرے، نہ کہ وہ جو ہمیشہ خود کو اجنبی اور ’مہاجر‘ قرار دے کر اپنے ہی راستے بند کر لے۔ جب تک بلدیاتی سطح پر اختیارات اور وسائل کی منصفانہ منتقلی کا آئینی حل نہیں نکالا جاتا اور مفاد پرستانہ ’صوبہ کارڈ‘ کے بجائے اجتماعی ترقی کو ترجیح نہیں دی جاتی، تب تک عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ آپ کا یہ تجزیہ سندھ کے مستقبل اور بین الصوبائی ہم آہنگی کے لیے ایک بہترین اور بصیرت افروز فکری رہنمائی ہے۔

    • سر بہت بہت شکریہ اپنے خیالات کے اظہار کا۔
      میں آپکے خیالات کے ہر لفظ کو درست سمجھتا ہوں اور ااپکے بتائے ہوئے حل سے بھی ۱۰۰ فیصد متفق ہوں۔ آپ سے التماس ہے کہُ آپ اپنی رائے کا اظہار اسی ہی طرح کرتے رہا کیجئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے