Skip to main content

NUKTADAAN

Reading: ‏۱۹۵۔ انتباہ

‏۱۹۵۔ انتباہ

admin
6 Min Read

نکتہ داں -۱۹۵

۳۱ جولائی ۲۰۲۶

انتباہ 

معتبر صحافی، سیاسی دانشور، تاریخ پر نظر رکھنے والے صاحبانِ علم اور  پاکستان کی مقتدرہ و اشرافیہ کی سوچ اور اداؤں پر گہری نظر  رکھنے والے اہل نظر، پچھلے تقریباً ۵ سال سے جاری،  ن لیگی حکومت کا،  ملک میں معاشی استحکام نہ لا سکنے، جس کی وجہ سے سیاسی استحکام لانے میں ناکامی  اور ملک میں جاری دہشت گردی کا قلع قمع کرنے میں ( مقتدرہ ) کی ناکامی کا بوجھ حکومت پر ڈال کر، کچھ نیا انتظام کرنے کے شوق میں، ہمارے جرنیلوں کی،  حکومت کو  تبدیل کرنے کی خواہش کو دیکھ رہے  ہیں۔ اس تبدیلی کی خواہش کے اشارے، صحافیوں کی پیشین گوئیوں سے بھرپور کالموں ، مقتدرہ کے نامزد کردہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیانات، اور مقتدرہ کی بی ٹیم جماعت اسلامی کی ۷ اگست سے پہیہ جام کردینے کی کال، دراصل ایک بساط ہے جو بچھائی جا رہی ہے۔ 

کیا اس طرح سیاسی استحکام آسکے گا ؟ 

تاریخ اس کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، جنرل عاصم منیر کو بنا سبب ، مائی فیورٹ فیلڈ مارشل نہیں کہتے !

 امریکہ کے عالمی سکیورٹی پلان میں، مسلم دنیا میں کسی ملک میں (بظاہر) جمہوریت بھی منظور نہیں ۔ 

جبکہ دوسری طرف،  پاکستان کے عوام کی عموماً اور نوجوان طبقہ کی خصوصاً،اس  ہائیبرڈ نظام سے نفرت ، عروج پر ہے۔ 

کیا پاکستان کو  دوبارہ ایک سیاسی طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا ؟

اس طوفان کی پیش بندی کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں کو بدنام کیا جائے۔ سیاسی رہنماؤں کی بے توقیری کیلئے ٹیلویژن کے اینکروں کی زبان سے وہ دُھول اڑائی جائے کہ سچ دھندلا جائے اور جمہوریت کی ہر طرح تذلیل و تحقیر کرکے ،سارا الزام سیاسی پارٹیوں پر انڈیلا جائے۔

لیکن کیا اس مرتبہ یہ چورن بکے گا ؟ میرے خیال میں، جسطرح شعلہ بجھنے سے پہلے پھڑپھڑاتا ہے، یہی کچھ مقتدرہ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

جس طرح پرویز مشرف اپنے اقتدار سے اسقدر مطمئن تھے کہ انھوں نے چیف جسٹس کو ہٹانے کی غلطی کر دی ۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اس وقت بھی اشارہ مقتدرہ ہی کے اندر سے (جنرل کیانی کی شکل میں) آیا تھا۔ہماری فوج کے ادارے میں ایسے خواہشمندوں کی کمی نہیں۔ جنرل فیض حمید کو ہم نہیں بھولے ۔

آپ داداگیری دیکھئے، کہ ایک وزیر، جو کوئی سیاسی شخصیت بھی نہیں ، بلکہ  کاروباری شخصیت ہے۔ اس کا تمام جمال اور کمال صرف یہ ہے کہ وہ فیلڈ مارشل کا منظور نظر ہے۔ اسکے اپنے محکموں کی کارکردگی نہ صرف کرکٹ میں بلکہ وزارت داخلہ میں بھی صفر ہےاور اس کے زیر اثر اداروں میں، ایسا کوئی خاص کارنامہ بھی نہیں جس پر وہ چہچہاتا پھرے۔ وہ اپنے باس یعنی وزیر اعظم کو  اعلانیہ چارج شیٹ کر رہا ہے

وہ عقل کل بن کر پاکستان کے جملہ مسائل کا حل محض صوبوں کی تقسیم کو مانتا ہے۔ 

حکومت سے اختلاف یا اس کی کسی پالیسی سے غیر مطمئن ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ۔ لیکن حکومت میں شامل وزیر کو اختلاف کا اظہار کابینہ کے اجلاس میں کرنا چاہیے۔ اپنے موقف کو دلیل اور گفتگو سے منوانا چاہئے۔ وگرنہ وزارت سے  استعفٰی دیکر، اپنا موقف عوام کے سامنے لانا چاہئے۔ لیکن ہائیبرڈ سسٹم میں، گنگا الٹی بہتی ہے۔

ن لیگ بطور سیاسی پارٹی اور شہباز شریف بطور وزیراعظم ، اگر اس گستاخانہ عمل پر خاموش رہتے ہیں، تو شہباز شریف حکومت کی رٹ صفر اور ن لیگ کی سیاسی قوت تحلیل ہو جائے گی۔ 

دیکھنا یہ ہے کہ نوازشریف اس موقعے پر، اپنے بھائی کو کیا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ انھیں اپنے طرز عمل کو (  جہانگیر کرامت کو مستعفی ہونے کا مشورہ) اختیار کرنے کو کہتے ہیں یا اسی تنخواہ پر حکومت سے چپکے رہنےکا مشورہ دیتے ہیں۔ میری رائے میں ن لیگ کیلئے یہ میک آر بریک کا مقام ہے۔ اگر اس وقت ن لیگ کوئی سخت قدم نہیں لیتی تو پھر اور زیادہ دباؤ اور دھمکی کیلئے تیار ہوجائے۔ اور اگر شہباز شریف اکڑ جاتے ہیں (جسکی توقع انکی شخصیت سے کم ہی ہے) تو پھر ن لیگ دوبارہ اپنا سیاسی مقام حاصل کرسکتی ہے۔ وگرنہ  انکی سیاسی اہمیت پر ابھی سے انالللٰہ و انا الیہ راجعون پڑھ لینی چاہیے۔

پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کا طرز عمل بھی ملک میں جمہوریت کیلئے میک آر بریک ثابت ہوگا۔ اگر سیاسی جماعتوں نے ن لیگ کا ساتھ نہ دیا ، تو اگلی باری کسی اور جماعت کی ہوگی۔ 

میرے خیال میں ملک کے مسائل کا حل پارلیمنٹ کو متحرک کرنے میں ہے۔ شہباز شریف کو فوراً پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر، ملک کو در پیش مسائل پر کھلی بحث کا آغاز کرنا چاہئے اور یہ بحث بنا کسی قطع و برید ، ٹیلی ویژن پر لائیو نشر کرنی چاہئے۔ اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس متفقہ طور پر جس  نتیجے  پر پہنچے اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو، جمہوریت مزید مخدوش ہو جائے گی 

وما علینا الی البلاغ 

خالد قاضی

Share This Article
2 تبصرے
  • Military establishment always keep media on gunpoint and forces them to malign any governmental setup. Without media support none of the tenures was overturned. Our military generals were always involved in detailing all the civilian governments but our media played real traitor role every time. The worst and anti Pakistani media I have marked during 2014 when Niazi and Tahir Ul Qadir were launched as a team against a democratic set up.

    • I fully agree with your point of view. But here political parties are to be blamed too. They should stick to the Charter of Democracy and should not go to Supreme Court, wearing black court. They MUST support democracy and let the government complete its tenure. I remember PPP stood with N league and CHOUDHRI AITIZAZ AHMED made a speech in National Assembly and supported PML N

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے