Skip to main content

NUKTADAAN

Reading: ‏۱۹۶ ۔ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں نکتہ داں
Reading: ‏۱۹۶ ۔ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں نکتہ داں

‏۱۹۶ ۔ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں نکتہ داں

admin
13 Min Read

نکتہ داں-۱۹۶

۷ اگست ۲۰۲۶

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں

ایک یونانی کہاوت ہے کہ، جب مداری کے ہاتھ کی صفائی، تماشائیوں پر واضح ہوجائے، تو پھر، مداری کا کرتب، کرتب نہیں، بلکہ مداری خود، تماشا بن جاتا ہے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں یہی کچھ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یہ کوئی پیشینُگوئی نہیں بلکہ تاریخ کا اصول ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔  

اس تمام ہنگامے کی ابتدا، پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی  (جو نہ سیاسی شخصیت ہیں ، نہ مفکر، نہ مدبر ہیں، نہ تعلیمی ماہر اور نہ ہی تاریخ دان۔ انکی اوّلین و آخری  پہچان، صحافت کے طفیل،  ایک کامیاب سرمایہ دار بنکر، اپنی کاروباری ضرورتوں کے تحت ، نیٹ ورکنگ کرکے ، ملک کے با اثر طبقات سے قربت حاصل کرنا شامل ہے۔ وہ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کے بھی قریب سمجھے جاتے ہیں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ، کئی منزلوں میں،  ہم رکاب دکھائی دیتے ہیں) کی اپنے ہی قبیلے یعنی سرمایہ داروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وہ باتیں ، اعلانات، سیاسی مسائل اور انھیں حل کرنے کے تصورات، اور انکی تجویز کردہ حل پر عمل  نہ کرنے کے خطرات سے آگاہ کیا۔ انکی تقریر نے جن وجوہات کی بنا پر، سیاسی منظر میں اضطراب پیدا کردیا وہ کچھ یوں ہیں :

  • اس تقریر سے پہلے وہ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری سے ون ٹو ون ملاقات کرنا۔
  • اپنی اعلان کردہ تجاویز ،اور ان تجاویز پر عمل نہ کرنے کے خوفناک نتائج (جس میں اصل صاحب اقتدار لوگوں کی ریڈ لائن کو عبور کرنے کی دھمکی بھی تھی) سے خبردار کیا۔
  • وہ یہ بھی بتانے سے قاصر رہےکہ انکا بیان ، انکے اپنے ذاتی خیالات ہیں، یا ، حکومتی (جسکا وہ خود بھی حصہ ہیں) منصوبہ یا یہ کوئی مقتدرہ کی تنبیہ ہے کہ یہ نہ ہوا تو اور بہت کچھ ہو جائے گا۔

لیکن پاکستان کے طول عرض سے انکے بیان پر جو رد عمل آیا اس رد عمل نے یہ ثابت کردیا کہ  پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل تاریک نہیں روشن ہے۔ محسن نقوی کے خطاب کا جواب الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر چھایا رہا۔ اس جواب میں سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا ، ممتاز صحافیوں ، ادیبوں ۔ علمی و ادبی شخصیتوں ، تاریخ دانوں ، قانون دانوں، غرض یہ کہ معاشرے کے تقریباً ہر طبقے نے اپنا اپنا حصہ ڈالا۔

جناب محسن نقوی کے بیان پر، جو سوالات اٹھائے گئے ان میں چیدہ چیدہ ،کچھ یوں تھے :

  • پاکستان کا متفقہ آئین ، کسی بھی سول یا خاکی بیوروکریسی سے متعلق ادارے کی، اعلٰی سے اعلٰی شخصیت کو ، یہ اختیار کہاں دیتا ہے کہ، وہ ملک کے نظام حکومت میں رد و بدل کرنے کی باتیں کرے۔
  • ملک کی مقتدرہ  سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کب تک،  ہر نیا آنے والا، اپنے ذاتی اقتدار کی خاطر، کبھی بی ڈی سسٹم، کبھی مارشل لا، کبھی صدارتی نظام ، کبھی مجلس شورا ، کبھی غیر جماعتی نظام ، کبھی جھرلو ریفرنڈم اور کبھی ہائیبرڈ نظام متعارف کرا کر اب بھی مطمئن نظر نہیں آتا
  • یہ بھی دھمکی سننے میں آئی کہ، خوب پردہ ہے، کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں۔ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ ہمت کرو اور مکمل اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے مارشل لا لگا دو۔ پھر دیکھو تمھارا کیا حشر  ہوتا ہے۔ تمھار حشر بھی تمھارے پیش رو شخصیات  سے مختلف نہیں ہوگا۔ جس طرح ایوب کتا کہلایا۔ یحییٰ کے ہی ساتھیوں نے اس سے زبردستی استعفٰی لیا،جنرل گل حسن محض ایک سفارت کاری پر راضی ہوا،  ضیا کو اسی کے ساتھیوں نے لقمہ اجل بنایا، اسلم بیگ نے خواہشوں کی غلامی تو پالی لیکن ہمت سے عاری رہا۔مشرف سیاسی جماعتوں کے ایکے اور کیانی کی بیوفائی کی وجہ سے مستعفی ہوا، راحیل شریف ریالوں پر راضی ہوکر چلتا بنا۔ کیانی نے ایکسٹینشن پر اکتفا کی، لیکن باجوہ ایکسٹینشن لیکر بھی ہوس اقتدار پر قابو نہ رکھ سکا اور نتیجتاً نہ صرف خود رسوا ہوا بلکہ جنرل فیض حمید بھی جرنلوں کی آپس کی لڑائی بھگت رہا ہے، ورنہ پاکستان جیسے ملک میں، کب کسی جرنل نے اپنے کئے کو بھگتا ہے۔
  • سیاسی جماعتوں کے رد عمل میں پی پی پی نے وزیر داخلہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ ن لیگ نے اعلان کیا کہ صوبوں کی تقسیم حکومتی ایجنڈے پر نہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے اس قصے کو بےوقت کی راگنی اور انکی جماعت کی صوبہ سندھ کی قیادت نے سندھ کی تقسیم کو رد کر دیا۔ 
  • ملک کے ممتاز صحافیوں نے سوالات کی بھر مار کردی۔ پہلا سوال تو یہ تھا جس نظام کو وہ ناکام کہہ رہے ہیں وہ خود اسکا حصہ اب تک کیوں ہیں۔ انکے مطابق خرابی نظام میں نہیں، نظام کو خراب کرنے والوں میں ہے، جو کبھی مارشل لا کے ذریعے، کبھی عدالتوں کے ہاتھوں، کبھی نئی پارٹیاں بنا کر، کبھی پارٹیاں توڑ کر، کبھی جعلی ریفرنڈم کے ذریعے اور دھاندلی کے ذریعے جیتی ہوئی پارٹیوں کو ہرا کر ہاری ہوئی جماعتوں کو اقتدار میں لاتے ہیں۔ خرابی ان اعمال کی ہے نظام کی ہرگز نہیں ہے۔
  • بنیادی اعتراض یہ بھی اٹھایا گیا کہ خالق مخلوق کو بدل سکتا ہے مخلوق خالق کو نہیں بدل سکتی ۔ یعنی چاروں  صوبوں نے ملکر ایک آئینی معاہدے کے تحت پاکستان بنایا ہے، صوبے پاکستان نے نہیں بنائے۔ یعنی صوبے خالق ہیں اور پاکستان مخلوق۔ اب گویا مخلوق خالق کے حصے بخرے کرنے پر تلی ہوئی ہے
  • خرابی نظام میں نہیں، نظام کو بار بار پٹری سے اتارنے والوں کی ہے۔ یہ سب،  جمہوریت کو مضبوط نہ ہونے ُ دینے والوں کی غلط کاریاں ہیں
  • سہیل وڑائچ اور مظہر عباس کی رائے میں مقصد تینوں بڑی پارٹیوں کو ختم کرکے، ایک غیر سیاسی انتظام کی تشکیل ہے جس میں سیاست کو ختم کرکے آئینی طور پر تمام حاکمیت مقتدرہ کے قدموں میں ڈالنا ہے۔ اور یہ کام مقتدرہ خود مارشل لا کے ذریعے نہیں کرنا چاہتی۔ ان میں اتنی  ہمت نہیں ہے۔  وہ موجودہ سیاسی قیادت کے ہاتھوں آئین میں ترمیم کروا نا چاہتی ہے۔ گویا سیاستدانوں کا گلا ان ہی  کی چھری اور ان ہی کے ہاتھوں کٹوانے کی تیاری ہے۔
  • سندھ کے ممتاز دانشور، لکھاری ، تعلیمی ماہر جناب جامی چانڈیو نے سوشل میڈیا پر تفصیلی طور پر اس عمل کی بد نیتی کو واضح کیا اور اسکے اصل مقاصد کو، صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنے ، اٹھارویں ترمیم کو ختم اور این ایف سی ایوارڈ میں رد بدل کرنا جبکہ  اس عمل کی مخالفت کے مواقع کو ختم کرنے کیلئے سیاسی پارٹیوں کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انھوں نے اپنی اک تحریر میں انتباہ کیا ہےکہ سندھ کو توڑنے پر ایسا خون خرابہ ہوگا کہ جس سے تاریخ کربلا کے واقعے کو بھی بھول جائے گے۔

ایسا نہیں تھا کہ ساری آوازیں مخالفت  میں ہی اٹھیں ۔ کچھ جانے پہچانے چہرے ایسے بھی تھے کہ جن کی پہچان ہی ڈکٹیٹروں کی چلمیں بھرنے کی ہیں کچھ سیاسی بیروزگار بھی شامل تھے اور کچھ حکومتی دانا چگنے کے عادی پرندے بھی چہچہاتے سنے گئے۔ مثلاً مشہور زمانہ مجیب الرحمٰن شامی ( جنکی پیشانی پر ضیا کو الیکشن ملتوی کرنے کا مشورہ دینے کا داغ ہے اور اس پر انھوں نے کبھی شرمندگی کا اظہار بھی نہیں فرمایا) انھوں نے کہا کہ اگر سندھ یا پنجاب کے ناموں سے جذباتی تعلق کی بات ہےتو اسے پنجاب ون، پنجاب ٹو یا سندھ ون ٹو تھری کے نام دیئے جانے چاہئیں۔ یعنی انھوں نے خاکی بیوروکریسی کو یہ اختیار دیدیا کہ وہ جو چاہئیں کرتے پھریں   ہاں کچھ احتیاط کرلیں ۔ محمد مالک، منیب فاروقی ، ارشاد بھٹی بھی اس ہی قبیل میں شامل نظر آئے

ان میں سے کسی نے بھی بڑی آبادی یا حدود اربعہ کو بہانہ بنا کر، اس  قطع و برید کی مخالفت یہ کہہ کر نہیں کی کہ دنیا میں سندھ، پنجاب یا بلوچستان تو کجا ، پورے پاکستان سے بھی بڑے صوبے، ریاستیں اور علاقے موجود ہیں ، جو جمہوریت سے چھیڑ چھاڑ کئے بغیر ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ انُ میں ہندوستان کے صوبے بھی شامل ہیں اور کئی امریکی ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی ریاستیں بھی۔

تقریباً ہفتہ بھر رہنے والی اس لہر کے کیا فائدے اور کیا نقصانات ہوئے ؟ 

میری رائے میں پاکستانی جنریشن زی یا کاکروچ پارٹی کے ارکان کے ذہن میں اگر کوئی دو رائے تھی بھی ، تو اب وہ ختم ہوچکی ہوگی  اور اب سب مداری کی چال سمجھ چکے ہیں اور اگر ان کرتبوں کو دکھانے کی دوبارہ کوشش کی گئی تو یہ تماشہ نہیں چل پائے گا بلکہ مداری خود تماشا بنے گا۔

ہاں اس بحث و مباحثے کی وجہ سے حکومت اور مقتدرہ، عوام کے دھیان کو، بلوچستان ، خیبر پختون خواہ اور آزاد کشمیر سے ہٹانے میں ضرور کامیاب رہی۔ لیکن یہ کامیابی وقتی ہے۔ حالات انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں میں نہیں اور پھر، کوئی نیا واقعہ ، نئی خبر اور دہشت گردی کی واردات، لوگوں کو اس طرف مبذول کروا دیگی۔ اس کا علاج ہمارے حکمرانوں نے اسرائیل سے سیکھ لیا ہے۔ اسرائیل نے بھی اپنے ظلم و بربریت کو دنیا کی آنکھوں سے اوجھل رکھنے کیلئے بین الاقوامی میڈیا کو عموماً اور الجزیرہ نیوز کو خصوصاً اسرائیل میں رپورٹنگ سے منع کر دیا ہے۔ یہی کچھ حکومت پاکستان بھی کر رہی ہے۔ اس نے بھی الجزیرہ نیوز سمیت بین الاقوامی میڈیا پر پابندیاں آید کردی ہیں ، گویا “کرلو جو کرنا ہے” 

لیکن سبکی بہرحال محسن نقوی اور ہابریڈ سسٹم کی انتظامیہ کو ضرور ہوئی ہے، کیونکہ محسن نقوی کا حالیہ بیان یہ ہے کہ “ کچھ لوگ میرے اور وزیر اعظم کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنی چاہ رہے ہیں۔ وزیر اعظم  اور یہ نظام اپنی آئینی مدت پوری کریں گے یعنی کوئی کہیں نہیں جا رہا۔ 

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مملکت پاکستان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ” کسی  بھی وقت، کچھ بھی ہوجانے کا،  یقین ہے”۔ یعنی حکومت کے قائم رہنے کی بے یقینی ہی،  ہر وقت یقیناً رہتی ہے

اگر اس بے یقینی کو یقین میں بدل دیا جائے تو پاکستان پھل پھول سکتا ہے

خدا کرے کہ نہ خم ہو سر وقار وطن

اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہرایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال

کوئی ملول نہ ہو، کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کےلیے

حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے

وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو

آمین یا رب العالمین 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے