Skip to main content

NUKTADAAN

Reading: ‏۱۹۸۔ ! نکتہ داں ۔ کبھی یوں بھی تو ہو
Reading: ‏۱۹۸۔ ! نکتہ داں ۔ کبھی یوں بھی تو ہو

‏۱۹۸۔ ! نکتہ داں ۔ کبھی یوں بھی تو ہو

admin
4 Min Read

نکتہ داں۔۱۹۷
۸ ۔اگست ۲۰۲۶

کبھی یوں بھی تو ہو !

وہ کون بد بخت ہوگا، جو پاکستان کو ترقی یافتہ ملک دیکھنا نہ چاہتا ہو ؟
ہر کوئی پاکستان کے عوام کی مشکلات میں کمی، روزگار، تعلیم ، صاف پانی اور صحت کی سہولتوں میں اضافے کا خواہش مند ہے اور ہر ایک ، یہی چاہتا ہے کہ ہر شخص کو، بنا طبقاتی فرق کے، عدل و انصاف، عزت سے زندگی گزارنے کے مواقع ، چادر اور چار دیواری کی حفاظت اور حکومتی معاملات میں اپنی رائے دینے اور اختلافی آواز اٹھانے کے آئینی طریقوں کو استعمال کرنے کی مکمل آزادی ہو۔
پاکستان میں، مختلف اوقات میں، ملک پر قابض ہر ڈکٹیٹر نے ، پاکستان کے نظامِ حکومت کو بہتر کرنے کیلئے اپنے تئیں، مختلف تجربات کئے ۔ شاید وہ تجربات کامیاب بھی ہوجاتے اگر ہر تجربے کے نتیجے کو ، اپنی ضرورت کے مطابق ، ڈھالنے کیلئے، دھاندلی کا سہارا نہ لیا جاتا۔
شاید بنیادی جمہوریت کا نظام بھی چل پڑتا، ایوب کے الیکشن بھی پاکستان کو ترقی کی پٹری پر چڑھا سکتے تھے۔ اگر ان میں دھاندلی نہ کیجاتی اور عوام کے فیصلے کو من و عن تسلیم کر لیا جاتا ۔ شاید ، جونیجو کو لانے کا تجربہ بھی نظام کو بہتر کرنے کا سبب بن سکتا تھا، لیکن اسے بھی برداشت نہیں کیا گیا ۔ بینظیر کی بھاری جیت بھی منظور نہیں تھی اس ہی لئے آئی جی آئی بنا کر پیسے بانٹے گئے تاکہ بینظیر کے مینڈیٹ کو رقیق کیا جاسکے ۔ اور نہایت بے شرمی سے اس غیر آئینی اقدام کا اعلانیہ کریڈٹ بھی لیا گیا۔
پھر سول اور خاکی بیوروکریسی نے چار حکومتوں کو نہیں چلنے دیا اور کبھی پی پی پی اور کبھی ن لیگ کو گھر بھیجا جاتا رہا۔
جب اسمبلیاں توڑنے کا ہتھیار ڈکٹیٹروں سے چھن گیا تو عدلیہ کے ذریعے نواز شریف کو نکالا گیا۔
چارٹر آف ڈیموکریسی کے بعد، جرنلوں کو تیسری سیاسی جماعت کی ضرورت پڑی ۔ لے آتے عمران خان کو بھی ، لیکن عوام کی حمایت سے ! چونکہ وہ حمایت میسر نہیں تھی لہذا نہ صرف پری پولنگ دھاندلی کی گئی، بلکہ پولنگ کے بعد، آر ٹی ایس سسٹم کو زبردستی بٹھا کر اپنے مطلب کے نتائج تیار کئے گئے۔ لیکن تب بھی نمبر پورے نہ ہو پائے، لہذا، جہانگیر ترین کے جہاز کو اڑایا گیا۔
لیکن عمران خان، جسے وہ لائے تھے ، وہ ہی گلے پڑ گیا۔ لہذا اب، اسے راستے سے ہٹانے کیلئے ، اسے لانے کے وقت، کی گئی دھاندلی سے بھی زیادہ، دھاندلی کی ضرورت پڑی۔ اور قوم کو فارم ۴۷ کی حکومت برداشت کرنی پڑی۔
اب سیاسی جماعتیں ہی نہیں چاہئیں۔ سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کیلئے، نئے نئے، حیلے بہانے گڑھے جارہے ہیں۔
سچ کو دبانے کیلئے ملکی میڈیا کے حلق پر بوٹ رکھا جاچکا اب بینُ الاقوامی میڈیا پر بھی پابندی آید ہوچکی ہے
بات نظام سے زیادہ نیت کی ہے۔ نیت کی خرابی ہی دھاندلی کرواتی ہے۔ دھاندلی کے ناسور سے چھٹکارے کیلئے، سیاسی جماعتوں میں ایک چارٹر اور ایمانداری کی ضرورت ہے۔ ہر جماعت عہد کرے کہ وہ محض حکومت کی خاطر ، کسی جرنل کا آلہ کار نہیں بنے گی۔ اگر اسے دھاندلی کرکے جتایا جاتا ہے تووہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر وہ جیت قبول کرنے سے انکار کردے گی۔ اور حقدار کے حق میں اپنی دھاندلی شدہ جیت سے دستبردار ہوجائے گی۔
کیا یہ ہوسکتا ہے، دل تو بہت چاہتا ہے کہ:

کبھی یوں بھی تو ہو ! کبھی یوں بھی تو ہو !

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے