Skip to main content

NUKTADAAN

Reading: ‏۲۰۰۔ نکتہ داں ۔عمران اسپتال میں، ن لیگ آیی سی یو میں
Reading: ‏۲۰۰۔ نکتہ داں ۔عمران اسپتال میں، ن لیگ آیی سی یو میں

‏۲۰۰۔ نکتہ داں ۔عمران اسپتال میں، ن لیگ آیی سی یو میں

admin
10 Min Read

نکتہ داں-۱۹۹

۱۹ اگست ۲۰۲۶

عمران خان ہسپتال میں اور ن لیگ ICU میں

پاکستان کی سیاست میں جرنلوں کی قلابازیاں کوئی نئی بات نہیں۔ اور ان قلابازیوں کے طفیل ملک کو جو نقصان ہوا اس  سے، نہ سیکھنے کی قسم پر بھی، یہ لوگ اب تک  قائم و دائم ہیں ۔

لیکن سیاسی جماعتیں ، تاریخ سے سبق کب سیکھیں گی۔ وہ عوامی حمایت کے بجائے اسٹیبلشمنٹ  کی بیساکھیوں  پر  اقتدار  حاصل کرنے کے تجربات سے، اپنی سیاسی قوت اور عوامی پزیرائی کو کب تک داؤ پر لگائے رکھیں گی۔

اب وقت آگیا ہے، کہ تمام سیاسی قوتیں متحد ہوکر ملک کو مقتدرہ کے چنگل سے نکالیں اور جمہوری روایات اور باہمی احترام کو فروغ دیکر، پارلیمنٹ کو ، تمام ریاستی فیصلوں کی آماجگاہ  بنا کر سیاسی استحکام کی منزل حاصل کرنے کی طرف پیش قدمی کریں۔

عوام الناس کا ملک کے نظام اور انصاف کے ایوانوں پر اعتبار اس قدر کمزور ہوگیا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے، میڈیکل بورڈ بنانے، جس میں عمران کی ڈاکٹر بہن اور انکے ذاتی معالج کو بھی شامل کرنے اور انکی بہن محترمہ علیمہ خان کی عمران خان سے ہفتہ وار ملاقات کروانے کے، آج کے عدالتی حکم پر ، ہر شخص، چاہے ن لیگ کا ہو، پی پی پی کا ہو، کسی اور پارٹی سے تعلق کے علاوہ، خود تحریک انصاف سے منسلک اشخاص بھی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ  :

” کیا کپتان نے بھی ڈیل کرلی ہے ؟”

میں اس پر رائے دینے سے قاصر ہوں، اور حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہوں

میری رائے میں جرنیل ڈیل محض ہسپتال میں منتقل کرنے اور شاید دوسرے مرحلے پر بنی گالہ کو سب جیل قرار دینے پر کبھی راضی نہیں ہونگے۔ انکی ڈیل کرنے کی شرط ہوگی کہ “چونکہ عمران خان کے پیچیدہ علاج کی سہولت پاکستان کے ہسپتالوں میں موجود نہیں لہذا عمران خان بیرون ملک چلا جائے، تاکہ اس طرح وہ نہ صرف عمران خان کے چاہنے والے نوجوانوں کے دلوں میں “اپنے میڈیائی پروپیگنڈے” اور یکطرفہ ٹی وی مذاکروں سے مایوسی پھیلا کر عمران خان کی مقبولیت کو کم کر سکیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے وقار کو کم کرکے، ملک کے نظام پر اپنی گرفت مزید مضبوط اور ملکی وسائل پر  اپنے قبضے کو مزید پھیلا سکیں ، جس میں گوادر اور کراچی کو وفاق کے زیر انتظام لانا بھی شامل ہے۔

یہ بات ن لیگ کو کب سمجھ آئے گی ؟

ن لیگ جو “ ووٹ کو عزت دو “ اور “مجھے کیوں نکالا “ کے نعروں کے بعد ایک حقیقی عوامی طاقت بن کر ابھری تھی، نے ڈیل کرکے، نوازشریف کو لندن بھیجا اور پھر مزید ڈیل کرکے، نہ صرف نوازشریف کی پاکستان میں دوبارہ آمد کا اہتمام کیا، بلکہ ۲۰۲۴ میں انتخابی ناکامی کے باوجود، اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیوں پر، ایک غیر مقبول حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ ان کی سیاسی ساکھ دوبارہ حاصل کرنے کا دارومدار ،امن و  امان میں بہتری،  معاشی ابتری میں کمی، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور مہنگائی کے طوفان کے خاتمے پر منحصر تھا۔ لیکن بد قسمتی یہ،  کہ ان میں سے کوئی بھی ہدف حاصل کرنا تو کجا ، اس سمت ، کوئی خاص پیش رفت بھی نظر نہیں آرہی۔

دوسری طرف، ہمارے جرنیلوں کو بھی پتہ نہیں کیا جلدی ہے۔ اور انھوں نے ملک کے بقیہ وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے یہ سوچ لیا ہے کہ “ابھی نہیں تو کبھی نہیں”

نہ انھیں خیبر پختون خواہ میں فوج کے جوانوں کے آئے دن، شہید کئے جانے کا کوئی درد محسوس ہوتا ہے، نہ بلوچستان میں سورج  ڈھلتے ہی ، دہشت گردوں کے راج کی انھیں فکر ہے اور نہ ہی، آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج کو بزور طاقت کچلنے کے نتیجے کی کوئی پرواہ۔ انھیں اگر کوئی فکر ہے تو وہ گوادر اور کراچی کے وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے، انھیں وفاق کے زیر انتظام کرنے کا جنون سوار ہو گیا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے انھوں نے مزید صوبوں کی تشکیل کے ظاہری ناٹک کے پس پردہ، اصل عزائم حاصل کرنے کا   ٹاسک محسن نقوی ، علیم خان ، فواد چودھری ، خالد مقبول صدیقی اور مصطفٰی کمال جیسے سیاسی بونوں کے ہاتھوں میں دیکر سمجھتے ہیں کہ انھیں کامیابی حاصل ہو جائے گی۔

سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نہ یہ ایوب خان کا دور ہے، جب عوام میں سیاسی بیداری مفقود تھی، نہ یہ رنگیلے یحییٰ کے زمانے میں رہتے ہیں  کہ جب عوام کو مشرقی پاکستان کے مسائل سے بے خبر رکھ کر گمراہ کیا گیا تھا، نہ ہی یہ ضیائی دور ہے جب ظلم، زیادتی، کوڑوں جیلوں اور پھانسیوں سے بھی عوام کے جمہوریت کیلئے عزم کو شکست نہیں دی جاسکی اور نہ ہی مشرف کا دور ، جب امریکہ کی ڈالروں کی بارش نے وقتی طور پر ہی سہی کچھ بات بنائے رکھی، لیکن انجام سب کا ناکامی پر ہوا۔ ایوب کو یحییٰ نے، یحییٰ کو جنرل گل حسن نے، ضیا کو اسی کے ساتھیوں نے، مشرف کو کیانی کی بیوفائی کی ذریعے،  زرداری نے ایوان صدر سے باہر نکالا۔

ان جرنلوں کو نکالنے میں ہمیشہ ان ہی کا کوئی ساتھی ملوث رہا ہے اور یہی تاریخ دوبارہ بھی دہرائی جائے گی، یہ کوئی پیشینُگوئی نہیں، راستے کی شناوری ہے۔

اب اک نظر ن لیگ پر۔

عدالتی حکم کے آنے پر، ن کی طرف سے،دو فکر انگیز اور دلچسپ لیکن ، مختلف بیانیے سامنے آئے ہیں۔ پارلیمانی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری اور  وزیر اعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنااللٰہ نے بنا کسی پریشانی کے بیان دئیے۔ اول الذکر نے سینیٹ میں بیان دیا کہ عدالتی حکم پر ، مکمل عمل کیا جائے گا اور آخر الذکر نے فرمایا کہ پی ٹی آئی کو یہی راستہ پہلے ہی اختیار کرنا چاہئے تھا۔ وہ بے وجہ دھرنے دیتی رہی اگر وہ پہلے ہی عدالت سے رجوع کرتی تو عمران خان بہت پہلے اسپتال منتقل ہو چکے ہوتے۔

لیکن وزیر قانون جناب نذیر تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ جناب طلال چودھری کے بیانات ، وزیر اعظم شہباز شریف کی “کانپیں ٹانگنے” کا سماں پیش کر رہی ہیں۔ وزیر قانون اور وزیر مملکت ،اس فیصلے کے خلاف عدالت سے دوبارہ رجوع کرنے  کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں۔ وجہ بودی ہے۔ فرماتے ہیں کہ سرکاری اسپتال میں علاج ہونا چاہئے پرائیوٹ اسپتال میں نہیں ، اسکے علاوہ بھی انھیں اور پریشانیاں ہیں جو ظاہری بات ہے انکی نہیں ہیں ،  شہباز شریف کی ہیں

تاریخ سیاستدانوں کی فتح، ہمیں، انکے ایکے میں بتاتی ہے۔ اور ماضی کا سبق یہ بھی ہے کہ، سیاستدان حالات کے پیش نظر، اپنے سینکڑوں اختلافات بھلا کر ، جب جب ایک ہوئے، جمہوریت کی منزل انکے قریب  آگئی ہے ۔ یہ الگ بات کہ غلطیاں کرکے وہ پھر بھنور میں پھنستے رہے  ہیں۔

اس وقت مجھے ذولفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد، محترمہ نصرت بھٹو کا ، تمام اختلافات بھلا کر ، پی این اے کے لیڈروں سے جمہوریت کی خاطر،  مشترکہ جدوجہد کرنے کیلئے ایم آر ڈی کے پرچم تلے،  جمع ہونا یاد آرہا ہے۔ لیکن ملک کے تمام سیاستدانوں کو ایک پرچم تلے اکھٹا کرنے کیلئے، ایک نوابزادہ نصراللٰہ خان جیسی قد آور شخصیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

حالات مجھے اس ہی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور قد آور شخصیت بھی درمیان میں موجود ہے۔

حکومتی وفد وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ، اور بلاول بھٹو زرداری بھی اپنے رفقاء سید نوید قمر ، شیریں رحمان اور سلیم مانڈوی والا کے ہمراہ ایک ہی شخص سے ملاقات کر رہے ہیں  ۔ کیا یہ شخص ماضی کی قداآور شخصیت جناب نوابزادہ نصراللٰہ خان کا بدل ثابت ہوسکے گا ؟ میرا یہ یقین ہے کہ محمود خان اچکزئی ایسی ہی قد آور شخصیت کے مالک ہیں۔

انشااللٰہ العزیز

خالد قاضی

Share This Article
4 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے