Skip to main content

NUKTADAAN

Reading: ‏۲۰۴۔ نکتہ داں۔، صوبائی مکالمہ
Reading: ‏۲۰۴۔ نکتہ داں۔، صوبائی مکالمہ

‏۲۰۴۔ نکتہ داں۔، صوبائی مکالمہ

admin
9 Min Read

نکتہ داں۔۲۰۴

۳۱ اگست۲۰۲۶

حلقہ یاراں میں صوبائی مکالمہ

میرے نقطہ نظر کے مطابق، صوبوں کی تقسیم پر مکالمہ،  دونوں اطراف کے نقطہ نظر رکھنے والے لوگ ، اگر جذبات میں آکر کرنے کے بجائے، اس پر علمی، عقلی اور منطقی انداز میں کریں تو بہتر نتیجے  تک  پہنچ  پائیں  گے  وگرنہ  سوائے انتشار کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

مزید صوبے بنانے کی وجہ، پاکستان کے مسائل کو  بتایا گیا ہے اور خیال یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موجودہ صوبوں کے اندر رہتے ہوئے ، پاکستان کے مسائل ناقابل حل ہی رہیں گے

اس موضوع پر بات کرنے سے  پہلے ضروری ہے کہ پاکستان کے چیدہ چیدہ مسائل کی فہرست ترتیب دیدی جائے۔ 

اس بات سے ہر شخص اتفاق کرے گا  کہ مندرجہ ذیل مسائل ہی ہمارے دوسرے تمام چھوٹے بڑے مسائل کی جڑ ہیں۔ اگر ان چند مسائل کو حل کرلیا جائے تو باقی مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔

  • میری رائے میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ، پاکستان پر اندرونی اور بیرونی ، تقریباًُُ ایک لاکھ ارب روپئے کا قرضہ ہے۔ ملکی آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے قرض کی اصل رقم بمعہ سود کی قسط اداکرنے کیلئے ہمیں مزید قرضہ لینا پڑتا ہے۔یہ مالیاتی خسارہ پاکستان کی معیشیت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے
  • پاکستان کا دوسرا مسئلہ تجارتی خسارہ ہے۔ہم ہرسال بیرونی ملکوں سے تقریبا” سترارب ڈالرکی درآمدات کرتے ہیں جبکہ ہماری برآمدات محض تیس ارب ڈالرکی ہیں۔یعنی ہرسال۴۰ارب ڈالرکا تجارتی بوجھہ ہمیں ملکی آمدنی پرڈالنا پڑتا ہے، جسکی وجہ سے ڈالر دن بدن مہنگا ہوکر،بیرونی قرضےکاحجم بھی بڑھا دیتا ہے۔
  • ، ہمارا گردشی قرضہ بھی پندرہ ہزار ارب پر پہنچ گیا ہے جسکی وجہ آئی پی پیز  سے نہ صرف بجلی مہنگی ملنے کی وجہ سے ہماری مصنوعات کی  پیداواری قیمت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ہم برآمدات میں دنیا کا مقابلہ نہیں کرپاتے۔
  • سیاسی استحکام کی عدم موجودگی کی بنا پر ملکی سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہا ہے 
  • جب ملکی سرمایہ کار اپنےملک میں سرمایہ کاری سے ہاتھ روکے رکھے گا تو بیرونی سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ کاری میں کیوں دلچسپی لیگا۔اس ہی لئے بیرونی سرمایہ کاری کا ہجمم محض ڈیڑھ ارب ڈالرسالانہ تک سکڑ گیا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ، کیا پاکستان پر اندرونی اور بیرونی قرضہ، پاکستان کا تجارتی خسارہ، پاکستان کا ہر سال بڑھتا ہوا گردشی قرضہ، ہمارے ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام اور ملکی و غیر  ملکی سرمایہ کاری، مزید صوبے بنانے سے حل ہوجائے گی یا مزید سیاسی ابتری اور  خرچہ مزید بڑھانے کا باعث بنے گی ؟

اگر مزید صوبے بن بھی جائیں تو کیا ، ہماری اسٹیبلشمنٹ، وہاں کے الیکشن میں دھاندلی سے باز آجائے گی ؟، مضبوط سیاسی جماعتوں کو توڑنے، نئے سیاسی اتحاد بنانے،اور  عدلیہ کے ذریعے حکومتوں کو غیر مستحکم یا گرانے سے باز آجائے گی ؟ کیا مزید تفریق اور اپنی گرفت مضبوط رکھنے کیلئے، نئی علاقائی و نسلی سیاسی پارٹیاں تشکیل نہیں دی جائیں گی ؟ کیا ملک کا میڈیا اسٹیبلشمنٹ کے شکنجے سے آزاد ہوجائے گا ؟  کیا سنسر شپ اور پریس ایڈوائس کا سلسلہ ختم ہو گا ؟ کیا طلبا یونینز، ٹریڈ یونینز پر موجودہ پابندی اٹھالی جائے گی ؟ اور کیا ہماری مقتدرہ پاکستان پر اپنی سیاسی اور تجارتی اجارہ داری قائم رکھنے کیلئے وہ سب کر گزرنے سے باز آجائے گی جو پچھلے ۷۵ سالوں سے اسکا طرہ امتیاز رہا ہے۔

اگر یہ سب اسی طرح جاری و ساری رہے گا تو پھر اس نئے تجربے کا مقصد کیا ہے ؟

بقول سینیٹر مشاہد حسین سید، یہ بہت پرانا امریکی پلان ہے جو وہ مختلف ادوار میں مکمل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کام جمہوری دور میں نہیں، بلکہ ڈکٹیٹروں کے ادوار یا جب جب اسٹیبلشمنٹ کا حکومت پر پلہ بہت بھاری ہو تب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ضیاالحق کے دور میں بھی مولانا ظفر احمد انصاری کی سربراہی میں، ایک کمیشن، پاکستان کے نظام حکومت میں تبدیلی لانے کے امکانات تاکہ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو کمزور اور سیاسی فیصلہ سازی سے بے دخل کیا جاسکے پر کام کیا گیا تھا ۔ 

امریکی منصوبہ صرف پاکستان کیلئے نہیں ہے بلکہ عددی طور پر تمام اسلامی ممالک امریکی پلان کا حصہ ہیں۔ اور اسی پلان کے تحت:

۱- سب سے پہلے، پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ۔

۲- سنہ ۲۰۰۲ میں ایسٹ تیمور کو انڈونیشیا سے علیحدہ کرکے انڈونیشیا کو توڑا گیا۔

۳- سوڈان کو تقسیم کرکے ۲۰۱۱ میں ساؤتھ سوڈان تشکیل دیا گیا

۴- حال ہی میں ایران کے حصے بخرے کرنے کی امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کوشش ناکام ہوئی ہے 

۵- پاکستان کو امریکہ مکمل طور پر بالکنائز نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اپنے عالمی دفاعی منصوبے کے تحت اسے اب بھی متحدہ پاکستان کی ضرورت ہے۔ لیکن وہ مصر کی طرح پاکستان میں فوج کے سربراہ کو اقتدار پر مکمل اختیار میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ :

  • پاکستان میں وفاق کی سیاست کرنے والی سیاسی پارٹیاں کمزور کی جائیں۔
  • علاقائی یا لسانی سیاسی پارٹیاں مزید بنائی جائیں ۔
  • چھوٹے چھوٹے صوبے ہونے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ انکی حکومتوں کو آسانی سے کنٹرول کر سکے گی۔
  • صوبائی وسائل کو وفاق آسانی سے اپنے کنٹرول میں لے سکے گا اور اسکے خلاف عوامی جذبات کو قابو رکھنا آسان ہوگا۔
  • آٹھارویں ترمیم کے تحت دیئے نیشنل فنائنس ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنا ( جسے قمر باجوہ مجیب کے چھ نکات سے تعبیر کر چکے ہیں) آسان ہو جائے گا۔

 اور مزے کی بات یہ، کہ جو سیاستدان  یا جماعتیں صوبوں کی تقسیم کی حمایت میں بہت زیادہ متحرک نظر آرہی ہیں  ان کی عوامی حمایت پر بڑے سوالیہ نشانات ہیں۔ ان میں ایم کیو ایم کی جملہ قیادت جو کراچی میں عمران خان کے جیتے ہوئے نیشنل اسمبلی کے ممبران کو فارم ۴۷ کے تحت ہرا کر وفاقی حکومت کا حصہ بنی ہوئی ہیں وہ اپنے وجود کو قائم رکھنے کیلئے لسانیت کا سہارا لے رہی ہے ۔

محسن نقوی کے متعلق بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ کس کی زبان بول رہے ہیں۔ 

فیصل واوڈا بھی سب کے جانے پہچانے ہیں، 

عقیل ڈیڈی صاحب سمیت بیشتر تجارتی ، صنعتی، کاروباری اور بلڈر کمیونٹی بھی پاکستان میں، امریکہ کی طرح، ون ونڈو چاہتی ہے اور یہ سب  ہمیشہ ڈکٹیٹروں کے حمایتی رہے ہیں ۔

 آجکل کے سیاسی بیروزگار فواد چودھری بھی ان لوگوں میں شامل ہیں۔

میڈیا میں اے آر وائی مستند پنڈی کے بیانیہ کا سپیکر رہا ہے ۔

 لہذا ان افراد کے بیانات کو ہر سیاسی شنید رکھنے والا شخص ، جانتا ہے کہ :

میں خیال ہوں کسی اور کا، مجھے سوچتا کوئی اور ہے

سر آئینہ میرا عکس ہے، پس آئینہ، کوئی اور ہے

ان آوازوں کے برعکس، سندھ کے دانشور، محقق، تاریخ داں ، وکلاء اور علمی و ادبی شخصیات جن میں ہر زبان اور پس منظر کے  نام شامل ہیں نے کھل کر مزید صوبوں کے قیام کی مخالفت کی ہے۔

ان ناموں میں جہاں جامی چانڈیو، نصیر میمن ، اعجاز قریشی، ایاز پلیجو وغیرہ متحرک نظر آتے ہیں وہیں ممتاز شخصیات  قیصر بنگالی، حسین نقی، مظہر عباس، وسعت اللٰہ خان، فاضل جمیلی، آفتاب خانزادہ ، شبر زیدی , قادر خان مندوخیل اور افتخار عارف جیسے معتبر نام صوبوں کی مزید تقسیم کے خلاف مدلل گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ 

لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ نظام میں خرابی ہے۔ نظام کو درست کرنے متعلق  میری گزاشات اگلی قسط میں۔ انشااللہ

خالد قاضی

Share This Article
1 تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے