Skip to main content

NUKTADAAN

Reading: ‏۲۰۷۔نکتہ داں۔ کرنے کی باتیں
Reading: ‏۲۰۷۔نکتہ داں۔ کرنے کی باتیں

‏۲۰۷۔نکتہ داں۔ کرنے کی باتیں

admin
11 Min Read

نکتہ داں -۲۰۷

۹ ستمبر ۲۰۲۶

کرنے کی باتیں

ڈاکٹر حسین پراچہ سے میرے برادرانہ تعلقات ، پچھلی ربعہ صدی پر محیط ہیں۔ پراچہ صاحب کے والد معروف عالم دین مولانا گلزار احمد مظاہری کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور ڈاکٹر حسین پراچہ کا شمار بھی  جماعت اسلامی کے خیر خواہوں میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر حسین کے فرزند ارجمند برخوردار ڈاکٹر بلال حسین پراچہ  نہ صرف امریکہ میں طبیب ہیں بلکہ انمیں دنیا میں مسلمانوں کی حالت زار کا درد بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ فلسطین سے انکی محبت، انھیں وہاں کے بے حال فلسطینیوں کی خدمت کیلئے، امریکہ سے  ایک طبی وفد کے ساتھ غزہ کےدورے پر بھی لے جا چکی ہے۔ ڈاکٹر بلال کا دل پاکستان کے حالات پر بھی تڑپتا رہتا ہے اور پاکستان کی سیاسی صورتحال اور اس میں بہتری کیلئے اپنی تجاویز کا اظہار اپنی تحریروں میں کرتے رہتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن پاکستان کے تیل کی قیمتوں میں کمی کروانے کیلئے دھرنے اور جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ اس ہی موضوع پر ڈاکٹر بلال پراچہ نے اپنی ایک تحریر مجھے پوسٹ کی۔ 

انکی تحریر اور میرا اس پر تبصرہ آپ لوگوں کی توجہ اور تبصرے کیلئے پیش کر رہا ہوں ۔ آپ اس پر کیا رائے رکھتے ہیں ؟

اصل سوال !

صوبے چار یا بے شمار ؟ 

نام نہاد بلدیاتی انتخابات ابھی، کبھی یا کبھی بھی نہیں ؟ 

پٹرول پر لیوی ( ظالمانہ ٹیکس) ، 

بجلی کے بل، 

بے تحاشہ مہنگائی پر 

ایک پارٹی کا سب کے لئے دھرنا اور ہڑتال 

درست اور بر وقت یا نہیں ؟ 

اصل سوال یہ سارے نہیں ہیں ! 

اصل سوال ہے کہ

حقِ حکمرانی کس کا ہے ؟؟

کسی ایک ادارے کا ؟ 

کسی ایک فرد کا ؟ 

تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں پر قابض بادشاہوں ، ملکاوؤں ، شہزادے شہزادیوں کا ؟ 

جو کسی وصیت یا کسی فارم ۴۷ کے بل بوتے پر اپنی پارٹی پر 

یاکراچی سے لے کر کشمیر  تک پر 

کٹھ پتلی حکومتیں چلا کر اکِ پتلی تماشا چلا رہے ہیں ! 

یا پھر

آئین کے

مطابق اللہ کے تفویض کردہ حقِ حکمرانی ہے 

اللّہ کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق 

پاکستان کی عوام کا! 

مگر کیسے ؟ 

کسی خونی انقلاب کی ضرورت نہیں ! 

محض 

حقیقی صاف شفاف انتخابات،  ہر سطح پر! 

ہر پارٹی کے صدراور ہر شہر کے مئیر سے لے کر کسی بھی صوبے ( چار یا بے شمار ) کے حاکم اور ملک کے با اختیار صدر تک، ہر عہدیدار کا براہِ راست عوام کی آزاد مرضی سے انتخاب ہو 

نہ کہ گھوڑوں کی تعداد پوری کر کے 

ہارے ہوئے ٹیکنوکریٹ کریٹ یا بگڑی ہوئی شہزادی کو عوام کی گردنوں پر مسلط کر کے! 

اور جہاں قانون اور انصاف کی حکومت ہو 

نہ کہ بے لگام طاقت کی ! 

کون یہ کر سکتا ہے ؟ 

کسی ایک کے بس کی بات نہیں ! 

ہاں مگر آغاز وہ کرے سب کو اکٹھا کرنے کا جس کے اپنے ہاں جمہوریت ہے ! 

کاش جماعت اسلامی اپنے اصل مقام کے مطابق کوئی کردار ادا کرسکے ! 

کسں نیشنل ڈائیلاگ کا اہتمام ہوسکے !

جہاں سیاست دان بھی ہوں، علماء اور دانشور بھی ہوں ، سوشل میڈیا انفلوئینسر بھی ہوں، منصف بھی ہوں ، بندوق بردار بھی ،بغیر بندوق کے، ہوں! 

تب شاید 

آئین  کی حکمرانی ، انصاف کی حکمرانی ، جمہوریت کی حکمرانی ہو  ! انشاءاللّہ

خواب ادھورے سہی 

خواب سہارے تو ہیں 

بلال حسین پراچہ 

ستمبر ۶ ، ۲۰۲۶

السلام علیکم۔ بلال بیٹا، میں یہ تبصرہ، ایک سیاست کے طالبعلم کے طور پر کر رہا ہوں، سیاسی حریف کے طور پر نہیں۔

میں سوچتا ہوں کہ جماعت اسلامی ( میری رائے کے مطابق) عوام کی توجہ کس طرح حاصل کرے ۔ کیونکہ  کچھ بھی کہا جائے، کچھ بھی توجیہ پیش کی جائے، بہرحال عوام الناس کی جماعت کی طرف جو توجہ ہونی چاہئے وہ نہیں ہے (یہ میرا خیال ہے، آپکا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے) 

آپ نے ذکر کیا ہے اچھے اور پاکیزہ، خوابوں کا ۔ وہ خواب ، جو سمت بھی متعین کریں،راستہ بھی بتائیں ،  امید بھی دلائیں اور ہمت بھی بڑھائیں ۔ یہی عصر حاضر کی ضرورت بھی ہے۔

جن خرابیوں کا آپ نے ذکر کیا ہے، جیسے، وصیت کی بادشاہت، فارم ۴۷ کی حکومت وغیرہ

لیکن یہ تمام باتیں بظاہر لوگ ہضم کر چکے ہیں ۔ اگر ۂضم نہ کی ہوتیں تو پیٹ میں بل بھی پڑتے، شور و غوغا بھی ہوتا اور کچھ ہلچل بھی ہوتی۔ لہذا ان باتوں کو بار بار دہرانے سے عوام اکتا چکے ہیں ( یہ بھی میری رائے ہے، آپ اس سے اتفاق نہ بھی کریں ) 

میرے خیال میں عوام کی توجہ حاصل کی جاسکتی ہے لیکن رٹی رٹائی باتوں ، پرانی سن سن کر کان پک جانے والی تقریروں سے نہیں بلکہ ۔ عوام کو استدلال سے یہ بتاکر کہ اگر یہ (ایک یا دو) کام ہوجائیں تو بات بن بھی سکتی ہے، ٹرین پٹری پر چل بھی سکتی ہے اور معاملات بہتر ہو بھی سکتے ہیں۔

میری رائے میں، کام صرف دو یا تین ہیں اور اگر جماعت کے زعمأ ارادہ کر لیں تو وہ کر بھی سکتے ہیں۔ اس میں جماعت اسلامی کو کسی نقصان کی بھی پرواہ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ جو نتائج الیکشن میں آتے ہیں ان سے کیا زیادہ اور کم ہو جائیں گے، لیکن اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ، عوام کی توجہ بھی ملے گی اور آپ لوگوں سے امید بھی بنے گی جو بہرحال ( فلحال ) نہیں ہے۔

کام ہمت والے ہیں لیکن کر گئے تو بلّے بلّے

آپ کے زعماء اعلان کریں کہ ملک کی تمام خرابیوں کی جڑ، دو چیزیں ہیں

• جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت 

• ⁠الیکشن میں دھاندلی

آپ قوم سے کہیں کہ جماعت اسلامی آج سے نہ فوج کو مداخلت کرنے دیگی اور نہ دھاندلی۔

لیکن وہ کیسے ؟

وہ ایسے کہ جہاں شواہد ملیں، وہاں آپ پریس کانفرنس کرکے لوگوں کو بتائیں کہ یہ غیر آئینی کام کر رہے ہیں اور انھیں خبردار کریں کہ آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں یہ وردی والے۔ عدالت میں جائیں۔ آپکو توجہ ملنی شروع ہو جائے گی

جیسے آجکل خبر آرہی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے ممبران کو فون کرکے پوچھا جا رہا ہے کہ صوبوں کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے اور انکی رائے کو بدلنے کی کوشش کیرٹ یا  اسٹک کے اصول پرکی جا رہی ہے۔

صوبوں کے معاملے پر جو بحث شروع کی گئی ہے، تو بحث کرانے والے منتظمین سے پریس کانفرنس کرکے سوال کریں کہ کس کے ایما پر یہ ہو رہا ہے کون اس کی فنڈنگ کر رہا ہے۔

آجکل سوشل میڈیا پر ریٹائرڈ فوجیوں کی لسٹ گردش کر رہی ہے کہ جنھیں مختلف ممالک میں سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ سوال کریں کہ کس ضابطے  اور کس میرٹ کے تحت یہ تقرریاں کی گئیں ہیں

ریٹائرڈ فوجیوں کو مختلف سول محکموں کے سربراہ مقرر کیا گیا ہے ۔ ان تقرریوں پر اعتراض اٹھائیں۔ آپکو توجہ ملنی شروع ہوجائے گی۔ 

اور جب محسوس کریں کہ عوام آپکی طرف متوجہ ہو رہے ہیں تو انھیں امید دلائیں کہ جماعت اسلامی کو یہ فکر نہیں ہے کہ انتخابات میں جماعت جیتتی ہے یا ہارتی ہے لیکن جماعت اپنے کارکنوں کی مدد سے ملک کے تمام پولنگ اسٹیشنوں کو اس وقت تک اپنے گھیرے میں رکھیں گی جب تک نتیجے کا سرکاری اعلان نہ ہوجائے اور اس وقت تک کسی غیر متعلقہ فرد یا کسی بھی خاکی ایجنسی کے فرد کو پولنگ اسٹیشن کے اندر تو کیا ، قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا جائے گا۔

اگر یہ کام کرلیا ( مجھے یقین ہے کہ جماعت میں اس کام کو کرنے کی اہلیت اور صلاحیت ہے، ہاں نیتوں کا حال اللٰہ جانتا ہے) 

اور آخری اہم کام نیشنل ڈائیلاگ کا اہتمام ، جس میں ملک کے تمام سیاسی جماعتوں کے سیاستدانوں ، معاشی ماہرین، سول سوسائٹی کے ممتاز افراد، تعلیمی ماہروں، ممتاز اسکالروں، ذراعت سے وابستہ ماہرین ، صحافیوں ، وکلاء ،  علماء ، ریٹائرڈ سفیروں اور اچھی شہرت کے حامل ریٹائرڈ سول اور خاکی بیوکریسی کے افسران اور جرنیلوں کو مدعو کیا جائے ۔ ان سب کی رائے سے، ملک کی سیاسی ، معاشی ، صنعتی ، زرعی اور خارجہ پالیسی کے پلان ترتیب دئیے جائیں

اگر جماعت اسلامی یہ کام کرلیتی ہے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مستقبل کی سیاست میں جماعت کا کردار مرحوم مغفور پروفیسر غفور احمد صاحب کے دور کا ہوگا۔ 

جہاں تک ہڑتالیں ، جلوس اور دھرنوں کا سوال ہے تو وہ کس کس نے اور کب کب  نہیں، کئے۔

میری رائے میں یہ پیسے ، وقت اور اپنے کارکنوں کو بے فائدہ تھکانے کی کوشش ہے۔ اس عمل سے فائدے کے بجائے عوام کی بیزاری نصیب ہوگی۔ کیونکہ ہڑتالوں ، جلوسوں اور دھرنوں کا اثر اس بے حس حکومت کو نہیں ہوگا ہاں عوام کی روز مرہ مشکلات میں اضافہ ضرور ہوگا۔

یہ میری رائے ہے اور اس سے اختلاف کا آپکو حق حاصل ہے

دعا گو 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے