نکتہ داں -۲۱۰
۲۱ ستمبر ۲۰۲۶
حمایت کا فقدان
سندھ میں، صوبوں کی تقسیم کی حمایت میں پاکستان کی مقتدرہ کو، کوئی بھی آواز نہیں مل رہی۔
انھوں نے، پیپلزپارٹی کے بد ترین سیاسی دشمنوں سے بھی رابطہ کرلیا لیکن کوئی بھی،“جی ہاں کوئی بھی” سندھ کی تقسیم کی حمایت پر تیار نہیں۔
چاہے وہ پیر صبغت اللٰہ شاہ راشدی پیر آف پگارا ہوں، کوئی مہر سردار ہو یا کوئی چانڈیو سردار۔
نہ ذولفقار مرزا راضی ہوئے اور نہ فہمیدہ مرزا۔ نہ مقتدرہ کے وظیفہ خوار کسی قوم پرست نے حامی بھری اور نہ ارباب غلام رحیم نے ۔ نہ نیو جتوئی نوشہرو فیروز کے جتوئیوں میں سے کوئی راضی ہوا اور نہ ہی دادو کے کسی جتوئی سردار نے حامی بھری۔
جبکہ دوسری طرف، سندھ کی تقسیم کیلئے بے چین، MQM, اس موضوع پر، کراچی میں اب تک نہ کسی بڑے جلسے کا اہتمام کر پائی ہے اور نہ کوئی جلوس نکال سکی۔
کراچی میں آباد ، دیگر لسانی گروپ، جن میں پشتون، پنجابی، سندھی، بلوچ، سرائیکی، کشمیری، گلگت و بلتستانی،شامل ہیں۔ غرض ان میں سے کوئی بھی، MQM کی آواز میں آواز ملاتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ کراچی کی میمن برادری کے درمیانہ درجے کے تاجر جو کراچی میں ہڑتالیں اور بھتے بھگت چکے ہیں، بھی اس معاملے میں گو مگو کا شکار ہیں سوائے اُس بلڈر میمن مافیا کے، جو کراچی میں مختلف بڑے پروجیکٹس ،عسکری طاقتوں کی پارٹنر شپ میں بنا رہے ہیں۔
کراچی کا عام شہری اس خوف میں مبتلا ہے کہ کراچی کے اردو بولنے لوگوں نے پچھلے ۲۰۲۴ کے الیکشن میں MQM کے ماضی کے کردار کی وجہ سے انھیں مسترد کردیا تھا اور اپنا ووٹ PTI کو دیا تھا۔ لیکن سب لوگ اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ مقتدرہ نے، PTI کو ہرانے کی مجبوری کی وجہ سے، (فارم ۴۷ کے ذریعے) MQM کی لاٹری نکال کر اسے کامیابی دلائی۔جبکہ مستقبل میں PTI اور مقتدرہ کے معاملات میں بہتری بالکل نظر نہیں آرہی جسکا مطلب ہے کہ MQM مستقبل میں بھی مقتدرہ کی کمزوری رہے گی۔ گویا اگر کراچی الگ صوبہ بنا تو MQM کا راج ہوگا اور مشرف کے دور کی طرح ، MQM کی طرف سے مقتدرہ آنکھیں بند رکھے گی۔ یہ سوچ کر ہر شہری کے جسم میں کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ اس ہی لئے کراچی کا اعتدال پسند اردو داں طبقہ بھی سندھ کی تقسیم پر MQM کا حامی نہیں۔ بلکہ اعلانیہ تقسیم کا مخالف ہے۔ مخالفت کرنے والوں میں بڑے نام، ممتاز تاریخ داں ڈاکٹر مبارک علی، جمیعت علماۓ پاکستان کے شاہ اویس نورانی، افتخار عارف، پیر زادہ قاسم، شبر زیدی، قیصر بنگالی، مظہر عباس، وسعت اللہ خان، مجاہد بریلوی، فاضل جمیلی، پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان ، ڈاکٹر ناظر محمود، ڈاکٹر سید جعفر احمد، ڈاکٹر عمیر احمد خان ، محمود شام شامل ہیں
لیکن دوسری طرف، مقتدرہ کو یہ فکر لاحق ہےکہ انکا اس وقت پیچھے ہٹنا دراصل انکے غیر اعلانیہ اقتدار کی ڈھلان ثابت ہو سکتا ہے۔ مقتدرہ پہلے ہی، نہروں کے معاملے میں پیچھے ہٹ چکی ہے، اگر اب بھی پیچھے ہٹ گئی تو یہ عمل انکے اقتدار کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، اس ہی لئے وہ بضد ہیں کہ کسی نہ کسی عنوان کے تحت وہ اپنا ہدف حاصل کریں۔ انکے اہداف میں :
- سندھ کے مزید انتظامی ٹکڑے کرکے کراچی اور کراچی سے لیکر گوادر تک کی سمندری پٹی ، بشمول گوادر کی بندرگاہ ، جو اس خطے کے بدلتے سیاسی حالات کے پیش نظر مستقبل میں معاشی ترقی کا سنگ میل ثابت ہونگے کے جملہ وسائل پر قبضہ کرنا شامل ہے
- انتظامی بنیادوں پر تقسیم شدہ حصوں کی وجہ سے یہاں مخالف تحریکوں اور مخالف آوازوں کو کنٹرول کرنا آسان ہوگا۔ کیونکہ نہروں کے معاملے پر اور صوبے کی تقسیم پر تمام سندھ کا یک زبان ہوکر مخالفت کرنا انکے پلان کی نفی ہے۔
- صوبوں کو تقسیم کرکے، ۱۸ ویں ترمیم کو رول بیک کرنا آسان ہو جائے گا
ملک کے موجودہ حالات میں مقتدرہ کیلئے، اپنے اہداف کا حصول، اس وجہ سے مشکل ہوگیا ہے، کیونکہ:
ملک کے تمام نامور، پروفیسرز، معاشی، سیاسی ، معاشرتی و تعلیمی ماہرین، صحافی، وکلاء ، تاریخ داں، کے علاوہ سیاسی جماعتیں بھی اس تقسیم کے خلاف بول رہی ہیں اور سوشل میڈیا مقتدرہ کے موقف کو کمزور ثابت کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے
سیاستدانوں میں سندھ کے علاوہ جو گرجدار آواز گونج رہی ہے وہ مولانا فضل الرحمٰن کی ہے، وہ ہر روز جرنلوں کو للکار رہے ہیں۔
مقتدرہ نے اپنے پروردہ جانے پہچانے اشخاص کے ذریعے جس بحث کا آغاز کیا اس کے مدعوئین بھی مقتدرہ کے ڈھول کا پول کھول رہے ہیں ۔
جبکہ ، اس بحث کی ابتدا میں وزیر داخلہ اور پھر اسکے بعد ISPR کے ترجمان نے جس طمطراق سے اس فیصلے کو “ تقدیر کا لکھا” کہہ دیا تھا اور اسکے بعد ترجمان صحافیوں نے اس فیصلے کو “فرمان الٰہی” ثابت کرنے میں جس طرح کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی ، اب اس طرز گفتگو سے پیچھے ہٹنا دراصل شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔
اس پوری صورتحال کے دوران، حکومتی ن لیگ، پہلے تو گویا انجان ، پھر نادان ، اسکے بعد حیران اور اب پریشان اس وجہ سے نظر آرہی ہے کیونکہ اسکے اندر سے اسکے اپنے زیرک، دوراندیش اور وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے شناور سیاستدانوں نے اپنی قیادت کی گو مگو کو اعلانیہ للکارا ہے۔ ن لیگ کے ان لیڈروں کے سرخیل خواجہ سعد رفیق، جاوید لطیف اور خرم دستگیر کی اختلافی آوازوں نے، ن لیگ کے مشیر سیاسی امور رانا ثنااللٰہ صاحب اور وزیر پارلیمانی امور، ڈاکٹر طارق فضل چودھری کا یہ بیان کہ صوبوں کا معاملہ اکتوبر میں قومی اسمبلی میں بحث کیلئے پیش کیا جائے گا اور اس پر مکمل بحث اور پارلیمانی طریقے جس طرح ۱۸ویں ترمیم پاس ہوئی تھی وہی طریقہ اپنایا جائے گا کہہ کر گویا مقتدرہ کو لال بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔
جبکہ مقتدرہ کے ترجمان سمجھے جانے والے صحافیوں اور اینکروں کے اشاروں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مقتدرہ اس معاملے کو، کیسے بھی ہو ، اپنے منصوبے کی تکمیل ہی پر منتج کروانے پر مصر لگتی ہے۔
جبکہ سندھ اسمبلی کی قرار داد کے توڑ کیلئے ریفرنڈم کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے۔
ماہرین آئین و قانون افراد یہی رائے دے رہے ہیں کہ قانوناً یہ منصوبہ ناممکن نظر آتا ہے۔
سوال یہ ہے، کہ کیا مقتدرہ اپنے منصوبے کی تکمیل کیلئے سرخ لکیر پھلانگے گی۔
اگر سرخ لکیر عبور کی گئی تو، خاکی راج کا اختتام قریب نظر آتا دکھائی دیتا ہے۔
آنے والا ہفتہ اپنے اندر کئی امکانات چھپائے ہوئے ہے۔
پی ٹی آئی کا پروگرام تو ۲۷ ستمبر کو ہے لیکن اسے ناکام کرنے کا اہتمام ابھی سے گرفتاریوں اور بندشوں سے کیا جارہاہے لیکن دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے کہیں پہلے جماعت اسلامی اپنے لانگ مارچ کا آغاز کرچکی ہے لیکن انکے لئے کوئی گرفتاری یا رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ اس ہی طرح کا ایک اور مظاہرہ پچھلے مہینے پورا پاکستان دیکھ چکا ہے۔ سندھ کی تقسیم کے خلاف تقریریں کرنے پر ایاز پلیجو کو وزارت داخلہ کے ماتحت ادارے نے تفتیش کیلئے بلا لیا تھا لیکن، ایم کیو ایم کے چیئر مین نے جب جلسے میں مہاجروں کو ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دی تو انکے اس عمل کو بصد عنایت نظر انداز کردیا گیا۔
کیا سرخ لکیر عبور کرنے کے حالات بنانا مقصود ہے ؟
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی