نکتہ داں -۲۱۷
۲۶ اکتوبر ۲۰۲۶
ریٹائرڈ برگیڈیئر طارق قادر لاکھیر سے گفتگو قسط -۲
بریگیڈیئر صاحب کے مطابق، تھر کول پروجیکٹ کا ذکر کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ تھر کے پس منظر سے آگاہ ہوا جائے۔
یہ کہانی دراصل قیام پاکستان سے بھی پہلے کی ہے۔ برطانوی استعمار، کے دور میں، سنہ ۱۹۳۸ اور ۳۹ ۱۹کے دوران، مشہورِ زمانہ ایکژون کمپنی برطانوی حکومت کے ایما پر، گھوٹکی کے اطراف، اس پورے علاقے کی، (جسمیں موجودہ ہندوستان کا, جیسلمیر، احمد آباد سے لیکر بمبئی تک کا علاقہ شامل ہے) ، تیل کی تلاش شروع کی۔ ایکژون کی تلاش جو کئی سالوں ، پر محیط تھی، نے سنہ ۱۹۴۸، ۱۹۵۰ میں شائع کردہ رپورٹوں اور ۱۹۵۲ کی اپنی حتمی رپورٹ میں، اس علاقے میں گیس، پانی، کوئلے اور گرینائٹ کی موجودگی کا عندیہ دیا ۔ ایکژون کی دلچسپی ُاس وقت محض تیل اور گیس کی دریافت میں تھی لہذا اس نے اپنا کام ، محض رپورٹ تک محدود کر کے ، سامان سمیٹ لیا۔جبکہ گھوٹکی میں کنویں کھود کر سندھ سے گیس کی پیداوار شروع کی ۔ اگلے مرحلے میں ایکژون نے، گھوٹکی میں پاکستانی تاجر حسینُ داؤد کی شراکت سے،فرٹیلائزر کا کارخانہ اینگرو پاکستان کے نام سے شروع کیا۔ بعد کے ادوار میں، حسین داؤد نے ایکژون سے فرٹیلائزر کا کارخانہ اپنے ایمپلائیز کے تعاون سے خرید لیا اور رفتہ رفتہ اس کارخانے کی استعداد بڑھا کر اسے ایشیا کا سب سے بڑا فرٹیلائزر کارخانہ بنا دیا۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی سے متاثر ہوکر ،حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے تعاون سے، پاک سعودی فرٹیلائزر لمیٹڈ کارخانہ قائم کیا، لیکن پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے دوران پاک سعودی فرٹلائیزر کو پرائیوٹائز کرکے، اسکی ۱۰۰ فیصد تحویل فوجی فرٹلائیزر کو دے دی گئی۔
جبکہ ہندوستان میں ، جواہر لال نہرو کی حکومت نے اپنے علاقے میں موجود کوئلے کی کھدائی کرکے بجلی پیدا کرنے کا کام ۱۹۵۸ میں شروع کردیا تھا۔ لیکن ہندوستان اور پاکستانی علاقوں میں کوئلے کی مقدار میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔ انکی طرف کوئلے کی پرتوں کی موٹائی، ڈھائی سے ساڑھے تین فٹ سے زیادہ نہیں تھی جبکہ ہماری جانب یہ پرتیں، نہ صرف ،(اللہ کے فضل و کرم سے)، کہیں ۶ فٹ، کہیں ۷، کہیں ۸ اور ۹ فٹ سے لیکر ۱۲ فٹ تک کی موٹائی کے ساتھ، لاتعداد مقدار میں موجود تھیں۔ چونکہ ہندوستان کی طرف پاکستان کے مقابلے میں کوئلہ بہت قلیل تھا اسلئے ۱۹۵۸ میں کوئلے سے شروع کی گئی بجلی کی پیداوار، سنہ ۱۹۸۵ تک ہی جاری رہ سکی ۔ جبکہ ہمارے کوئلے کی مقدار، صدیوں تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شرط یہ کہ، اگر اس سے فائدہ اٹھایا جائے ۔
ہماری گزشتہ حکومتیں تھر کے اس خزانے کو بھلا چکی تھیں۔ لیکن اس بھلا دینے کے پس پردہ ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ، تیل درآمد کنندگان کی مافیا اپنے غیر ملکی معاونین کے اشتراک سے بیوروکریسی کو استعمال کرکے پاکستانی حکومتوں کو تھر پروجیکٹ کی مخالفت پر آمادہ کرتی رہیں اور اس پروجیکٹ کے ناقابل عمل ہونے کا پروپیگینڈا شروع کردیا جبکہ انکے اس عمل میں کالا باغ ڈیم بنانے کے سیاسی حامیوں نے بھی آواز ملائی۔
بینظیر کی پہلی وفاقی حکومت کے دوران، سندھ کے بنجر علاقوں کی ترقی کے پیش نظر، ۱۹۸۸ میں، حکومت سندھ کے محکمے “ سندھ ایرڈ زون ڈویلپمنٹ اتھارٹی” (SAZDA) نے، تھر کے صحرا کے باسیوں کیلئے، حکومت برطانیہ کے اوورسیز ڈیولپمنٹ ایجنسی(ODA) کی معاونت سے، تھر میں، پانی کی تلاش کا کام، گہرے کنویں کھودنے سے شروع کیا۔ اس کھدائی کے دوران اسلام کوٹ کے مشرق میں، ۱۵ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں “ خیرو غلام شاہ” میں کنویں کی کھدائی سے یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ کوئلے کی پرتیں، زمین کی ۱۲۶ سے ۱۲۹ میٹر گہرائی کے درمیان پھیلی ہوئی ہیں اور ان پرتوں کے بالائی حصے ، یعنی زمین سے ۵۰ سے لیکر ۹۰ میٹر کی گہرائی ، اور پھر ۱۲۰ میٹر کی گہرائی میں پانی کا زخیرہ موجود ہے جبکہ ۱۸۰ سے ۲۰۰ میٹر کی گہرائی پر بھی، پانی وافر مقدار میں موجود ہے۔
کوئلے کے اس مدفون ذخیرے کی اصل مقدار اور ماہیت جاننے کیلئے ۱۹۸۹ میں پاکستان جیولوجیکل سروے (GSP) نے یونائیٹڈ اسٹیٹس جیولو جیکل سروے (USGS) کے تعاون سے تحقیق کی، جس کے نتائج کے مطابق ، یہ دنیا کا اب تک دریافت کیا جانےٗوالا سب سے بڑا کوئلے کا ذخیرہ ہے جسکی پھیلی ہوئی ۹ لاکھ پرتوں میں چھپے ہوئے کوئلے کا وزن، ۱۷۵ ارب ٹن ہے۔ اس دریافت میں کئے گئے کوئلے کے جلنے کی قابلیت امریکی لیباریٹری سے، جبکہ اسکی تجارتی بنیادوں پر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی فیز یبلٹی رپورٹ ، دنیا کی مقبول جرمن کنسلٹنگ فرم (RWE) کے ڈاکٹر تھامس رائے کی معاونت سے مکمل کی گئی۔
صدر آصف علی زرداری کے پہلے صدارتی دور میں یہ منصوبہ وفاقی حکومت کے، “ کونسل آف کامن انٹریسٹ “ کی لسٹ میں شامل رہا ۔ لیکن اسکی ابتدائی مہنگی لاگت کی وجہ سے ، “سی سی آئی” کی پرائیرٹی لسٹ میں اس پروجیکٹ کا نمبر ۱۷ واں تھا۔ ہر سال بجٹ ، سے پہلے پلاننگ میں یہ پروجیکٹ موجود تو ہوتا رہا لیکن اس پروجیکٹ کومنظوری نہیں مل پاتی تھی۔
اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد،اس پروجیکٹ کی تکمیل، وفاقی حکومت سے ہٹ کر صوبہ سندھ کی ذمہ داری بن گئی۔
حکومت سندھ، اس پروجیکٹ کی بہت بڑی لاگت کے پیش نظر اسے “ پبلک اینڈ پرائیوٹ پارٹنر شپ” کے ذریعے مکمل کرنا چاہتی تھی۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ آغاز، پوری شفافیت کے ساتھ کیا جائے تاکہ دنیا بھر کے پرائیوٹ انویسٹرز اور پاکستانی صنعت کاروں کا اعتماد، ( جو ۱۹۷۲ میں پیپلز پارٹی کے صنعتوں کو قومیانے کی وجہ سے ختم ہوگیا تھا )اسے بحال کیا جاسکے اس مقصد کے حصول کی خاطر، بین الاقوامی بڈرز کو مدعو کیا گیا۔ انگلینڈ، جرمنی، ساؤتھ افریقہ ، چین اور سنگاپور کی کمپنیوں نے ابتدائی دلچسپی ظاہر کی، لیکن، تھر کے کوئلے میں لگنائٹ کی موجودگی اور نمی کی زیادتی کی وجہ سے اسے تجارتی بنیادوں پر کم نفع بخش سمجھ کر بڈنگ سے پیچھے ہٹ گئے
بین الاقوامی بڈرز سے مایوسی کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایک طرف چین کی اعلٰی قیادت کو اپنے ذاتی تعلق کے ذریعے اس پروجیکٹ میں شامل ہونے پر آمادہ کیا، دوسری طرف انکی خواہش پاکستان کی مقامی کمپنیوں کو، اس پروجیکٹ میں شراکت کیلئے راضی کرنا بھی تھا۔پاکستانی شراکت دار کو راضی کرنے کا کام ، اس وقت کے وزیر اعلٰی سندھ، سید قائم علی شاہ اور وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ کے سپرد ہوا۔ انھوں نے اینگرو پاکستان کے مالک حسین داؤد کو اس پروجیکٹ میں شراکت داری کیلئے آمادہ کیا۔ حسین داؤد بھی ، بھٹو دور میں اپنے کارخانے قومیائے جانے کی وجہ سے پیپلز پارٹی سے خائف تھے۔ لیکن سندھ حکومت کی قیادت نے، جناب شمس الدین شیخ کے تعاون سے ( جو اینگرو پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر تھے) کی مدد سے حسین داؤد کو “انکی شرائط پر “ راضی کرنے کی پیشکش کی۔حسین داؤد کو راضی کرنے میں سب سے بڑا کردار دراصل شمس الدین شیخ صاحب کا ہے۔ حسین داؤد اس شرط پر راضی ہوئے کہ پروجیکٹ کے ۵۶٪ فیصد شیئر تو سندھ حکومت کے ہونگے ہی ، جبکہ ۴۶٪ فیصد اینگرو پاکستان ( بمعہ انکے کئی شراکت داروں کے جن میں حبیب بینک، چین کی کمپنی وغیرہ بھی شامل تھے)، لیکن (چھوٹے پارٹنر ہونے کی باوجود)، پروجیکٹ کے تمام آپریشنل اور انتظامی اختیارات بنا شرکت غیرے اینگرو پاکستان کے تحت ہونگے اور حکومت سندھ کی کسی قسم کی دخل اندازی قبول نہیں کی جائے گی۔ سندھ حکومت انکی شرائط کو من و عن ماننے کیلئے تیار ہوگئی تاکہ پروجیکٹ شروع ہو سکے۔اب اگلا مشکل مرحلہ یہ آگیا کہ، پاور پلانٹ بمعہ اس سے متعلق تمام آلات اور تعمیرات کرنے والی چین کی کمپنی، پروجیکٹ شروع کرنے سے قبل حکومت پاکستان سے ۷۵۰ ملین ڈالر کی ساورن گارنٹی کے بغیر کام شروع کرنے کیلئے تیار نہیں تھی۔ جبکہ وفاقی حکومت، یہ گارنٹی دینے سے انکاری تھی۔
یہ وہ دور تھا جب صدر پاکستان آصف علی زرداری ، وزیراعظم نوازشریف یعنی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے تعلقات بظاہر بہت عمدہ تھے۔ لیکن اس دوستی کے باوجود، نواز شریف حکومت یہ ساورن گارنٹی دینے پر آمادہ نہیں تھی۔ اس معاملے کو سندھ حکومت نے سرکاری طور پر وزیراعلٰی کے خط کے ذریعے، پھر کونسل آف کامن انٹریسٹ میں بھی اس معاملے کو اٹھایا، لیکن ، وفاق کی طرف سے سرد مہری جاری رہی۔ آخرکار، صدر زرداری نے وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ میں وفاقی حکومت کے معاملات چلانے کیلئے پیپلز پارٹی کی حمایت کی مجبوری کو، ہتھیار بنا کر، ن لیگی حکومت کو ساورن گارنٹی دینے پر مجبور کیا۔ نوازشریف اس شرط پر گارنٹی دینے کو تیار ہوئے کہ ، گو کاغذی طور پر تو وفاقی حکومت گارنٹی دیدے گی لیکن حقیقتا ۷۵۰ ملین ڈالر کا انتظام سندھ حکومت کو خود کرنا ہوگا اور پروجیکٹ کی ناکامی کی صورت میں وفاقی حکومت سندھ کے سالانہ ایوارڈ سے رقم فوراً منہا کردے گی۔صدر آصف علی زرداری یہ شرط بھی مان گئے۔ اور نوازشریف نے ساورن گارنٹی کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا۔
لیکن چین کی کمپنی گارنٹی کے پیسے اپنے اکاؤنٹ میں آنے سے پہلے کام شروع کرنے کیلئے تیار نہ تھی۔
صدر آصف علی زرداری نے فوراً سندھ کابینہ کا اجلاس صبح ۱۱ بجے بلایا۔ اجلاس شام ۵ بجے تک جاری رہا ۔ اور اس دوران، صدر زرداری نے سندھ حکومت کے تمام منصوبوں ، جس میں تعلیم ، بلدیات، تعمیرات ، شاہراہوں کی تعمیر کے بجٹ سے کٹوتی کر کے ۷۵۰ ملین ڈالر کی رقم،سندھ حکومت سے حاصل کرلی۔ اجلاس کے بعد، رات بھر سندھ سکریڑیٹ اور وزیر اعلی ہاوس مصروف کار رہا اور اگلے دن صبح گیارہ بجے تک،۷۵۰ ملین ڈالر کی خطیر رقم سٹیٹ بینک کے ذریعے چین کی کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دی –
وفاقی حکومت، اپنے لیٹر آف ساورن گارنٹی کے اجراکے دوسرے ہی روز برق رفتاری سے رقم کے چین منتقل ہونے کے عمل سے ششدر رہ گئی۔
یوں، صدر آصف علی زرداری کے پہلے صدارتی دور اور نواز شریف کے وزیراعظم ہونے کے دوران دونوں نے اس منصوبے کا مشترکہ طور پر سنگ بنیاد ۳۱ جنوری ۲۰۱۴ کو رکھا ۔
اس متعلق میرا پہلا سوال یہ ہی تھا کہ ، بریگیڈیئر صاحب ،اس پروجیکٹ میں آپکی شمولیت کا پس منظر کیا تھا۔ فرمایا کہ اس کے ایک نہیں کئی پہلو ہیں۔ انکے مطابق ، میرا نام دراصل شمس الدین شیخ نے حسین داؤد کو پیش کیا۔ انھیں اعتماد میں لینے کے بعد اینگرو پاکستان کے ایچ آر کے چیف جناب کاشف سومرو نے مجھ سے رابطہ کیا۔ انکے اور شمس الدین شیخ کے مطابق، حکومت سندھ، کیلئے مالی طور پر یہ پروجیکٹ بہت بڑا رسک ہے ، لہٰذا وہ قابل اعتماد ہاتھوں کی تلاش میں ہیں۔جبکہ اس پروجیکٹ کے پرائیوٹ پارٹنر “اینگرو “ بھی ، آپکے نام پر راضی ہیں۔ تھر پروجیٹ کا، سی پیک سے نتھی ہونا، اورپھر ہندوستان کی سرحد سے قریب ہونا سکیورٹی کیلئے کئی خطرات پیدا کر رہا ہے۔ جناب شمس الدین شیخ سے میری شناسائی، سکیورٹی کے مسائل حل کرنے کیلئے میرا فوجی پس منظر، سندھ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سندھی زبان ، سندھ کے قوم پرست لیڈروں کی غلط فہمیاں دور کرنے کی صلاحیت ، یہ تمام لوازمات، اس پروجیکٹ کے تمام فریقین جس میں حکومت سندھ، اینگرو پاکستان کے مالک جناب حسین داؤد، اینگرو انرجی کے سی ای او شمس الدین شیخ اور پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں کے ذمہ داران میرے نام پر متفق ہوگئے۔
بریگیڈیئر طارق نے زور دیکر کہا، کہ اس پروجیکٹ میں میری شمولیت تو بہت بعد کی بات ہے، اس عظیم کام کی ابتدا کا سہرا تو درحقیقت حکومت سندھ اور صدر آصف علی زرداری کے وژن ، اس وقت کے وزیر اعظم نوازشریف کی معاونت، اینگرو پاکستان کے مالک جناب حسین داؤد کی ٹیم بنانے کی صلاحیت اور جناب شمس الدین شیخ کا میری ذات پر اعتماد ، وہ تمام جملہ عوامل تھے جس کی وجہ سے میں اس پروجیکٹ کا چیف آف آپریشن مقرر کیا گیا۔بریگیڈیئر صاحب نے خاص طور پر شمس الدین شیخ کی قابلیت ، سندھ اور پاکستان سے محبت اور ایمانداری کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ان ہی کی شخصیت کا طفیل ہے کہ یہ تھر پروجیکٹ اپنی تکمیل کی تاریخ سے ۱۱ مہینے پہلے مکمل ہوا اور اسکی تعمیر کے ٹخمینے سے ۱۲۹ ارب روپئے کم خرچ ہوئے۔اس بچت کی وجہ سے بینکوں سے لیے قرض کے سود میں بھی کمی آئی۔
میں نے سوال کیا، کہ بریگیڈیئر صاحب یہ بتائیں کہ بطور چیف آف آپریشن آپنے وہ کونسے اقدامات کئے جس پر آپ کو فخر ہو۔
جواباً انھوں نے فرمایا کہ اس پروجیکٹ کی ابتدا، پیپلز پارٹی کی قیادت، حکومت سندھ اور اینگرو پاکستان نے، مشترکہ طور پر، اس عزم کے ساتھ شروع کرنے کی ہدایت کی ، کہ تھر پروجیکٹ کو، پاکستان کے سوئی گیس پروجیکٹ، (جو تقریباً سات دہائیوں قبل شروع کیا گیا تھا) سے اس لحاظ سے کوئی مماثلت نہیں ہونی چاہئے کہ سوئی گیس کے ملنے سے، سوئی اور بلوچستان میں تو کوئی ترقی نظر نہیں آئی جبکہ پورا پاکستان گیس کی نعمت سے فیضیاب ہوتا رہا۔ لہذا ہمارا ہدف یہ تھا کہ اس پروجیکٹ کا فائدہ تھر کے علاقے کو بھی ہو، پورے صوبہ سندھ کو بھی ہو اور پورا پاکستان بھی اس سے فیضیاب ہوتا رہے۔ اس سنگ میل کو حاصل کرنے کی ابتدا ہم نے اس ہی عزم کے ساتھ شروع کی تھی۔ اور اب ماشااللٰہ نہ صرف پورا تھر بلکہ سندھ کے ساتھ پورا پاکستان اس منصوبے سے صدیوں تک فائدہ حاصل کرتا رہے گا۔
میرا سوال تھا کہ،آپکے اس اطمینان کا کوئی ثبوت ؟
وہ مسکراکر بولے، پورے سندھ اور پاکستان کے مقابلے کے امتحانات میں تھر کے بچوں کی کارکردگی ، تھر فاؤنڈیشنوں کے ذریعے، علاقے میں تعلیمی درسگاہیں، اسپتال اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی اور پاکستان کی گرڈ کو ۳۵۰۰ میگاواٹ بجلی فراہم کرنا ، میرے دل کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا رہتا ہے، اور یہ تو ابتدائے عشق ہے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟ میں نے پوچھا اس سے آپکا مطلب؟ بولے جناب کالاباغ ڈیم کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بس ۳۶۰۰ میگاواٹ تھی جبکہ تھر کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تو ایک لاکھ میگاواٹ سے بھی زیادہ کی ہے اور وہ بھی صدیوں تک۔ آپ پلانٹ لگاتے رہیں اور بجلی حاصل کرنے کی استعداد بڑھاتے رہیں۔ اور اب تو، اس پروجیکٹ کی کامیابی ثابت ہو چکی ہے لہذا اس میں شمولیت کیلئے کئی پاکستانی صنعتکار بھی راضی ہیں-
میں نے پوچھا کہ میں تفصیلاً جاننا چاہتا ہوں کہ آپکے ذہن میں وہ کیا کیا قابل ذکر اہداف تھے ، جن کو آپ نے حاصل کرنے کی سعی کی اور کن کن مراحل سے گزر کر وہ سب حاصل کئے
میری طرح ان تمام اقدامات کی تفصیل جاننے کا اشتیاق اگر آپکو بھی ہے تو انٹرویو کی تیسری قسط کا انتظار فرمائیں جو جلد ہی آپکے ذوق جستجو کی آبیاری کرے گی۔
خالد قاضی