نکتہ داں-۱۸۶
۲۵ مارچ ۲۰۲۶
رمضان کا مہینہ، عبادت کا بھی ہے، جہاد کا بھی اور جارحیت کا بھی!
میری کوشش ہوتی ہے، کہ رمضان کے مہینے میں سیاسی گفت شنید اور مباحثے سے دور رہا جائے ۔ اس ہی وجہ سے میں نے اپنا قلم پورے رمضان، اپنے سرہانے دبائے رکھا، گو ابتدا میں ایک تحریر ، ضرور سرزد ہوئی۔ وجہ اس تحریر کی ایران پر اسرائیلی اور امریکی جنگ مسلط کرنے کے آثار تھے۔
حالانکہ رمضان کا مہینہ، خیر و برکت کا مہینہ ہوتا ہے۔ تمام دنیا کے مسلمان ، اس مہینے کا اہتمام، روزوں، صدقات ، زکات اور خصوصی عبادات سے کرتے ہیں۔
لیکن مسلمانوں کی ابتدائی دور میں رمضان کے مہینے میں کئی اہم غزوات اور جنگیں بھی ہوئیں ، جن میں فتح پاکر، مسلمانوں کے دبدبے اور وقار میں اضافہ ہوا لیکن کہیں شکست کا منہ بھی دیکھنا پڑا
تاریخ کے اوراق رمضان کے دوران جنگوں کے مندرجہ ذیل واقعات بتاتے ہیں ۔
- اس میں اوّل و الذکر غزوہ بدر ہے۔ یہ غزوہ دراصل اسلام اور مسلمانوں کی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج تھا۔ اس جنگ کے فیصلے نے مذہب اسلام کی اس کرہ ارض پر بطور ایک مذہب اور بطور ایک اسلامی مملکت، بنیاد فراہم کردی۔ اسی وجہ سے رمضان ۲ ھ میں فتح کے دن کو یوم الفرقان کا لقب عطا ہوا۔
- جنگ خندق ، گو شوال ۵ ہجری میں ہوئی، لیکن اس غزوہ کی تمام تیاری ماہ رمضان میں ہوتی رہی اور حضور اکرم صلعم ، صحابہ کرام سمیت، پیٹ پر پتھر باندھ کر مدینہ منورہ کے دفاع کیلئے خندق کھودتے رہے۔ اس جنگ میں شکست کے بعد، کفار کی کمر ٹوٹ گئی اور پھر جزیر نمائے عرب میں اسلام کے عروج اور کفر کے زوال کی ابتدا ہوئی۔
- فتح مکہ بھی رمضان ۸ ہجری میں، بغیر کسی مزاحمت کے حاصل ہوئی۔ یہ فتح دراصل کفر کے انجام اور حق اور سچ کے انضمام کی بنیاد بنی۔
- رومیوں کے عزائم کو خاک میں ملاکر ، غزوہ تبوک کا اختتام بھی ۵۰ دنوں کے صبر آزما وقفے کے بعد رمضان ۹ ھ میں ہوا۔
- جنگ بویب رمضان ۶۳۵ عیسوی میں ایرانی سلطنت کے خلاف جیتی گئی اور اس جنگ کی سختی اور شدت کی وجہ سے جنگ کے دن کو “یوم الاعشار” (یعنی دس گنا ) جنگ کہا جاتا ہے۔ایرانی اس جنگ کے بعد مسلمانوں کیلئے کبھی خطرہ نہ بن پائے۔
- طارق بن زیاد نے اندلس ( اسپین ) کو رمضان ۷۱۰ عیسوی ہی کے مہینے میں فتح کرکے، اسلام کا سبز پھریرا اڑایا۔
- جنگ عسقلان بھی رمضان ۱۰۹۹ ء کو لڑی گئی۔یہ جنگ یروشلم کی نوزائیدہ صلیبی بادشاہت اور مصر کی فاطمی خلافت کے مابین ، پہلی صلیبی جنگ کے بعد ، پہلا معرکہ تھی۔ صلیبیوں کو فتح حاصل ہوئی اور فتح کے بعد، صلیبیوں کو یروشلم میں اپنے اقتدار کو مزید مستحکم کرنے کا موقع میسر ہوا۔
- پھر، رمضان ہی کے مہینے میں سنہُ۱۱۸۷ عیسوی کو، سلطان صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں صلیبیوں کو شکست دے کر یروشلم اور بیت المقدس کو آزاد کروایا۔
- نہر سوئیز کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کرانے کی جنگ “یوم کپور بھی رمضان ہی کے مہینے ۱۹۷۳ میں لڑی گئی۔ ۱۹۶۷ کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد، اسرائیل ناقابل شکست سمجھا جاتا تھا۔ لیکن مصر اور شام کی مشترکہ کاروائی نے اسرائیل کو جانی اور مالی نقصان پہنچا کر نہر سوئیز پر اپنا قبضہ دوبارہ مستحکم کیا۔ اس جنگ کی فتح میں ذولفقار علی بھٹو کا بھی ہاتھ تھا اور انھوں نے شامی ائیر فورس میں پاکستان پائیلٹ بھیج کر جنگ میں حصہ لیا۔ جس کی وجہ سے اسرائیل کی فضائی برتری ختم کردی گئی۔
- امریکہ کے ایما پر عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین نے ایران پر ۱۹۸۰ میں حملہ کیا۔ یہ دس سالہ جنگ، رمضان کے مہینوں میں بھی جاری رہی۔
- یمن کی خانہ جنگی کی ابتدا ۲۰۱۴ میں ہوئی جسکا اختتام ابھی تک بھی نہ ہو پایا ہے۔ یہ جنگ بھی بنا کسی تخصیص کے رمضان کے مہینوں میں بھی جاری رہتی رہی ہے۔
- ۱۹۹۱ کی گلف وار، عراق سے کویت کا قبضہ چھڑوانے کیلئے، امریکہ اور دیگر ۳۵ ممالک کی مشترکہ جنگ تھی ۔ اس میں بھی رمضان کا مہینہ حائل نہ ہوسکا اور جنگ ہوتی رہی۔
- صدام کی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے امریکہ نے اپنی ڈیڑھ لاکھ فوج سے ۲۰۰۳ میں عراق پر حملہ کردیا اس جنگ کے دوران رمضان بھی آیا پر جنگ صدام کی حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوئی۔
- عرب اسپرنگ کے پوری عرب دنیا میں پھیلنے سے ، شامی عوام نے بھی بشار الاسد کے خلاف احتجاج ۲۰۱۱ میں شروع کیا۔ یہ احتجاج بڑھ کر مسلح جدوجہد میں تبدیل ہوگیا اور ۱۰ سال تک جاری رہا۔ یہ خانہ جنگی بھی رمضان کے مہینوں میں نہ رکی اور جاری رہی۔
- اسرائیل ، حماس کی خونزیر جنگ، جو ۲۰۲۳ میں شروع ہوئی، رمضان کے مہینے میں بھی اس کی بربریت، میں کوئی کمی نہیں آئی۔
- اور ایران کے خلاف حالیہ، اسرائیلی و امریکی حملہ بھی رمضان کے مبارک مہینے میں جاری رہا۔
ایران کے عوام ، انکی قیادت اور فوج نے اپنے ایمان، عزم، اور استقلال کے جو مظاہرے دنیا کو دکھائے ہیں وہ پورے عالم کیلئے عمومی اور مسلمان ممالک کے عوام ، قیادت اور افواج کیلئے خصوصی طور پر سبق حاصل کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں
ایران نے پورے مشرق وسطٰی کی سیاست اور معیشیت کو بدل ڈالنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ایران نے دراصل امریکہ اور اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے اور اس وقت ایران نہیں، بلکہ اسرائیل اور امریکہ جنگ بند کرکے بھاگنے کے مواقع ڈھونڈھ رہے ہیں۔ یہ جنگ تو ایران میں رجیم بدلنے کیلئے کی گئی تھی، لیکن اس جنگ نے عوام اور حکومت کو مزید متحد کردیا ہے اور امریکی و اسرائیلی مقصد خاک میں مل گیا ہے
دنیا کے کسی ملک میں انقلاب، دراصل ایک وباء کی طرح اپنے اطراف میں پھیل کر دوسرے علاقوں کے لوگوں میں تبدیلی لانے کا عزم بیدار کر دیتا ہے۔ انقلاب فرانس کی کامیابی ، محض فرانس تک محدود نہ رہی، بلکہ ، اس کی کامیابی کی وجہ سے ، پورے یورپی ممالک کی بادشاہتوں کو زوال نصیب ہوا اور جمہوریت کی باگ ڈور ڈلی۔
۱۹۷۹ کے انقلاب ایران نے، خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں اور امریکہ کو اس خدشے سے دوچار کر دیا کہ ایران کا اسلامی انقلاب بھی وباء کی طرح پھیل کر اس پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ اور یہاں بھی جمہوریت کی آرزو عوام کے ذہنوں کو مسخر نہ کردے۔ یہی خیال پاکستان کے اس وقت کے حکمران، ڈکٹیٹر ضیاالحق کو بھی لاحق رہا۔ لہذا اس پورے خطے میں، ایران کے مذہبی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور عوامی جذبات کو متنفر کرنے کیلئے مولویوں اور جہادی تنظیموں کی ، حکومتی سرپرستی میں، ایک فوج تیار کردی گئی، جنکا کام عوام میں محض منافرت پھیلانا تھا ۔ یہ پروپیگینڈا کئی دہائیوں تک جاری رہا اور اس کی وجہ سے عوام میں ایرانی قیادت، اور انکے مذہبی عقائد کے خلاف نفرت اسقدر پروان چڑھ چکی تھی کہ آج ، ایران، خود کو سیاسی طور پر حقیقی اسلامی حکومت ثابت کردینے پر بعض لوگ ہکا بکا نظر آتے ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ایران کی طرح دوسرے اسلامی ممالک کیوں ہمت نہیں کرتے ؟
پاکستان کی داخلی سیاست اور معیشیت کو بہتر کرنے کے حکومتی اقدامات سے سو اختلاف کی گنجائش موجود ہے لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں، پاکستان کی خارجی پالیسی اور سفارتی محاذ پر کامیابی کو تسلیم نہ کرنا ، ایک بہت بڑی بد دیانتی گردانا جائے گا۔ ہم جہاں اپنی ہر حکومت سے ہر وقت نالاں اور پریشان رہنے کے عادی بن چکے ہیں وہاں بعض لوگ سفارتی محاذ پر حکومتی کارکردگی کو بلا وجہ تنقید، طنز اور بدظنی پھیلا کر منفی سوچ کا ثبوت دیتے نظر آتے ہیں۔
اپنے ایسے ہی دوستوں کیلئے منیر نیازی کے دو شعر
بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا
اک آگ سی جذبوں میں، بھڑکائے ہوئے رہنا
عادت سی بنالی ہے، تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا ، اکتائے ہوئے رہنا
خالد قاضی
بہت خوبصورت اور معلومات سے بھرپور تحریر ہےشکریہ قاضی صاحب آپ نے تاریخ کی ایک پوري کتاب اپنی مختصر تحریر میں سمو دی ۔
بہت شکریہ یوسف بھائی۔ آپکی حوصلہ افزائی، میرے لئے بہت اہم ہے۔ جزاک اللٰہ