نکتہ داں- ۱۹۲
۱۹ جون ۲۰۲۶
إنما الأعمال بالنيات
یقیناً، اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔
امریکہ بہادر، ایران کے خلاف ،اپنی اور اسرائیل کی، مشترکہ ۱۰۰ دنوں سے زیادہ جاری جنگ کے بعد ، بحالت مجبوری، ایرانی حکومت سے معاہدے پر راضی ہو تو گیا ہے لیکن کیا، یہ معاہدہ چل بھی سکے گا ؟
یہ جنگ شروع کرنے کے (اسرائیلی و امریکی) مشترکہ اہداف کیا تھے ؟ اور کیا امریکہ، اپنی بے پناہ عسکری طاقت اور اسرائیل، اپنی لا متناہی بربریت سے یہ اہداف حاصل کر پائے ؟
ان سوالوں کا جواب اک سادہ سی “نہیں” میں ہے
اس جنگ کو شروع کرنے کے چار بڑے اہداف تھے۔
۱- ایران کی حاصل کردہ، نیوکلیئر صلاحیت (افزودہ یورینیم ) کے ساتھ ساتھ ، یورینیم کو افزودہ کرنے کے ڈھانچے کو بھی تباہ کرنا تاکہ آئندہ بھی اس طرف پیش قدمی نہ کی جاسکے۔
۲- ایران کی دفاعی صنعت اور اسکے ڈرون و بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم کرنا۔
۳- ایرانی حکومتی ڈھانچے کو تباہ کرکے، اس کی موجودہ قیادت کے خلاف عوامی بغاوت کو فروغ دینا تاکہ ایران کی موجودہ قیادت کو تبدیل (رجیم چینج)کر کے، اپنے پسند کے لوگوں کو اقتدار تھمایا جاسکے۔
۴- مشرق وسطیٰ کے، فلسطین میں خصوصاً اور دوسرے مختلف ممالک میں عموماً، ایسے غیر ریاستی عناصر ،جو اسرائیل کے فلسطین پر غیر قانونی قبضے کے خلاف مزاحمت کرتے آرہے ہیں، جن میں حزب اللٰہ، حماس اور دیگر غیر ریاستی مضاحمتی گروپ شامل ہیں اور یمن میں حوثیوں کے اثر رسوخ اور انکی حربی صلاحیتوں کو ختم کرنا شامل تھیں۔
وائے ناکامی ، کہ امریکہ و اسرائیل، ان تمام اہداف میں سے ایک ہدف بھی حاصل نہیں کر پائے ۔
نیتن یاہو کی سب سے بڑی سیاسی غلطی، ٹرمپ کو اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کرنا تھا۔ آپ تصور کریں کہ اگر امریکہ اس جنگ میں شریک نہ ہوتا، تو نہ ایران خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو تباہ کرنے کا جواز پاتا، نہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا جواز موجود ہوتا۔
ایران کیلئے، یہی دو پہلو، اسکی فتح کا سبب بنے۔
ایران کے اطراف اور خلیج میں واقع امریکی فوجی اڈے جو بظاہر ایران کے خلاف قائم کئے گئے تھے، ایرانی بیلاسٹک میزائلوں اور ڈرونز حملوں کے سامنے نہ صرف ناکارہ ثابت ہوئے بلکہ امریکہ کو ۶ بلین ڈالر کی فوجی اثاثے سے زیادہ کا نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔جبکہ اس جنگ کے نقصان کا مکمل تخمینہ ایک ٹریین ڈالر تک لگایا جارہا ہے
اس کے علاوہ، ایران کے ہاتھ ایک ایسا معاشی ہتھیار چڑھ گیا جس کی اہمیت اس جنگ سے پہلے شاید ایران کو بھی نہ تھی۔آبنائے ہرمز، دنیا کی معاشی شہہ رگ ثابت ہوئی اور اس ہی کی وجہ سے عالمی دباؤ کے پیش نظر ، صدر ٹرمپ نے ایران کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور
امریکہ، دنیا کے سامنے ایک شکست خوردہ ملک کی حیثیت میں سامنے آیا۔ اس جنگ میں ایران نے اپنے بقا کو قائم رکھنے کے عزم سے، مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور دفاع سے متعلق ماضی کے تمام مفروضوں کو غلط ثابت کردیا۔
دوسری طرف اسرائیل کو بھی ، ناکامی و نامرادی نصیب ہوئی۔ اسرائیل کا سب سے بڑا نقصان ، ماضی میں فلسطین اور عرب ممالک کے خلاف اسکےمختلف جرائم پر، مغرب اور تمام یورپی ممالک کی جو حمایت ملتی رہی تھی، اس مرتبہ نہ صرف وہ حمایت نہ مل سکی بلکہ اسرائیل کے جرائم کی مخالفت میں، نہ صرف عوامی رائے کھل کر سامنے آئی بلکہ حکومتی سطح پر بھی اسرائیل دنیا بھر میں تنہا رہ گیا۔
اس سارے منظر نامے میں قوموں کو سیکھنے کے لئے کئی اسباق موجود ہیں۔ آئیے ان پر نظر ڈالیں
امریکی سی آئیُ اے، دوسری جنگ کے بعد، مختلف ممالک کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنائے رکھنے کیلئے، ان ممالک کی “ قیادت ” کو سازشوں کے ذریعے ، یا تو ہلاک، یا بغاوت پیدا کرکے تبدیل ، یا پھر حملہ کرکے اپنے پٹھو حکمرانوں کو اقتدار پر بٹھا کر، اپنے اہداف حاصل
کرتی رہی ہے۔ ماضی کی چند مثالیں کچھ یوں ہیں۔
- ۱۹۵۳ میں ایران میں محمد مصدق کی حکومت کے خلاف سازش اور فوجی بغاوت کے ذریعے، شاہ ایران کو دوبارہ اقتدار میں لایا گیا۔
- ۱۹۶۷ میں فوجی بغاوت کو کچلنے کے بہانے، انڈونیشیا کے صدر سوکارنو کو ہٹا کر جرنل سوہارتو کو برسر اقتدار لایا گیا۔
- ہنری کسنجر نے ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی پاداش میں ذولفقار علی بھٹو کو جو دھمکی دی تھی اس دھمکی کو عملی جامع پہنانے کیلئے، ۱۹۷۳ میں سازش کے ذریعے جرنل ضیاالحق کو اقتدار میں لایا گیا۔
- سعودی بادشاہ، شاہ فیصل کو ۱۹۷۵ میں شہید کرواکے راستے سے ہٹایا گیا۔
- افغانستان پر ۲۰۰۱ میں حملہ کرکے، حامد کرزئی کو کٹھ پتلی صدر بنایا گیا۔
- صدر صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ، ۲۰۰۳ میں ،امریکہ نے ایک جھوٹے مفروضے( ویپن آف ماس ڈسٹرکشن) کے نام پر یورپی ممالک کو ملا کر فوج کشی کی اور عراق میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی۔
- یہی کام لیبیا میں ۲۰۱۱ میں معمر قذافی کو ہٹانے کیلئے کیا گیا۔
- وینزویلا کے صدر بمعہ اس کی اہلیہ کو، حال ہی میں ایک فوجی مشن کے ذریعے اغوا کر لیا گیا اور کٹھ پتلی حکومت قائم کردی گئی۔
لیکن ایران میں اقتدار پر ، اپنی من پسند قیادت کو لانے میں، اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کوششیں ناکام و نامراد ثابت ہوئیں۔
اس ناکامی کی وجہ صرف ایک ہے۔ اوپر بیان کئے گئے واقعات میں تقریبا” تمام قیادت کا، اپنے اپنے ملک کے عوام سے ناطہ ٹوٹ چکا تھا، وہ یا آمر بن گئے تھے یا اپنے عوام کے حکومت کے متعلق خیالات سے بالکل ناواقف تھے۔
ایران کی قیادت، گو سخت ہے، لیکن بدعنوان نہیں۔ انکے رہن سہن میں دنیا کے دیگر حکمرانوں کی طرح عیاشی کا عنصر بالکل نہیں پایا جاتا، اس لئے وہاں کے عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران سے متعلق، خیالات، کبھی بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔
گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے کی تکمیل کے خلاف اسرائیل ایران کو ، اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتا ہے ، جبکہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی عرب ریاستوں کو ایران کا خوف دلا کر پچھلی کئی دہائیوں سے ٹرلینز ڈالرز اسلحہ بیچ کر کماتا رہا ہے۔ اس دھندے کیلئے امریکہ کو ضرورت اسرائیل کی بھی ہے اور ایران کی بھی۔ لیکن اسے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسکی وجہ آبنائے ہرمز ہے کہ جسے دنیا کی سب سے بڑی امریکی بحری طاقت بھی کھلا نہ رکھ سکی ۔اور اس ہی وجہ سے نہ صرف امریکہ میں داخلی دباؤ بڑھا بلکہ تمام دنیا کی معیشیت زوال پزیر ہونے لگی۔ اس کی سیاسی قیمت ٹرمپ کیلئے بہت مہنگی پڑتی۔ اسی لئے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایران سے وہ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا جس میں تمام فائدہ ایران کا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل خالی ہاتھ لوٹے ہیں۔
اس تمام عمل کا ممکنہ ردعمل یہ ہوسکتا ہے
- امریکہ میں اسرائیلی لابی اور میڈیا، ٹرمپ کے خلاف ایک سخت پروپیگینڈا مہم شروع کریں گے اور آئندہ الیکشن میں اسرائیلی لابی ایسے امیدواروں کی انتخابی مہم کیلئے مالی معاونت فراہم کرے گی جو اسرائیلی کاز کی حمایت کریں۔ اس لئے امریکی ووٹر کو مسلمانوں سے خوفزدہ کرنا بھی ضروری سمجھا جائے گا۔
- اسرائیل میں بنجمن نیتن یاہو کو بھی سیاسی طور پر برے وقت کا سامنا کرنا پڑے گا اور آئندہ اکتوبر کے الیکشن میں شکست اسکا مقدر نظر آتی ہے
گو یہ معاہدہ ہوگیا، لیکن اس کے چلنے کی کیا کوئی ضمانت ہے ؟ نہیں کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ایران کے متعلق، اسرائیل اور امریکہ کی نیتوں کے خراب ہونے کے متعلق کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی۔
اسکی مثال مسئلہ کشمیر سے دی جاسکتی ہے۔
۱۹۴۸ میں مسئلہ کشمیر ، اقوام متحدہ میں انڈیا خود لیکر گیا تھا لیکن چونکہ نیت خراب ہے اسلئے اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادوں سے انڈیا منحرف ہو گیا ہے۔ پاکستان سے معاہدے بھی کئے اور بظاہر مزاکرات بھی ہوئے لیکن معاہدے توڑنے اور مزاکرات ناکام بنانے کے بہانے نہ صرف انڈیا نے، بلکہ اسلحے کی فروخت پر اپنی معیشیت چلانے والی عالمی طاقتوں نے بھی پیدا کئے۔ کیا ۱۹۷۲ کا شملہ معاہدہ ، ۱۹۹۹ کی نوازشریف اور واجپائی کی لاہور ایگریمنٹ اور پھر مشرف اور واجپائی کے درمیان ۲۰۰۱ میں دہلی میں مزاکرات مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب نہیں پہنچ گئے تھے۔ لیکن چونکہ نیت خراب ہے اسلئے اب اس مسئلے کا حل دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔
ایران امریکہ معاہدے کا انجام بھی کچھ اس ہی طرح کا ہوگا کیونکہ “اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے”
لیکن ایران اس خطے میں امریکی اثر کو کم کرنے کی پیش رفت کرسکتا ہے۔ وہ تمام خلیجی ممالک کی طرف دوستی اور جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ، چین کی ضمانت سےکر سکتا ہے ۔ خلیجی ممالک بھی اب محض امریکی بھروسے پر نہیں رہ پائیں گے اور ممکنہ طور پر اسلامک دفاعی بلاک کی طرف پیش رفت ہوتی نظر آرہی ہے
وااللٰہ عالم
خالد قاضی