نکتہ داں ۱۹۳
۱۳ جولائی ۲۰۲۶
میؔر کیا سادے ہیں !
پاکستان کی اس بدقسمتی سے کون انکار کرتا ہے، کہ اسکا مشرقی پڑوسی، انڈیا ، روز اوّل سے، نہ صرف پاکستان کے وجود کا مخالف ہے بلکہ اس کے حالیہ قومی ایجنڈے میں، “اکھنڈ بھارت” کی خاطر، پاکستان کے وجود کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔
اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ، اسرائیل اور انڈیا گٹھ جوڑ، پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے، پاکستان میں سیاسی بے چینی، علیحدگی اور لاقانونیت پھیلانے کی خاطر دہشت گردی کو فروغ دینے کے عمل کی، دامے درمے اور سخنے مدد فراہم کر رہا ہے۔
اس رائے کو تقویت اس حقیقت سے بھی ملتی ہے، کہ ۱۹۷۰ کی دہائی میں بھی انڈیا، پاکستان کے مشرقی حصے کو علیحدہ کروانے میں ملوث رہا ہے ۔ بلکہ اس عمل کی تکمیل کا سہرا وہ اپنے سر باندھنے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتا۔لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ، مشرقی پاکستان کی علیحدگی، محض انڈیا کی فوج کشی سے ممکن نہیں ہوئی، بلکہ بنگلہ دیش بننے کے پس منظر میں ، ربع صدی کی سیاسی ، معاشی اور سماجی نا انصافیوں نے ہندوستان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے کیلئے، بنگالی عوام کی حمایت فراہم کی۔ وگرنہ، بنا عوامی حمایت، کوئی غیر ملکی طاقت، کبھی بھی ، کسی بھی خطے کی،اپنے مرکز سے، مستقل علیحدگی میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔
پاکستان کی بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے واقعات میں ایک تیسری وجہ، نہ صرف ایوب خان کے طویل اقتدار کا دورانیہ تھا بلکہ یحیٰی خان کا صدارت پر قائم رہنے کے شوق نے، اسے مشرقی پاکستان کی ناراضگیوں کا سیاسی حل نکالنے کے بجائے، مشرقی پاکستان پر فوج کشی کو ترجیح دیکر، ہندوستان کا کام آسان کردیا۔ یحییٰ خان کی مشرقی پاکستان پر فوج کشی ہی، بنگلہ دیش بننے کا سبب بنی۔
کیا کسی نے اس سے کوئی سبق سیکھا ؟ جواب “نفی” میں ہے۔
معاملات، بین الاقوامی ہوں، علاقائی ہوں، صوبائی ہوں ، خاندانی ہوں یا گھریلو ۔ حل ہمیشہ افہام تفہیم، گفت و شنید اور ایک دوسرے کیلئے جگہ بنانے سے ہی نکالا جاتا ہے۔ محض طاقت کے استعمال نے نہ اسرائیل کو فتح دلائی ہے اور نہ حماس کو ختم کردیا ہے۔
ہندوستان کوبھی ٹرمپ کو آواز دیکر سیز فائر کروانا پڑا اور امریکہ جیسی سوپر پاور نے بھی گو کئی دہائیوں سے تجارتی پابندیوں سے معاشی اور عسکری طور پر کمزور ایران کی ،استقامت کے آگے جھکتے ہوئے، پاکستان کی ثالثی قبول کرنی پڑی ۔ دو مقابل عناصر کو صلح تک پہنچنے کیلئے، بہرحال کسی تیسرے عنصر پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ وگرنہ محض اڑے رہنے سے، سوائے اجتماعی نقصان کے، کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
یہ تمہید باندھنے کا مقصد ، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں جاری دہشت گردی کی وجوہات اور انکے حل کی طرف مبذول کروانا ہے
بلوچستان جو پاکستان کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں قدرے پر سکون صوبہ تھا لیکن ابتدا سے ہی، نہ صرف فوجی حکومتوں ، بلکہ بھٹو کی، بظاہر جمہوری حکومت کے دوران بھی زیر عتاب اور سیاسی اور معاشی طور پر ناانصافی کا شکار رہا ہے۔ بلوچستان کی سیاسی قوتیں ان ناانصافیوں کے خلاف اپنی آواز ہمیشہ سیاسی انداز میں اٹھاتی رہی ہیں لیکن بلوچستان میں ناانصافیوں کے رد عمل میں دہشت گردی کا عنصر، نواب اکبر بگٹی کی فوجی کاروائی میں شہادت کے بعد سامنے آیا ہے۔ لیکن ، اس رد عمل کو، ہماری عسکری قیادت نے کبھی بھی سیاسی طور پر حل کرنے کی طرف دھیان نہیں دیا۔ بلکہ اسے بزور طاقت، قابو کر لینے کا دعویٰ کرتے آرہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر، جنرل عاصم منیر کا بیان کہ “ پندرہ سو بندے پاکستان کی آرمی کو شکست دیکر بلوچستان کو علیحدہ نہیں کرسکتے”
https://youtu.be/WD-q7vmwORM?is=u-_7lxNZ_ouYyabm
پھر، ہماری فوج ہی کے عطا کردہ ، وزیر داخلہ، محسن نقوی ، بلوچستان میں جاری دہشتگردی کو” ایک ایس ایچ او” کی مار کہہ چکے ہیں۔
لیکن نتیجہ ان اعلانات کے ، نہ صرف برعکس ہے بلکہ آئے دن دہشتگردی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دنیا میں دہشتگردی ، کہیں بھی اور کبھی بھی، عوام الناس کی مدد کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ اور عوام کا دل جیتنے کیلئے ہماری مقتدرہ اور حکومت کوئی بھی ایسا عمل نہیں کر رہی جس سے دہشتگردوں کو اکیلا کیا جاسکے۔ اس بات کی دلیل، سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کی سینیٹ میں، حالیہ بجٹ پر تقریر سے واضح ہوجاتی ہے۔ موصوف فرمارہے تھے، کہ بلوچستان کیلئے، حکومت کے پاس کوئی میگاپرجیکٹ بنانے ، کہ جس سے نوجوانوں کو روزگار مل سکے،پیسے نہیں ہیں ۔ مولانا نے ایک دلچسپ انکشاف یہ کیا، کہ پنجاب کے ہر ضلعے کو موٹر وے سے منسلک کرنے کیلئے سی پیک کے قرضوں سے رقم فراہم کی گئی ہے اس قرضے کو واپس بمعہ سود پورا پاکستان کرے گا اور سہرا ن لیگ اپنے سر باندھتی ہے جبکہ ہر سال نہ کراچی تا سکھر کیلئے پیسے مل پاتے ہیں اور نہ بلوچستان کیلئے۔مضحکہ بات یہ ہے کہ اس ناانصافی کو ن لیگ اپنی کامیابی اور دوسرے صوبوں کی حکومتوں کی بری کارکردگی کے طور پر پیش کرکے پروپیگینڈا کرتی ہے۔ جبکہ بلوچستان کے موٹر وے کیلئے تین مرتبہ افتتاح ہوچکے ہیں۔ پہلا افتتاح نوازشریف نے جنرل راحیل شریف کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن بات افتتاح سے آگے نہیں بڑھ پائی۔ پھر اسی پروجیکٹ کا افتتاح عمران خان نے کیا لیکن عملی طور پر صفر اور اب تیسری بار اس ہی موٹر وے کے کام کی افتتاحی تختی کی نقاب کشائی شہبازشریف نے کی ہے۔
حالیہ مہینوں میں ،بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں دہشتگردی کے پے در پے جو واقعات ہو رہے ہیں، انکا ذکر نہ صرف میڈیا بلکہ آئی ایس پی آر خود کر چکی ہے، اس لئے ان واقعات کو دہرائے بغیر، ان واقعات کے تدارک اور دہشتگردوں کو ناکام و نامراد کرنے کیلئے کیا اقدامات ضروری ہیں ان پر غور کرنا ضروری ہے۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ، بنا عوام کے دل جیتے اور ان کا اعتماد حاصل کئے بغیر، محض طاقت کے استعمال سے، نہ اب تک کوئی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور نہ آئندہ حاصل ہوگی۔ اگر یہ بات سمجھ میں آجائے تو پھر دوسرا مرحلہ ، کسی تیسرے عنصر کو تلاش کرنا ہوگا کہ جس پر دونوں متحارب عناصر کا اعتماد ہو۔ کوئی بھی عنصر جس پر متحارب فریق اعتماد نہ کرتے ہوں بیکار ثابت ہوگا۔ لہذا گفت شنید سے پہلے اعتماد سازی درکار ہوگی ۔اور اعتماد سازی کیلئے میرے خیال میں، بلوچستان میں، آپ کو اب بھی ایسے لوگ مل جائیں گے جن پر عوام بھی متفق ہوں اور مقتدرہ کو بھی منظور ہوں۔
جناب عبدالمالک بلوچستان میں ڈھائی سال تک وزیر اعلٰی رہے ہیں اور اپنی حکومت کے دوران بھی گفت شنید کا عمل کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے ہماری مقتدرہ اس قدر خائف ہے کہ اس کمزور عورت کو دہشت گردی کی عدالت سے عمر قید کی سزا دلوا کر اپنے خوف پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میری ناقص رائے میں ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی شخصیت ہی، اس وقت بلوچستان میں امن لانے کی کنجی ثابت ہوسکتی ہیں لیکن انکو ثالث قبول کرنے میں ہمارے جرنلوں کی انا آڑے آسکتی ہے۔
میری رائے میں، چیئر مین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی قیادت میں اگر ایک تین رکنی وفد، ڈاکٹر ماہ رنگ کو حکومت اور عسکری گروہوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے پر راضی کرلیں تو، بلوچستان کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور ہمارے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑ سکتی ہے
لیکن اس عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے جرنیلوں کا مائنڈ سیٹ ہے۔ انھیں اس بات کا قصور وار بھی ٹھہرایا نہیں جاسکتا کیونکہ انکی تربیت ہی دشمن کو زیر کرنے کی ، دی گئی ہے۔ اس لئے وہ اپنے ہر مد مقابل کو، پاکستان کا مخالف سمجھ کر ڈیل کرنے کے عادی ہیں۔ اسکی مثال حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر کے معاملات میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ مضحکہ بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کہ جس سے پاکستانی حکومت مذاکرات کے بعد ایک معاہدے پر دستخط کرچکی تھی کو، آناً فاناَ غیر قانونی قرار دیکر، اسکے شرکاء کو گرفتار کرلیا گیا۔ نتیجتاً عوامی احتجاج قابو سے باہر ہوگیا اور ہمارے دشمن ہندوستان کو ہمیں دنیا میں بدنام کرنے کا موقع مل گیا۔ اس عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے، سینئر صحافی اعزاز سید نے ٹی وی پر مرحومہ محترمہ عاصمہ جہانگیر کا مشہور زمانہ جملہ دہراتا کہ ” یہ ڈفر ہیں، “ محترمہ نے تو یہ بھی کہا تھا کہ “یہ کسی کم جوگے نہیں ہیں۔ یہ صرف گالف کھیل کر ٹھٹھے مار سکتے ہیں “
ضرورت اس بات کی ہے کہ معاملات کو سیاسی قیادت اپنے ہاتھوں میں لے اور فوج کو اس معاملے کے حل تلاش کرنے میں فریق نہ بنائے۔ اگر اب بھی مشرقی پاکستان کی طرح معاملات فوج کے ہاتھوں میں رہے اور سیاسی حل کی بجائے طاقت سے معاملات کو دبانے کی کوشش کی گئی تو پھر میر تقی میر کی سادگی یاد آئے گی کہ:
میر کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
عطار کا لونڈا تو محسن نقوی بھی ثابت ہورہا ہے۔ اسکے علاج سے کرکٹ کا حشر سب کے سامنے ہے، خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی بھی وزارت داخلہ کے کھاتے میں آتی ہے اور اس ایس ایچ او کو بھی اب تک تلاش نہیں کیا جاسکا جو بقول موصوف، دہشت گردوں کی مار ثابت ہوتا۔ اور اب تو موصوف وزارت خارجہ کا کام بھی نمٹا رہے ہیں۔
خالد قاضی