Skip to main content

NUKTADAAN

Reading: ‏۱۹۳۔ “کھایا پیا کچھ نہیں۔ حساب ؟ گلاس توڑا ۱۲ آ نے”
Reading: ‏۱۹۳۔ “کھایا پیا کچھ نہیں۔ حساب ؟ گلاس توڑا ۱۲ آ نے”

‏۱۹۳۔ “کھایا پیا کچھ نہیں۔ حساب ؟ گلاس توڑا ۱۲ آ نے”

admin
13 Min Read
  1. نکتہ داں ۔۱۹۴

۲۲ جولائی ۲۰۲۶

    “کھایا پیا کچھ نہیں ۔ حساب؟  گلاس توڑا ۱۲ آنے”

پاکستان کا پرنٹ،  الیکٹرونک اور سوشل میڈیا  آجکل، مولانا فضل الرحمٰن کے دو مختلف رنگ پیش کرتا نظر آرہا ہے۔اگر ٹی وی چینلز اور اخبارات پر نظر ڈالیں، تو مولانا کی ۱۲ جولائی کو قصور( پنجاب) میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے،فوج کے شہدا کے متعلق 

تبصرے یا خیالات کی نہ صرف مذمت کی خبریں نمایاں ہیں بلکہ مولانا سے اپنے الفاظ واپس لینے اور معافی مانگنے کے مطالبات بھی کئے جارہے ہیں۔ لیکن ان مطالبات کی شد و مد، یا تو، ISPR کے جرنل شریف کے لہجے میں نظر آئی، یا ن لیگ حکومت کے ترجمانوں اور وزراء کے بیانات میں اور یا پھر (عرف عام میں ) سرکاری مولویوں کے “حکم بجا آوری” کی روش میں۔ دیگر سیاسی پارٹیاں ان بیانات کی دوڑ سے دور دور ہی نظر آئیں۔ پیپلز پارٹی چونکہ حکومتی اتحادی بھی ہے اور اسے اپنے مستقبل کے سیاسی احداف کے حصول کیلئے، مقتدرہ کے معاملات میں، حفظ ما تقدم بھی درکار ہوتا ہے، جبکہ  اسکے مولانا سے بھی اچھے روابط ہیں ، لہذا اس نے اس مسئلے کو قومی نہیں بلکہ صوبائی مسئلے کا درجہ دیتے ہوئے، خیبر پختون خواہ میں اپنے گورنر فیصل کریم کنڈی سے اس “شغل میلے” میں اپنی حاضری لگوانے کیلئے علامتی بیان دینے کو کہا، جسکی تعمیل کنڈی صاحب نے کردی۔ 

مولانا کے موقف کے متعلق منصفانہ رائے دینے کیلئے ضروری تھا کہ میں مولانا کے کہے ہوئے الفاظ، انکے بیانیے کے پس منظر  اور سیاق و سباق جانتا۔ یہ معلومات مجھے سوشل میڈیا ہی سے مل پائیں۔ کیونکہ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر، حکومت مخالف بیانات تو مل جائیں گے، لیکن اصل حکمرانوں پر تنقید کی نہ کسی کو اجازت ہے اور نہ جراُت۔ لہذا بھلا ہو یو ٹیوب کا جس پر میں نے مولانا کی تقریبُا  نصف گھنٹے کی تقریر سنی۔مولانا کی تقریر کے چیدہ چیدہ نکات یہ تھے:

  • مولانا کا ٪۹۰ فیصد خطاب، فوج کی اعلٰی  قیادت سے تھا۔
  • وہ فوجی قیادت کے سیاست میں ملوث ہونے کے شاکی تھے اور فرمایا کہ سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیں اور الیکشن لڑیں۔ پھر پتہ چل جائے گا عوام میں آپکی مقبولیت کا۔
  • آپ جس کی چاہیں حکومت چھین لیتے ہیں اور جسکو چاہیں حکومت میں لے آتے ہیں
  • دھاندلی سے منتخب شدہ ممبران، پارلیمنٹ میں لا کر،  عوام کے الیکشن میں ٹھکرائے ہوئے لوگوں سے پارلیمنٹ کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے اور پارلیمنٹ سے ایسے قانون پاس کرواتے ہیں جس سے جمہوریت کمزور اور مقتدرہ مضبوط ہو
  • لیکن اس عمل سے فوج مضبوط نہیں ہوئی، بلکہ دراصل فوج دہشتگردوں کے گھیرے میں آگئی ہے
  • بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں تو دہشت گردوں کا راج تھا ہی، لیکن اب بلوچستان کے پشتون علاقوں میں بھی TPP آ کر، فوج کو للکار رہی ہے۔
  • یہی حال خیبر پختون خواہ میں ہے۔ وہاں پہاڑوں پر دہشتگرد قابض ہیں۔ آپ کہاں ہیں ؟
  • تم سیاستدانوں کو گھیرنے کی کوشش کرتے ہو اور خود گِھر جاتے ہو۔ہمیں پھنسانے کی کوشش کرتے ہو، لیکن خود پھنس جاتے ہو۔
  • پارلیمنٹ، حکومت، عدلیہ اور فوج کا اپنا اپنا دائرہ اختیار ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے دائرے میں رہے اور اپنی ذمہ داری نباہے۔ دوسروں کے کام میں مداخلت نہ کرے۔
  • میں پنجاب کے دوستوں کو یہ بتانے آیا ہوں کہ خیبر پختون خواہ میں آج کوئی حکومت نہیں ہے۔وہاں سورج غروب ہونے سے دوبارہ سورج طلوع ہونے کے درمیان، پولیس تھانوں میں محصور رہتی ہے اور باہر ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کا راج ہوتا ہے۔تم اسلام آباد میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دعوٰی کرتے ہو کہ تمھاری حکومت ہے، لیکن حقیقتاً،  میرے صوبے میں تمھاری کوئی رِٹ نہیں ہے۔
  • میرا مقصد یہاں خطاب کرنا نہیں، بلکہ حقیقت حال بیان کرنا ہے
  • بلوچستان میں  بغاوت عروج پر ہے۔ ہم بلوچ علاقوں کو رو رہے تھے لیکن اب وہاں کے پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقوں میں ہم نے چند دنوں میں پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔
  • تمھاری پالیسیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ فوج مشرق میں ہندوستان کی سرحد پر تعینات ہے، کچھ افغانستان کی سرحد پر اور باقی اپنے عوام کے خلاف بر سر پیکار ہے اور کچھ دہشتگردوں سے نمٹنے میں مصروف۔
  • مشرقی سرحد بھی مکمل بند ہے اور افغانستان سے منسلک سرحد بھی بند۔ جبکہ ایران نہ کسی “اچھے” کا ہے اور نہ کسی “برے” کا۔ چائنہ تم پر اپنا اعتماد کھو چکا ہے اسے ہم نے دھوکہ دیا کیونکہ اکنامک کوریڈار بند ہے۔ آج پاکستان بھی محصور ہے اور حکمران بھی محصور۔
  • یہ سب کچھ پاکستان کو امریکہ کے قبضے میں دینے کیلئے ہوا ہے۔ ہم اس کی مدافعت کریں گے اور پاکستان کو امریکہ اور مغرب کے قبضے میں نہیں جانے دیں گے۔
  • بلوچستان کے پشتون علاقوں اور خیبر پختون خواہ میں دہشت گردوں سے مقابلے کیلئے، ہمیں کہتے ہیں کہ تم جتھے بنا کر مقابلہ کرو۔ ہم کیوں جتھے بنائیں۔ یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ لڑنے کا کام تمھارا ہے ہمارا نہیں ہے۔ اس پر ہمیں فوجی شہید ہونے کا احسان جتا تے ہیں۔ ہم پر احسان مت جتاؤ ۔ فوج میں شامل ہوکر اور تنخواہ لیکر اگر تم شہید ہوتے ہو تو احسان مت جتاؤ۔ یہ تمھارے فرائض میں شامل ہے اور اسی لئے تم نے فوج میں شمولیت اختیار کی ہے۔

مولانا نے اور بھی کئی معاملات پر خطاب کیا جن میں پنجاب میں “عادی مجرم” کے قانون پر تنقید جس کی منظوری سے عدلیہ کی بجائے انتظامیہ کو سزا دینے کا اختیار مل جائے گا، جنرل عاصم منیر اور صدر زرداری کے تمام عمر، قانون سے بالا کردئیے جانے کے قانون پر تنقید، نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں مدارس کو نشانہ بنانے کے شاکی تھے۔ جبکہ بلوچستان میں ترقی کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ کئے جانے کے شاکی تھے۔ اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے نکاح کی ممانعت بھی انھیں منظور نہیں تھی۔ انکے مطابق اس طرح ہم حلال کے بجائے زنا کے مرتکب ہونے کا ماحول بنائیں گے۔انکے خیال میں بلوچستان، خیبر پختون خواہ اور افغانستان کے معاملات محض طاقت کے ذریعے حل نہیں ہونگے۔ اسکے لئے، ڈائیلاگ، مشاورت اور مفاہمت ہی سے کامیابی ملے گی۔انھیں اس بات کا بھی شکوہ تھا کہ حکومتی ایما پر وہ افغانستان جا کر ، افغان حکمرانوں سے پاکستان حکومت کے نمائندے کے طور پر ملکر مفاہمت کی فزا قائم کرنے میں کامیاب ہوئے، جسے پاکستانی مقتدرہ نے بھی پسند کیا۔ لیکن بدلے میں، یہ ملا کہ ، دھاندلی کرکے ہمیں خیبر پختون خواہ میں الیکشن میں ہرایا گیا۔

مولانا فضل الرحمٰن کے تقریباً نصف گھنٹے کے خطاب کی شکایات اور تنقید کا، کوئی مناسب جواب،  نہ ہونے کی صورت میں، انکے ایک جملے کو، (جو بہرحال ، بقول انکے)، مقتدرہ کی مولانا سے دہشت گردوں کے مقابلے کیلئے ، جتھے بنا کر لڑنے،  کی فرمائش کے پس منظر میں تھا، حکومتی وزراء ، آئی ایس پی آر کے خونخوار انداز میں بات کرنے کے عادی جرنل اور سرکاری مولویوں کے غصے اور للکار کا مولانا پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ کیونکہ ان حملوں کے جواب میں مولانا نے قومی اسمبلی کے فلور اور اپنی جماعت کے وکلاء کے اجتماع سے خطاب میں  مزید جارحانہ رویے سے جواب دیتے ہوئے فرمایا :

میں، قرآن اور دین کا طالبعلم ہوں۔ مجھے دین اسلام میں شہید کے مرتبے کا تم سے زیادہ علم اور میرے دل میں انکی تم سے زیادہ عزت ہے۔ وہ مجھے کیا سکھائیں گے کہ جنھوں نے کارگل میں اپنے شہیدوں کے جسد لینے سے انکار کردیا تھا جسکی وجہ سے کافروں نے اعلان کیا کہ تمھارے شھداء کو ہم نے اسلامی طریقے سے دفن کر دیاہے۔ مجھے وہ سمجھا رہے ہیں، جن لوگوں نے اپنے ایک شہید افسر کے جسد کو بھی ہندوستانی فوج کے مسلسل زور دینے پر وصول کیا ، وگرنہ وہ تو انکاری تھے۔

بظاہر، مولانا کے اپنے موقف پر ڈٹ جانے اور پھر مولانا کی جماعت سے اس اعلان پر، کہ پنڈی کے ایما پر مولانا کے خلاف ، حکومتی پروپیگینڈا اگر بند نہ ہوا، تو ہم جی ایچ کیو کے سامنے دھرنا دیں گے۔ شاید اس اعلان کا اثر ہے، کہ حکومتی حملے میں کمی آئی ہے اور عوام کا دھیان کشمیر کے انتخابات کی جانب کرنے کا عمل جاری ہوچکا ہے۔

اس تمام صورتحال میں مسلم لیگ ن کی سیاسی بصیرت کو اس مشہور جملے سے عیاں کیا جا سکتا ہے کہ:

            “کھایا پیا کچھ نہیں ، حساب؟  گلاس توڑا ۱۲ آنے”

اگر مسلم لیگ اور جناب نواز شریف کی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو انھیں تین ادوار میں بانٹا جاسکتا ہے

پہلا ابتدائی دور ، جو جناب نواز شریف کے سیاست میں وارد ہونے کے بعد سے شروع ہوکر غلام اسحٰق خان اور مقتدرہ کے ذریعے بینظیر کی پہلی حکومت کا خاتمہ کرواکر حکومت میں آنے تک کا ہے۔ یہ دور مسلم لیگ کے فوج کی بی ٹیم ہونے کی روداد سناتا ہے

جناب نواز شریف، عوامی لیڈر تب بنے، جب غلام اسحٰق خان کے ہاتھوں اپنی حکومت ختم ہونے پر مقتدرہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے اور ریڈیو پاکستان پر انکی آواز گونجی کہ “ میں ڈکٹیشن نہیں لونگا” اور اسکے بعد یہ عوامی دور “مجھے کیوں نکالا” اور “ووٹ کو عزت دو” کے بیانئے تک جاری رہا۔ لیکن مسلم لیگ کا تیسرا دور،  عمران خان کی حکومت کے خاتمے، کے بعد، جھرلو الیکشن کے ذریعے اپنی بیٹی اور بھائی کو حکومت میں لانے کے عمل سے، عوام میں کشش کھو چکا ہے۔ 

مسلم لیگ کے سیاسی دماغ عوام کے اس رجحان پر غور کریں کہ وہ عمران خان جسکی حکومت کے آخری دور میں اسکے وزیر داخلہ کے مطابق عمران خان کی مقبولیت نچلی سطح تک پہنچ چکی ہے اور اگر الیکشن ہوئے تو یقینی ہار ہوگی۔ لیکن وہی عمران خان،  مقتدرہ کو چیلینج کرنے کی وجہ سے عوام کی توجہ کا مرکز بن کر اب تک بڑا لیڈر بنا ہوا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ مسلم لیگ مقتدرہ کی بیساکھیوں کے سہارے اپنا وجود کھوتی جارہی ہے ۔ اگر اس کا سیاسی رویہ یہی رہا تو اسکا انجام کراچی کی سیاست پر چھائے رہنے والی ایم کیو ایم جیسا نہ ہوجائے کہ جو سیاسی میدان میں، ہے بھی ، لیکن نہیں ہے۔

وما علینا الی البلاغ 

خالد قاضی

Share This Article
2 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے